مضامین

مسلمانوں کی محرومیاں اور راہل گاندھی

مسلمانوں کی محرومیاں اور راہل گاندھی

ڈاکٹر سید ظفر محمود
دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حالیہ سیاسی کارکردگی سے سبق لیتے ہوئے راہل گاندھی نے کسی حد تک اپنا اور کانگریس کا رخ پلٹا ہے۔ اسی دور بینی و قلا بازی کی کڑی کے طور پر 23 دسمبر کو انہوں نے اور ان کے چار مرکزی وزرا نے ملک کے تمام صوبوں سے مدعو کر کے تقریباً تین سو مسلم نمائندوں کی بھی بات سنی اور اس پر اپنا ردعمل دیا اور لگتا ہے کہ قدرے سبق لینے کی طرف مائل ہوئے۔ حالانکہ اس میٹنگ کا اعلان شدہ عنوان تھا لوک سبھا الیکشن 2014 کے لئے کانگریس کے منشور سے متعلق گفت و شنید، لیکن زیادہ تر مقررین نے پارٹی کے اہلکاروں پر یہ واضح کر دیا کہ مسلمان اسے اب وعدوں کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیں گے بلکہ وہ اب اس کے حق میں ووٹ دینے سے پہلے اپنے ہاتھوں میں اپنی پسند کے سرکاری حکم ناموں کی نقلیں چاہتے ہیں۔ مسلمانوں نے کانگریس کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ 2004-2009 کے وقفہ میں حکومت ہند نے سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کا تعین کیا، دونوں کی رپورٹیں مسلمانوں کے حق میں آئیں، حکومت نے دونوں رپورٹوں کو منظور کر لیا،اقلیتی امور کی وزارت قائم ہوئی، قومی اقلیتی وظائف کا اعلان کیا گیا اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے لئے قومی کمیشن کا تعین کیا گیا۔ مسلمان خوش ہو گئے اور انہوں نے کانگریس کو دوبارہ تخت حاکمیت تک پہنچا دیا۔ لیکن 2009 سے اب تک ساڑھے چار برس سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود، علاوہ وقف قانون میں جزوی ترمیم کے ، حکومت نے مسلمانوں کے حق میں ایسا کوئی بھی موثر قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے ان کے دل میں جوش و ولولہ ہو کر وہ کانگریس کو تیسری دفعہ لگاتار جٹائیں۔
اس کے بر خلاف سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی ان بڑی سفارشوں کا حکومت ذکر بھی نہیں کرتی جن کے نفاذ سے مسلمانوں کی بنیادی حق تلفی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور سماج میں ان کو ان کا جائز مقام واپس مل سکتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ مظفر نگر میں کانگریس نے سماج وادی پارٹی کو مسلم کش بے عملی کرنے دی۔ مسلمانوں نے راہل گاندھی کو یاد دلایا کہ مردم شماری کے مطابق 13.4% ووٹ ملت کے ہیں اور اگر اس نے استحکام کے ساتھ کسی پارٹی کا ساتھ دے دیا تو حکمرانی کا دھار یقیناًاس پارٹی کے حق میں مڑ سکتا ہے۔ دوئم بی جے پی کے مقابلہ میں تکوینی اعتبار سے، مسلمان کانگریس کو پسند کرتے ہیں۔ پھر بھی فی الوقت ملت کے پاس کانگریس کو تیسری دفعہ ووٹ دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ساتھ ہی اگلے 70-75 دن اہم ہیں۔ اس دوران کانگریس کی مرکزی وصوبائی حکومتیں مسلمانوں کے برسوں سے رکے ہوئے متعدد کام انجام دے سکتی ہیں جس سے ان کے دل سرشار ہو جائیں۔
جن مدعوں کے فوری حل پر مسلمان کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے ان میں سب سے اہم ہے لوک سبھا و صوبائی اسمبلیوں کے مسلم اثر والے انتخابی حلقوں کو شیڈیو لڈ کاسٹ ریزرویشن کے چنگل سے فوراً آزاد کیا جانا۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں یہ مدعا بہت زور دار طریقہ سے متعد مقامات پر اٹھایا گیا ہے۔ جسٹس سچر کے ذریعہ وزیراعظم کو لکھے گئے پیش لفظ کے پیرا5 و6 میں درج ہے کہ’’ کمیٹی کو امید ہے کہ اس معاملہ پر حکومت فوراً توجہ کرے گی کیونکہ فی الوقت حد بندی کمیشن اس طرح کی کارروائی میں مصروف ہے اور ظاہر ہے کہ اس بات کوئی بھی کارروائی حد بندی کمیشن کی موجودہ معیار میں ہی ہونی ہے۔‘‘ باب2 صفحہ25 پرلکھا ہے:’’ کمیٹی کی توجہ دلائی گئی کہ مسلم ارتکاز والے انتخابی حلقوں کو ریزرو کر دیا گیا ہے اور وہاں سے صرف شڈیولڈکاسٹ کے افراد ہی الیکشن لڑ سکتے ہیں، اس طرح مسلمانوں کو ملک میں سیاسی شمولیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ نمونے کے طور پر کمیٹی نے یو پی، بہار اور مغربی بنگال کے چند انتخابی حلقوں کا تحقیقی جائزہ لیا اور ان الزامات کو صحیح پایا۔ تفصیل کے لئے دیکھیںAppendix 2.1 لہٰذ ا رپورٹ کے آخر میں باب 12 صفحہ241 پر سچر کمیٹی سے لکھا:’’ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ انتخابی حلقوں کے تعلق سے حد بندی اسکیم کے نفاذ میں جو گڑ بڑیاں ہیں( جس کا ذکر باب 2 میں کیا گیا ہے) انہیں دور کیا جائے۔ حد بندی کا ایک معقول طریقہ کار جو ایسے انتخابی حلقوں کو ریزرونہ کرے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں یقیناًپارلیمنٹ و اسمبلیوں میں مسلم اراکین کی تعداد کو فروغ دے گا۔‘‘
مرکز کی یو پی اے حکومت نے پچھلے سات برس میں سچر کمیٹی کی اس مجرب سفارش پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوتے وقت جو حد بندی کمیشن کام کر رہا تھا اس کی معیاد بعد میں ختم ہو گئی اور حکومت نے سچر کمیٹی سفارش کی اندیکھی کر دی۔ اس کے بعد بھی ملک کے مسلمان بار بار حکومت کو اس کی اس مستقل لاپرواہی کی یاد دلاتے رہے لیکن حکومت حرکت میں نہیں آئی۔16 ستمبر 2013 کو ملک کے تقریباً ایک درجن مسلم نمائندوں نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران پھر زور دیا کہ حد بندی کمیشن فوراً بنایا جائے اور اس کو تائید کی جائے کہ جلداز جلد انتخابی حلقوں کی حد بندی سے متعلق مندرجہ بالا گڑ بریوں کو رفع کیا جائے۔ وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب پارلیمنٹ کا الیکشن آنے والا ہے اب کیسے یہ کام ہو سکے گا۔ اس کے ایک ہفتہ بعد ہی وزیراعظم نے مرکزی ملازمین کی تنخواہ میں ساتویں بار اضافہ کے لئے Vll Pay Commission قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ اس سے لگا کہ حکومت کو 31 لاکھ مرکزی ملازمین کی تنخواہ میں ساتویں دفعہ اضافہ زیادہ عزیز ہے بمقابلہ18 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ 63 برس سے چلی آرہی ان کی زبردست بنیادی حق تلفی کے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے 5 دسمبر کو پھر ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ اترا کھنڈ بننے کی وجہ سے یو پی کے انتخابی حلقوں کی حد بندی میں کچھ تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ ان مجوزہ تبدیلیوں میں ایک دفعہ پھر سے مسلمانوں کا سیاسی حق نمائندگی مزید مجروح ہوگا۔ اعتراضات فائل کرنے کی آخری تاریخ 16 دسمبر تھی۔ ملت کی طرف سے زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے شعبہ حد بندی نے وقت سے تحقیق شدہ تحریری اعتراضات داخل کر دئے ہیں۔ا ب 30 دسمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے سنوائی ہوگی۔ غور کریں کہ ملت کو کس قدر غیر ضروری الجھنوں میں ڈال کے رکھا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی کے ساتھ میٹنگ کے دوران جب میں نے ان کے سامنے پورا مدعا رکھا تو انہوں نے وزیرخارجہ سلمان خورشید کو بلاکر پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ مسلمان صاحب کو میں تقریباً دو گھنٹے قبل اسی میٹنگ میں راہل گاندھی کے آنے سے قبل پورا معاملہ سمجھا چکا تھا اور انہوں نے اس سے اپنا اتفاق ظاہر کیا تھا۔ لہٰذا انہوں نے راہل گاندھی کو اس معاملہ کے حق میں رائے دی۔ اس طرح راہل گاندھی نے سلمان خورشید و دیگر وزرا اور کانگریس کے اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس معاملے میں کارروائی شروع کی جائے اور انہوں نے یہ بھی طے کر دیا کہ لوک سبھا الیکشن 2014 کے لئے کانگریس کے منشور میں بھی یہ معاملہ شامل کر لیا جائے۔ اس پورے واقعہ کے دوران مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان بھی وہیں موجود تھے اور انہوں نے سب بات سنی اور دیکھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔