نقطہ نظر

مسلم معاشرے میں بھی بگاڑ کیوں؟

مغرب کے مذہب بیزر معاشروں کے ساتھ ہمیں جو بڑی شکایت ہے وہ یہ ہے کہ یہاں بہت زیادہ اخلاقی بگاڑ پایا جاتا ہے ۔ اپنی کئی خصوصیات کے باوجود یہاں اخلاقی بگاڑ نمایاں ہے ۔ ہمارے علما ہمیں جب اسلام کے فوائد اور بہتر اصولوں سے واقف کراتے ہیں تو اس کے مقابلے میں مغربی معاشرے کے اندر پائی جانے والی خرابیوں کا ذکر ضرور کرتے ہیں ۔ یہاں خاندانی نظام پوری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان بہت ہی کمزور نبدھن پایاجاتا ہے ۔ والدین سب سے زیادہ بے توجہی کا شکار ہیں۔ اسی طرح دور اور نزدیک کے رشتوں میں باہم کوئی رابطہ نہیں رہاہے ۔ یہ اور اسی طرح کی بہت ساری خرابیان ہمارے سامنے لائی جاتی ہیں ۔ یہ ایسی خرابیاں ہیں جو واقعی مذہب بیزار معاشروں کے اندر پائی جاتی ہیں ۔ ان کا سارا مرکز اور محور مال و دولت ہے ۔ ان کے لئے زندگی کا مقصد کمانا اور اپنے لئے آرام و آسائش خریدنا ہے۔ ان کے لئے مذہب کی ان چیزوں کے بارے میں ہدایات کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ انہیں تاریخ کے حوالے سے یہ سبق پڑھایا گیا ہے کہ مذہب نے ہمارے معاشرے کے اندر ایک طویل عرصے تک استحصال کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ تاریخ کے حوالے سے یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ مذہبی اجارہ داروں نے کئی سو سال تک غریب کا خون چوسا اور ترقی کے تمام راستے بند کئے۔ پھر جب مذہب کو ریاست سے الگ کیا گیا تو ترقی کے راستے خود بہ خود کھل گئے اور دنیا بہت آگے نکل گئی۔ہم میں سے بیشتر لوگ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یورپ میں پوپ اور اس کے حواریوں نے کئی سو سال تک یہاں کی دنیا پر ایسی گرفت قائم کی تھی کہ اس کے کھینچے ہوئے دائرے سے باہر نکلنا اور آگے بڑھنا ممکن نہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے مذہب سے بغاوت کی اور اپنے لئے مذہب سے ماورا ایک راستہ اختیار کیا۔ اس کے بعد مذہب کی بنیاد پر قائم معاشی اور معاشرتی اصول سب بے دخل کئے گئے اور ایسا معاشرہ قائم کیا گیا جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مذہب سے غلوخلاصی حاصل کرکے آپ جو معاشرہ تشکیل دیں گے ظاہر سی بات ہے اس کے اندر خاندانی اور رشتے ناطے کے بندھن موجود نہ ہونگے ۔ اس کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس معاشرے کے اندر اخلاقی اور سماجی اصول موجود رہے ۔ یہ ایسے values ہیں جو اس معاشرے کے خد وخال ہیں۔ ان کا جگہ جگہ بول بالا نظر آتا ہے ۔ یہاں اپنے اور غیر کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ رشتے داری تو نہیں ہے لیکن اقربا پروری کی بنیاد پر دوسرے کا حق بھی نہیں مارا جاتا ہے۔ رشوت اور کام چوری کی کوئی عادت یہاں نہیں ہے۔ والدین کے ساتھ خاص محبت و الفت تو نہیں ہے لیکن پوری انسانیت کا درد ہر ایک کے دل میں موجود ہے ۔ اس کے باوجود یہ معاشرے ہماری نظر میں کھوکھلا اوربگاڑ سے بھرا معاشرہ ہے ۔
مغربی معاشرے میں پائے جانے والے نقائص ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہیں۔ ان کو گننا اور گن کر ان کی تشہیر کرنا ہمارے لئے سب سے آسان اور من پسند کام ہے۔ لیکن ساتھ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہمارا مسلم معاشرہ بھی بہت سے بگاڑ اور خرابیوں کا شکار ہے ۔ مغربی معاشرے کے اندر جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی وجوہات سے تو پوری طرح سے باخبر ہیں۔ اس کے بجائے ہمارے مسلم معاشرے میں جو تباہی پائی جاتی ہے اس کے اسباب سے ہم ہر گز واقف نہیں ہیں۔ اپنی خرابیان ہمیں نظر آتی ہیں نہ ان کا گننا ممکن ہے۔ ہمارے مسلم معاشرے کے اندر بھی میاں بیوی ایک دوسرے سے شاکی ہیں۔ والدین اپنی اولاد کی خدمت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہمسایہ اپنے مسلم ہمسایہ کے رویے سے مطمئن نہیں ہے ۔ دوست اپنے دوست سے خود کو محفوظ نہیں سمجھتا ہے ۔ کوئی کسی سے خیر کی امید نہیں رکھتا ہے۔ خود غرضی عروج کو پہنچ گئی ہے ۔ اس کے برعکس مغربی معاشرے میں ایک دوسری کی ہمدردی نظر آتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی معاشرے کے اندر بھی بگاڑ ہے ۔ یہاں بھی بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اپنے اسلام کی تعریفیں اور مسلمانوں کو بہتر امت قرار دینے کے باوجود ہم سب کی خواہش ہے کہ ہمیں یورپ کی زندگی میسر آئے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ جاکر جاب کریں۔ ہم اپنی اولاد کے لئے برطانیہ اور فرانس کے اندر کام تلاش کرتے ہیں۔ ہم جاپان میں ٹھہر کر کچھ کمانا چاہتے ہیں ۔ واقعی ہم مرنا اپنی سرزمین پر پسند کریں گے۔ بیماری میں اپنوں کے گھول میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن زندہ تو یورپ میں رہناچاہتے ہیں۔ وہاں جرائم نہیں ہیں ، سفارشیں نہیں ہیں ، دھوکہ دہی نہیں ہے ، لوٹ کھسوٹ نہیں ہے ، چور بازاری نہیں ہے ، رشوت کا نام ونشان نہیں ہے ، جعلی ادویات فروخت نہیں ہوتی ہیں ، ڈاکٹر جیب کترے نہیں ہیں ، ماسٹر ٹیوشن کے نام پر کاروبار نہیں کرتے ہیں ، لوگ بجلی کی چوری نہیں کرتے ہیں ۔ پینے کے پانی سے گاڑیاں دھوتے نہیں ہیں۔چور دروازوں سے نوکری حاصل نہیں کرتے ہیں۔ ملاوٹ کا وہاں تصور نہیں ہے۔ یہ سب خرابیان مسلمان معاشرے کی پہچان ہے ۔ اس کے باوجود مسلمان معاشرہ مغربی معاشرے سے بہتر ہے ۔ کتنا تضاد ہے ہم میں ؟