مضامین

مشتاق پیر کی سر نو تعیناتی کیلئے وزیراعلیٰ جوابدہ

مشتاق پیر کی سر نو تعیناتی کیلئے وزیراعلیٰ جوابدہ

عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت کو سکینڈلوں کی سرکار قرار دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ داغدار ہونے کے باوجود مشتاق احمد پیر کوبورڈ چیئرمین کی حیثیت سے از سر تعینات کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ جوابدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس حوالے سے سرکار کی پوزیشن بھی واضح کریں کہ سبکدوش ہوئے اعلیٰ افسران کو بار بار کیوں تعینات کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کو موجودہ BOPEEسکینڈل میں برابر کی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ دونوں جماعتیں آپسی مفاہمت کے ساتھ چور دروازے سے تقرریاں عمل میں لاکر مستحق نوجوان امیدواروں کے حق پر شب خون ماراگیا۔ انہوں نے مخلوط سرکار پرنوجوانوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ عمرعبداللہ کے دور میں سب سے زیادہ نوجوان ہی ظلم وزیادتیوں کے شکارہوئے۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ مسابقتی امتحانات سے متعلق خصوصی بورڈ میں منکشف ہوئے اسکینڈل سے سرکار کی نوجوانوں سے متعلق پالیسی کا خلاصہ ہو گیا۔سابق بورڈ چیرمین مشتاق پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا خاص شخص قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی کئی برسوں سے یہ معاملہ برابر اٹھاتی رہی ہے کہ سبکدوش ہوئے افسرا ن کی از سر نوملازمت کا سلسلہ ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد پیر کی از سر نو تقرری کے موقعے پر بھی انہوں نے سوال کھڑا کیا تھا تاہم سرکار نے اس کو جس طرح رد کیا اسے یہ خدشات اب سامنے آرہے ہیں کہ موصوف کو ایک واضح پالیسی کے تحت اس اہم جگہ پر تعینات کیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ 2012کے بعد سابق بورڈ چیرمین کی از سر نو تقرری اور بعد میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تعینات کرنے والے بورڈ نے صلاح کار کی حیثیت سے اس عہدے پر انہیں براجمان کرنا صاف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں ایک منشا کے تحت وہاں پر تعینات کیا گیا تھا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مخاطب ہو کر محبوبہ مفتی نے کہا کہ مشتاق احمد پیر کو از سر تعینات کرنے کے حوالے سے وہ جوابدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس حوالے سے سرکار کی پوزیشن بھی واضح کریں کہ سبکدوش ہوئے اعلیٰ افسران کو بار بار پھر کیوں تعینات کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا انتظامہ میں بہتر اور ذہین افسران کی کمی ہے جو ایسے عہدوں کیلئے اہل نہیں ہیں جبکہ اس کی وجہ سے چھوٹے افسران کی ترقیاں بھی مخدوش ہو کے رہ جاتی ہیں اور انہیں کام کرنے کا بہت کم موقعہ حاصل ہو تاہے۔محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس دعوے کہ ان ہی کی حکومت میں اسکینڈلوں میں ملوث افراد کا حساب لیا جائے گا،پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ صاف جھلک رہا ہے کہ موجود سرکار میں کس قدر خلفشار پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت سکینڈلوں کی سرکار ہے اور وزیراعلیٰ حکومت کرنے کااخلاقی جواز کھوچکے ہیں کیونکہ سکینڈل کے بعد سکینڈل سامنے آرہا ہے اور اس کے باوجود سبکدوش افسران کو دوبارہ نوکریاں دیکر انہیں رقوم اینٹھنے کیلئے استعمال کیاجارہاہے۔ایک سوال کے جواب میں کانگریس کو اس سکینڈل کے لئے برابر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر کو دونوں جماعتیں سپورٹ کررہی تھیں اور دونوں جماعتوں کے وزیر آپسی مفاہمت کے ذریعے جموں اور کشمیر صوبوں میں چور دروازے سے تقرریاں عمل میں لاکر مستحق نوجوانوں کے حق پر شب خون ماررہی ہیں۔الیکشن بائیکاٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کے پاس بندوق نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو دھمکائیں تاہم انہیں خدشہ ہے کہ نیشنل کانفرنس تشدد کے ذریعے بائیکاٹ کو زمینی سطح پر نافذ کرائے گی کیونکہ بائیکاٹ کا فائدہ اسی جماعت کو ملتا ہے۔محبوبہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت کو نوجوانوں کی ازلی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار میں سب سے زیادہ نشانہ نوجوانوں کو ہی بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ2008میں جب عمر عبداللہ بر سر اقتدار آئے تھے تو نوجوان ہونے کے ناطے نوجوانوں کی امیدیں ان سے وابستہ ہوئیں تھیں تاہم 5سال گزرنے کے بعد اب وہ مایوس ہو چکے ہیں کیونکہ اس دوران سماج کے کسی بھی طبقے کے مسائل حل کرنے میں وہ ناکام ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار کی پالیسی میں ہی نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے اور ایک منصوبے اور نظام کے تحت نوجوانوں کو صف ہستی سے ہٹایا جا رہاہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ موجودہ سرکار کی دین یہ ہے کہ ہر ایک وہ معاملہ جو نوجوانوں سے متعلق تھا ،میں نوجوانوں کو پس پشت رکھا گیا اور اسی سلسلے کی کڑی کے تحت کرکٹ اسکینڈل بھی سامنے آیا جس میں بی سی سی آئی کی طرف سے واگزار کئے گئے 60کروڑ روپے کا خرد برد بھی کیا گیا۔نوکریوں کو فروخت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عوض بھی نوجوانوں سے رقومات اینٹھ لئے گئے اور بروکروں و دلالوں کو درمیانہ دار بنایا گیا۔