اداریہ

معاملہ تلخ کلامی کا

رواں ماہ کی18 تاریخ کو بانڈی پورہ میں بورڈ میٹنگ کے دوران نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ممبران کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے پر طعنے اور الزامات کا تبادلہ ہوا، نیشنل کانفرنس کے لیڈر محمد اکبر لون اور پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی نظام الدین بٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔اس تلخ کلامی پر اگلے روز پی ڈی پی کے حامیوں نے پریس کالونی آکر نیشنل کانفرنس کے لیڈر محمد اکبر لون کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، پی ڈی پی کے حامی پریس کالونی میں جمع ہو گئے اور یہاں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر محمد اکبر لون کو وزارتی کونسل سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے جلوس کی صورت میں سول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی، اس پر بطور احتجاج پی ڈی پی کے حمایتوں نے گرفتاری دی۔ احتجاجی مظاہرین نے محمد اکبر لون کے حلقہ انتخاب سونہ واری سے وابستہ پی ڈی پی کارکنان اور حمایتی الزام لگا رہے تھے کہ محمد اکبر لون نے بورڈ میٹنگ کے دوران اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس جارحانہ پن کا مظاہرہ کیا اس سے سونہ واری کے لوگ مایوس ہوئے ہیں اور ان میں ناراضگی کے ساتھ تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ جب محمد اکبر لون نے اس طرح کی زبان درازی کی بلکہ اس سے قبل بھی انہوں نے ایوان اسمبلی کے تقدس کو پامال کیا، بحیثیت سپیکر انہوں نے پی ڈی پی کے سینئر لیڈران کے خلاف غیر اخلاقی زبان کا استعمال کر تے ہوئے گالی گلوچ کی۔
اس کے ردعمل میں اگلے روز حلقہ سونہ واری سے تعلق رکھنے والے باشندوں اور محمد اکبر لون کے حمائتیوں نے محمد اکبر لون کے حق میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ نیشنل کانفرنس کے حمایتی پریس کالونی آکر یہاں احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے۔ ان مظاہرین نے پی ڈی پی کی قیادت کی خوب خبرلی ۔ظاہر ہے نیشنل کانفرنس کے حمایتیوں نے گزشتہ روز کے پی ڈی پی کے احتجاجی مظاہرے کا جواب دیا۔