نقطہ نظر

مسلمان کی اصل پہچان

کسی نے کیا ا چھی بات کہی ہے کہ مسلمان کا ایک تولہ عمل اس کے ایک من وعظ سے زیادہ بہتر ہے،یعنی دوسروں پر اثر ڈالنے کے لئے جس قدر عمل اور کرداربہتر ثابت ہوتا ہے رات دن کی وعظ خوانی اتنی ہر گز فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی ہے۔مسلمان نہ جانے کیسے اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ ان کا اصل مشن دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنا جو کہ کسی طور عملی دنیا میں کبھی صحیح ثابت ہوا ہے اور نہ آیندہ ایسی کوئی امید کی جاسکتی ہے۔اسی طرح اذکار وعبادات بھی اس غرض سے ادا نہیں کئے جانے چاہئے کہ ان سے دنیا میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔ نماز ،روزہ اور دوسری عبادات یقینی طور بہترین اعمال ہیں اور اسلام کو ان عبادات سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے ،لیکن یہ اعمال اجتماعی صورت میں ادا کئے جانے کے باوجود ایک مسلمان کا ایمان اور آخرت بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں نہ کہ دوسروں کو اسلام کی طرف لانے کا کوئی مقناطیسی عمل ہیں۔اس کے بجائے دیکھا جائے تو کردار ایک ایسی قوت ہے جو نہ صرف اس کے حامل انسان کو فائدہ پہنچاسکتی ہے بلکہ ارد گرد رہنے والوں کے لئے کشش ثقل کا کام دے سکتی ہے۔
مسلمانوں کے لئے بنیادی ہدایت یہ ہے کہ اپنے آپ کو مومن ظاہر کیا جائے ۔یہ اظہار جہاں عبادات ادا کرنے سے ہوسکتا ہے وہاں اس کے لئے ایک اہم ذریعہ کردار ہے اور کردار میں اخلاق ایک بنیادی جز و کی حیثیت رکھتاہے۔لیکن دیکھاگیاہے کہ سب مسلمان اس کا پاس ولحاظ نہیںکرتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ عبادات کے معاملے میں پیش پیش ہیں ان کے ہاں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ انہیں دوسروں کہ نسبت غصہ زیادہ آتا ہے اور ایسے موقعے پر اخلاق سے زیادہ عاری نظر آتے ہیں۔اس کی شاید یہی وجہ ہے کہ ہم عبادات کو عملی اور عوامی زندگی سے الگ کرکے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کی جانی چاہئے کہ اسلام میں مقصد ومدعا صرف عبادات کی ادائیگی ہوتا تو رہبانیت ہرگز حرام اور ناجائز قرار نہیں دی جاتی ۔اسلام میں رہبانیت کو حرام قرار دئے جانے کا مقصد اتنا ہی نہیں ہے کہ مسلمان کو جمود زدہ ہونے سے بچایا جائے بلکہ اس کے پیچھے یہ مقصد بھی کارفرما ہے کہ اس کو دوسروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور بہتر طریقے سے پیش آنے کا طریقہ بھی سمجھایاجائے۔ہماری عبادات اگر ہمیں اخلاق وکردار کا سبق پڑھانے کی طرف راغب نہیں کرتیں تو سوچ لینا چاہئے کہ ہماری عبادات میں ضرور کچھ نہ کچھ کمی پائی جاتی ہے۔اگر ہماری عوامی زندگی اس بات کی شہادت نہیں دیتی ہے کہ عبادات کے ادا کرنے سے ہمارے اندر ظاہری تبدیلی آئی ہے توپھر ہم ان عبادات کے روح تک ہرگز نہیں پہنچ گئے ہیں۔اس کا اس کے سوا کوئی مطلب ہی نہیں ہے کہ ہم اصل میں دین شناس اور عبادت گذار نہیں ہیں۔بھلے ہی ہم نمازیں ادا کرنے والے اورذکرواذکار کے ہم نوا ہوں،اس کے باوجودہم ان عبادات سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں شمار نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ عبادات کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ ان سے نفس کی پاکیزگی ہوتی ہے ،پھر اوپر جویہ کہاگیا ہے کہ اسلام میں رہبانیت حرام ہے تو اسکے تناظر میں نفس کی پاکیزگی کو دیکھ کر عبادات کا مقصدومنشا پرکھنے کی کوشش کیجئے تو یقینی طور آپ اس نتیجے تک پہنچ جائیں گے کہ تزکیہ نفس کوئی پوشیدہ راز اور کشف وکمال کا کوئی فارمولہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد عملی دنیا میں بہتر اعمال واخلاق کے ساتھ جینا ہے۔ تصوف میں جو یہ کہا گیا ہے کہ بزبان حال وقال آدمی مسلمان ہونا چاہئے تو مجذوب ومفرور اس سے کیا مراد لیں لیکن رسول اللہﷺ اور ان کے اصحاب کی جو سیرت ہم تک پہنچ گئی ہے وہ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ مسلمان کی زندگی اخلاق و اطوار سے مزین ہونی چاہئے۔غور کرکے صحیح تناظر میں دیکھا جائے تو ذکر دائم کی اصل شرح بھی یہی ہے۔
ایک باشعور ،باعقل اور بااختیار مخلوق ہوتے ہوئے اس بات کو ہر گز تسلیم نہیں کیا جاسکاتاہے کہ عبادات کوئی ماورائی عمل ہے جو ایک مسلمان کو دوسروں سے ممتاز بنا سکتی ہیں ۔عملی دنیا میں کوئی بھی ہوش وحواس رکھنے والا آدمی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا کہ عبادات الگ چیز ہیں اور اخلاق واقدار کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسا سوچنے والے کا ایمان ہی مشکوک نہیں ہے بلکہ اس کی عقل ودانش پر بھی شک کیز جاناچاہئے۔یہاں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ جدید دنیا میں ہمارا شدت پسندانہ کردار جتنا تنقید کا نشانہ بنا اس سے زیادہ اور اس سے بہت پہلے ہم اپنے اخلاق کی وجہ سے بہت ہی بدنام رہے ہیں۔ہماری حرکات وسکنات دوسروں کو ہم سے دور اور بدظن کرنے کا ہمیشہ ہی ایک بہت بڑا وجہ رہی ہیں ۔ہمیں ترقی پسند حلقوں میں جو پسماندہ اور گنوار تصور کیا جاتا ہے اس کے لئے ہمارا اخلاق اور آداب سے بے بہرہ ہونا ایک بڑی وجہ رہی ہے۔اپنے نبی ﷺ کے صفت رحمت ،صبر کے مادہ اور درگزر کرنے کی عادت کا جائزہ لیجئے تو یقینی طور آپ اس نتیجے تک پہنچ جائیں گے کہ مسلمان کی اصل پہچان اس کے اخلاق واطوار ہیں بلکہ دوسروں کو سامنے دعوت و تبلیغ کا اصل ذریعہ بھی یہی اوصاف ہیں ۔ان اوصاف سے الگ جو دین ہم پیش کر رہے ہیں وہ صحیح دین نہیں ہے اور اس پر ہماری پکڑ ضرور ہوگی۔