اداریہ

معاملہ کیمپ کی منتقلی کا

شوپیان میں گذشتہ ماہ سے شہری ہلاکتوں کے پیش نظر وہاں کے عوام نے لگاتار قصبے سمیت دیگر علاقوں میں ہڑتال رکھی۔ عوام کی مانگ ہے کہ حکومت گاگرن میں قائم سی آر پی ایف کیمپ کو منتقل کریں۔ کیمپ کی منتقلی کو لے کر قصبہ شوپیان میں جمعہ کو بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔مقامی انجمنوں کی کارڈی نیشن کمیٹی نے سوموار7اکتوبر کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر 10اکتوبر تک کیمپ نہیں ہٹایا گیا تو گاگرن کے لوگ اسباب خانہ سمیت ہجرت کرکے گول چکر چوک میں دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔شوپیان قصبہ اور اسکے گردونواح میں جمعہ کو دکانیں، کاروباری ادارے، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اور اسکول وغیرہ بند رہے اور گاڑیوں کی آمدورفت بھی مکمل طور معطل رہی۔ہڑتال کی یہ کال گاگرن علاقہ میں قائم فورسز کیمپ کی منتقلی کے مطالبے کو لیکر دی گئی تھی۔ قصبہ کی مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد گول چکر چوک میں جمع ہوئی جس کے بعد جامع مسجد سے بھی نماز ادا کرنے کے بعد لوگ اسی جگہ پر جمع ہوگئے۔اس موقعہ پر اسلام اور آزادی کے حق میں اور’’کیمپ ہٹاؤ، چھاؤنی ہٹاؤ‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جلوس میں حریت کے غلام نبی سمجھی، محمد یوسف فلاحی، فریڈم پارٹی کے محمد عبداللہ طاری کے علاوہ مقامی ٹریڈرس فیڈریشن اور فروٹ گروروس ایسو سی ایشن کے زعماء بھی موجود تھے۔اس موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات کا انکشاف کیا کہ تحریک حریت فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کی ہلاکت کی اپنی سطح پر تحقیقات کررہی ہے جو بقول ان کے ایک بہاری مزدور تھا اور اس کا نام عالم دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ مزدورکے گھر والے اس سلسلے میں وادی آئے ہوئے تھے لیکن پولیس نے انہیں مقبرے پر لے جانے کے بہانے ٹنل کے اْس پار چھوڑ دیا۔ مقررین کاکہنا تھا کہ بہت جلد تحریک حریت اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت اور بہاری مزدور کی شناخت کے ساتھ سامنے آئے گی۔ اس موقعے پر اعلان کیا گیا کہ اگر 10 اکتوبر تک کیمپ نہ ہٹایا گیا تو گاگرن کے مردوزن اور بچے تمام اسباب خانہ سمیت ہجرت کرکے گول چکر ی چوک میں دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔ جلسہ اگرچہ پرامن طور اختتام پذیر ہوا تاہم بعد میں کچھ مشتعل نوجوانوں نے ڈی سی آفس، اسپتال روڑ اور کورٹ روڑ کے نزدیک پولیس اور فورسز پر پتھراؤ کیا اور یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس کے گولے بھی داغے گئے۔
شوپیان کے گاگرن میں دولدوز واقعہ اس وقت پیش آیا جب زوبن مہتا شارلیمار کے باغ میں کنسرٹ کر رہے تھے۔ اس دوران مقامی نوجوانوں گاگرن کیمپ کے نزدیک سے گذر رہے تھے کہ اُنہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے چار افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے ایک بہاری مزدور پایا گیا۔ حکومت نے اگر چہ اس سلسلے میں تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تاہم شوپیان کے لوگ اس بات پر بضد ہے کہ 10 اکتوبر تک ہی گاگرن سے کیمپ منتقل کیا جانا چاہیے۔