اِسلا میات

مسلمانوں کا مذہب ’اسلام ‘

مسلمانوں کا مذہب  ’اسلام ‘

عبدالمعید ازہری
کیا ہم مسلمان ہیں ؟مسلمان کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’مسلمان وہی ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ ہو ‘‘(پڑوسی خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو) ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ’’ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ پیر اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے‘‘۔قرآن کہتا ہے کہ ’’جس نے کسی جان کو بغیر کسی عذر یا سبب کے کسی بھی طرح کا نقصان پہنچایا تو گویا اس نے ساری انسانیت کو تکلیف پہنچائی ‘‘حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ’’جس نے کسی کو جان بوجھ کر کسی سبب کے بغیر قتل کر دیا وہ مذہب اسلام سے نہیں‘‘۔
لفظ ’’مسلمان ‘‘ اپنے آپ میں بڑی وسعت اور معنوت رکھتا ہے۔ اس لفظ کی اصطلاحی اور لغوی توضیح بھی جامع اور معنی خیز ہے۔ لفظ’’ مسلمان ‘‘کا مادہ یعنی روٹ ورڈس’ س،ل ،م ‘ہے ان حروف سے مشتق جملہ الفاظ :اسلام ،مسلم،سلام ،تسلیم۔۔۔وغیر ہ سلامتی کے معنی پر دلالت کرتے ہیں اور ان سب معانی کا تعلق دروس اسلام اور اس کی تعلیمات سے ہے ۔اب جس لفظ کی لفظی حیثیت اتنی با معنی ہو اس کی اصطلاحی کیفیت تویقینا اس سے کہیں آگے اور خوب تر ہوگی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذہب اسلا م کی مکمل تعلیم و تربیت ارشادات و پیغامات امن و سلامتی کی ہیں۔ جس کی ایک دو نہیں ہزاروں مثالیں تاریخ اسلام کے واقعات میں صاف طور پر دکھائی دیتی ہیں۔یوں تو مذہب اسلام نے انسان کو تبلیغ و رسالت کے ذریعہ جہالت و گمرہی و بے راہ روی کی ظلمت و تاریکی سے نکال کرعلم و ہدایت اور صراط مستقیم کی طرف گامزن کیا۔مزید یہ کہ جنگ و جدال جیسے مواقع پر بھی اس بنیادی پیغام امن و سلامتی کو ترک نہیں کیا اور کہا کہ ظلم کا بدلہ ظلم نہیں ،کسی عورت ،بچے ،بزرگ،عالم(کسی بھی مذہب کا ہو) اور عبادت گاہوں (کسی بھی دین کی ہوں)کا بے جا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔مذہب اسلام کی انسانی ہمدردی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و اظہارہی چالیس سال تک انسانی اقدار کی پاس داری اسکی عظمت و حرمت کی عزت اور خدمت خلق کے بعد کیا گیا ۔کیونکہ مذہب ایک مستقل طریق زندگی کا نام ہے اور جو طریقہ معتدل مکمل انسانی ترقی کا ہو اس کا نام مذہب اسلام ہے ۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے ترانے اپنوں کے ساتھ بے گانوں نے گائے ہیں ۔کسی بھی مذہب کا اندازہ اس کے بانی کی ذاتی زندگی اور اس کے بنائے ہوئے نظام یا اس کے ذریعہ نافذ نظام سے لگایا جا سکتاہے ۔یہ وہ مذہب ہے جہاں ایک طرف اس مذہب اسلام کے بانی کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں وہیں دوسری طرف ان کی سچائی اور حق پرستی کا اعتراف بھی کیا گیا۔ مخالف بھی معترف ہو ا کہ ہماری ان سے دشمنی مذہب کی حقانیت کو لیکرنہیں بلکہ مسلسل آباء و اجداد کے دین کی یک بہ یک مخالفت اور انکے نزدیک بظاہر ایک نئی فکر کی آمدسے تھی ۔ایک اور حقیقف مذہب اسلام کے بانی کے تعلق سے سامنے آتی ہے کہ ان کے علم و فضل کا چرچا اور اس علم کی گیرائی و گہرائی کا اعلان و اعتراف غیروں کی زبان سے با رہا ہوتا رہا ہے ۔وہ کہتے تھے کہ یہ کلام ، یہ نظام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔شاعری کی طرح ہے پر دنیا کا کوئی ا نسان اس بات پر قادر نہیں کہ اس طرح کی شاعری کرے۔اس کلام میں سابقہ امتوں کے قصے ہیں مگر انسانی عقل حیران کہ اس طرح کا قصہ نہ کہا گیا نہ سنا گیا ، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس مذہب کے بانی کو اس دنیا کے کسی استاذ نے سکھایا بھی نہیں۔والد یا گھر کے کسی دوسرے فرد کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا ۔پھر اس طرح کا علم کیسے اور کہا ںسے آ گیا؟ما فوق الفطرت واقعات کے اظہار نے لوگوں کو سوچنے پر مجبورکر دیا ۔کچھ تو ہے جو الگ ہے۔ وہ بھی ایسی ذات سے صادر ہو رہے تھے جو دکھنے میں بالکل عام انسان تھے لیکن ان کے اعمال وافعال اختیار و اقتدار کے آگے ساری انسانی عقلیں مات کھا گئیں اور لوگ بے ساختہ پکار اٹھے یہ ہم جیسے ضرور دکھتے ہیں پر ہم ان کے جیسے بالکل نہیں ۔اس بات کا اعتراف کر نے والے کوئی جاہل اور بدو نہیں تھے بلکہ اپنے وقف کے بے مثال عالم اور ادیب تھے۔جن کے علم و ادب کاشہرہ آسمان کی بلندیوں کو مس کر رہا تھا۔ان ساری باتوں سے ایک بات تو بالکل ہی واضح ہو جا تی ہے کہ وہ ہستی کو ئی معمولی نہیں ہو سکتی جس کا اعتراف اپنوں کی محفلوں ہی میں نہیں بلکہ غیروں یہاں تک کہ دشمنوں کی نشستوں میں بھی ہوتاہوا ور انسان کی عقل محض حیرت زدہ ہو کر رہ جائے۔اگر ہم انسانی اخلاقیات کی بات کریں تب بھی ایسی کوئی بھی ذات تاریخ انسانی میں نظر نہیں آتی جس نے چالیس سال کا عرصہ خدمت خلق میں گذار کر اس قوم کی ہدایت و اصلاح کے راستے ہموار کئے ہوں اور اس کے بدلہ میں اپنی ذات نہیں بلکہ انہیں کی اصلاح چاہی ہو۔ اخلاقیات کی بلندی کا واقعہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس قوم کی اصلاح کی خاطر اسی قوم کے ستم سہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اس ذات اقدس پر کئے گئے ظلم و ستم آج تک کسی نے برداشت نہیں کئے ہیں ۔ماہر انسانیا ت و اخلاقیا ت اس تاریخ کو دیکھ کر حیران ہیں جو یہ کہتا ہے ’’میں بھی تم جیسا نظر آتا ہوں ‘‘پھر بھی یہ ماہرین اسے اپنے جیسا ماننے کے لئے تیا ر ہی نہیں ۔ بہر کیف اس انسانیت کے مسیحا کی تاریخ یہیں تمام نہیں ہوئی بلکہ اس نے جب پتھر کھائے تو دعا کی اے مالک ومولیٰ انہیں بخش دے یہ مجھے جانتے نہیں ۔جب اعزاء اقربا و اصحاب کو ستایا گیا تو کہا ابھی ان کو شعور نہیں یہ کیا غضب کر رہے ہیں۔ اے میرے اصحاب ایسا کرو ابھی کچھ دنوںکے لئے ہجرت کر جاؤپھر ان کو شعو رآ جائیگا۔یہ چند ایسے حقائق ہیں جنہیں دیکھ کر انسا نی عقل تماشائی نظر آتی ہے۔لوگوںکی نظر میں اُمّی ہے کسی بھی مخلوق نے اسے پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن علم و ادب کے ایسے جوہر بکھیرے کہ خود علم و ادب رشک کرنے لگا۔دنیا کو بتایا دیکھو میں خدا نہیں ہوں میں بشر تو تمہارے جیسا ہوں لیکن ا س کے اعمال ایسے کہ بشر ماننے کو دل مطمئن نہ ہو ۔بشری تاریخ نے بھی بشریت کا ایسا نمونہ کبھی نہیں دیکھا ۔انسانی اعضا و جوارح بھی دکھنے میں ہم جیسے لیکن انکے کرتب کچھ الگ ہی ہیں ۔بال سر کے ہوں یا داڑھی کے جسم سے الگ ہیں تب بھی اس میں جان معلوم پڑتی ہے، اس میں نمو پایا جاتا ہے۔ہر سال اس میں شاخ نکلتی ہے۔چہرہ ایسا ہے کہ بچپن سے ہی متعارف ۔عام بچوں جیساکچھ بھی نہیں تھا۔اپنوں نے بعد میں غیروں نے پہلے پہچانا اور ان کی حفاظت کے تئیں ان کے چجا کو مشورہ دیا کہ اس بچے کو واپس لے جاؤ اس سے پہلے کہ اسے کوئی نقصان پہونچے ۔زبان میں اتنی تاثیر کہ کبھی کوئی بری بات زبان سے نکالی نہیں۔ جب بھی بولا حق اور سچ بولا۔اسی لئے جو کہا ہو گیا۔گویا پورا وجود خرق عادات کا مجموعہ ہو۔پورے ۶۳ سال میں انسانوں کی شکل میں کو ن سی ذات تھی جو انسانو ں سے جدا تھی۔ ایسا انسا ن تاریخ انسانیت نے پہلے نہیںدیکھا۔تو مذہب اسلام اور بانئی اسلام دونوں کی تاریخ ہر اعتبار سے انسانی اقدار کی پاسداری بلکہ اس کو جلا بخشتی ہوئی نظر آتی ہے،اخلاقیات اور امن و سلامتی کی روایتوں سے تاریخ اسلام اور تاریخ بانیء اسلام بھری پڑی ہے۔جو ہمارے لئے مکمل نمونئہ عمل اور ہمارے اعمال و کردار کی اچھائی اور برائی کا میزان بھی ہے۔ اب ہمیں ہمارے سارے اقوال و اعمال ،افعال و کردار اسی کے آئینہ میں درست کر نا چاہئے۔ذرا ہم اپنے آپ دیکھیں تو صحیح کی مذہب اسلام اور بانیء اسلا م کی کتنی تعلیم پر ہم عمل پیرا ہیں۔ یا ان کی سیر ت کو ہم اپنی زندگی میں کتنا مقام دیتے ہیں۔اسلام کی تبلیغ ترویج ، نشرواشاعت میں یہی عنصربنیادی طور پر کا ر فرما رہا کہ یہ قافلہ جہاں بھی گیا اسلامی اخلاق و کردار کی بلندی سے لوگوں کو متاثر و مرعوب کیا اور لوگ جوق در جوق اسلام کے قائل ہوگئے۔پوری دنیا میںداعیان اسلام کا یہی طریقہ رہا ہے۔ اولیاء صالحین ، بزرگان دین متین کی یہی روش رہی ہے۔ان صوفیوں اور بزرگوں نے اسلام کی ترویج واشاعت کے لئے اپنی زندگی خدمت خلق میں وقف و صرف کر دی۔ان صوفیوں کی ایک خاص بات رہی ہے کہ ان کی محفلوں میں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے ،کسی کو صحیح معنوں میں گنگا جمنی تہذیب دیکھنی ہو ،امن و سلامتی کا درس دیکھنا ہو، پیغام محبت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان بزرگوں کی محفلوں کو دیکھے۔جس میں اپنے بیگانے سبھی جھومتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔یہ اسلام کا ہی خاصہ ہے کہ آج بھی ان صوفیوں کی اسلامی تعلیمات کا اثر نظر آتا ہے۔اسلام نے کبھی بھی کسی بھی حالت میں فساد اور دہشت کی اجازت نہیں دی۔اس کی دلیل اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ اسلام نے ان پر بھی زیادتی کرنے سے منع کیا جو مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔اسلامی جنگ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لوکسی بھی جنگ میں کوئی بے گناہ نہیں مارا گیا ۔کسی عورت ،بزرگ یا بچہ پر وار نہیں کیا گیا۔کوئی عبادت گاہ مسمار نہیں کی گئی۔کسی مذہبی رہنماء کو پریشان نہیں کیا گیا۔ کبھی جنگ میں پہل نہیں کی گئی۔ کسی نہتے پر وار نہیںکیا گیا۔ قیدیوں پر زیادتی نہیں کی گئی۔ زخمیوں کی ایذا رسائی نہیں کی گئی۔یہاں تک کہ دشمن زخمی کی بھی تیمار داری کی گئی اور سب سے اہم بات کہ اسلام میں کوئی بھی جنگ ذات اور نفس یا دولت و اقتدار کیلئے نہیں لڑی گئی۔ وہ بھی عام انسان کو ان کا حق دلانے اورظلم و زیادتی سے ان کو نجات دلانے کیلئے لڑی گئی ۔ایسی ایثار ، ہمدردی ،بھائی چارگی اور انسانی اقدار کی مثال کہیں اور نہیں ۔
اب بڑا سوال ہے کہ جب یہ دین اور اس کی تعلیمات اتنی امن پسند ہیں ، تو یہ آج کے موجودہ حالات اتنے جدا کیوں ہیں ؟
(مضمون نگار مصر کی یونیورسٹی جامعۃ الازہر سے فارغ ہیں)