اداریہ

مشکلات کے شکار لوگ

سماج میں ہر فرد کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ قدرت کی طرف سے تخلیق کردہ ہر شخص اپنے انداز اور مقدور کے حساب سے ایک بہتر سماج وجود میں لانے کیلئے ایک اہم رول ادا کرتاہے ۔ چاہے وہ اقتصادی طور بدحال یا جسمانی طور ناخیز افراد کیوں نہ ہو۔ اپنے ار د گرد نظرڈالنے پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہماری ریاست میں جسمانی اور اقتصادی طور کمزورافراد کی ایک خاصی تعداد ہے۔ ہماری ریاست میں لاکھوںافراد موجود ہیں جو کسی نہ کسی طرح سے یا ناتوانی کی زندگی گذار رہے ہیں یا اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں ۔ جسمانی طور کمزور فراد میں بچوں کی خاصی تعداد بھی شامل ہے ۔ ان میں سے کئی طرح کے جسمانی طور ناخیز افراد دیکھنے کو ملتے ہیں، کئی افراد چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے ہیں اور کئی سنے سنانے کے قابل بھی نہیں ہوتے ہیں ۔ جموں کشمیر کی بات کریں تو یہاں گذشتہ برسوں کے نامساعد حالات اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے جسمانی طور ناخیز افراد میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ کہنے کے لئے تو ہم جسمانی طور کمزور افراد یا اقتصادی طور کمزور لوگوں کے لئے ہمدردی دکھاتے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمدردی خالی زبان سے نکلے الفاظ ہی ہوتے ہیں، حقیقت میں کچھ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جسمانی طور ناخیز افراد کے ساتھ ساتھ ان اقتصادی طور پسماندہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کر کے ان کے مسائل کواُجاگر کیا جائے،تاکہ یہ لوگ بھی سماج میں اچھی طرح زندگی گزر بسر کرنے کے قابل بن سکیں۔ اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ اقتصادی طور کمزور افراد یا جسمانی طور ناخیز افراد ہو انہیں زندگی کے ہر ایک شعبے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چاہئے تعلیم حاصل کرنا ہو ، نوکری حاصل کرنا ہویاپھر سرکار کی طرف سے کسی قسم کی مراعات حاصل کرنا ہو ہر جگہ انہیں مشکلات جھیلنے پڑتے ہیں۔ جسمانی اور اقتصادی طور کمزور لوگوں کی بہبودی کیلئے سماج کے ہر فرد ، ہرسرکاری و غیر سرکاری تنظیم کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنا اپنا بھر پور رول ادا کرنا چاہیے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتصادی طور بدحال اور جسمانی طور ناخیز افراد کو اپنے سمجھ کر ان کے تئیںہمدردی کا اظہار کرنا ہوگا تاکہ یہ لوگ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ سر اونچا کرکے زندگی گذر بسر کرنے کے لائق بن سکیں گے ۔