خبریں

معاملہ 2010 ایجی ٹیشن رچانے کا

معاملہ 2010 ایجی ٹیشن رچانے کا

ایک سنسنی خیز انکشاف میں سابق فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ نے ملٹری انٹیلی جنس کا خصوصی یونٹ قائم کر کے مخلوط سرکار میں شامل سینئر وزیر غلام حسن میر کو خفیہ فنڈ سے ایک کروڑ19لاکھ روپے فراہم کئے تھے۔ یہ رقم انہوں نے عمر عبداللہ سرکار کا تختہ پلٹنے کیلئے ریاستی وزیر کو دیا تھا۔ ایک پورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے موجودہ فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ کی ترقی رکوانے کیلئے بھی کروڑوں روپے خرچ کروائی ۔کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ کے کہنے پر سال2010میں سرینگر میں 8کروڑ روپے مالیت کے خصوصی آلات نصب کئے گئے جن کو سال2012میں حیرت انگیز طور پر تباہ کردیا گیا۔ اس دوران وی کے سنگھ اور مذکورہ ریاستی وزیرنے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ایک قومی انگریز ی روزنامہ’’انڈین ایکسپریس ‘‘میں جمعہ کے شمارے میں شائع ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیاگیا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر) وی کے سنگھ نے اپنی پوزیشن کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جموں کشمیر کی سرکار کو گرانے کی کوشش کی بلکہ ان کی نگرانی میں سرحد پار تک اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائیاں انجام دی گئیں۔یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب فوج کے موجودہ سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے سابق فوجی سربراہ کے دور میں قائم کئے گئے ملٹری انٹیلی جنس کے علیحدہ اور خفیہ ترین یونٹ ’’ٹیکنکل سروسز ڈویژن‘‘(TSD)کے کام کاج کے بارے میں چھان بین عمل میں لانے کے احکامات صادر کئے۔ گذشتہ برس مارچ کے مہینے میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ مذکورہ یونٹ نے اُس وقت وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام کے فون ٹیپ کئے جب سابق فوجی سربراہ کے بارے میں تاریخ پیدائش کا تنازعہ عروج پر تھا۔اس انکشاف کے بعد فوجی سربراہ نے یونٹ کے بارے میں تحقیقات عمل میں لانے کے لئے ایک خصوصی انکوائری کمیٹی بٹھائی تھی جسے دفاعی اصطلاح میں’’بورڈ آف آفیسرس‘‘ یعنیBOOکے نام سے جانا جاتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹنٹ جنرل ونود بھاٹیا کی سربراہی میں اعلیٰ فوجی افسران نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو پیش کی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل(ر) وی کے سنگھ نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جموں کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے ہی TSDکا قیام عمل میں لایا تھا جس سے سرکار گرانے کی سر توڑ کوششیں کیں جو ناکام ثابت ہوئیں۔ یہ کوشش غالباً ریاستی سرکار کی طرف سے افسپا کی مخالفت کئے جانے کے تناظر میں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی سرکار کو غیرمستحکم بنانے کے لئے سابق فوجی سربراہ نے زراعت کے موجودہ ریاستی وزیر غلام حسن میر کو ایک کروڑ19لاکھ روپے بھی دئے تھے جس کی مذکورہ وزیر نے پر زور الفاظ میں تردید کی ہے۔ میر نے ان الزا ما ت کو بے بنیا د قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ سب جانتے ہیں کہ میں نے نا مسا عد حا لات کے دوران ریاست میں قدرامن بنائے رکھنے کے لئے کا م کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور وہ شا طرانہ کھیلوں اور درپردہ سازشوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ میر نے کہا ہے کہ اس معاملے کے ساتھ ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کے مطابق’’یہ تنازعہ اندرونی دشمنی کا نتیجہ ہے، وزیر کا کہنا ہے ان کے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،یہ ایک سفید جھوٹ ہے‘‘۔ وزیر کہا کہنا ہے کہ ریاست اور حکومت کو مستحکم بنانے کے لئے تن دہی سے کام کیا ہے اور سال2010کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ ریاستی سرکار مستحکم رہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں ان کا نام بلاوجہ گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔خفیہ رپورٹ کے مطابق حقیقت سنگھ نامی شخص کو بھی خفیہ فنڈ میں سے2.38کروڑ روپے فراہم کئے گئے جس نے ’’کشمیر ہیومینٹیرئن سروس آرگنازیشن ‘‘کے نام سے ایک رضاکار تنظیم معرض وجود میں لائی۔اس تنظیم کا’’یس کشمیر‘‘نامی ایک اور تنظیم کے ساتھ تعلق تھا جس نے موجودہ فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے خلاف فرضی انکاؤنٹر سے متعلق پٹیشن دائر کی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ایس ڈی نے جنرل بکرم سنگھ کی فوجی سربراہ کے بطورترقی میں روڑے اٹکانے کی کوشش بھی کی تھی۔بھاٹیا کمیٹی نے ٹی ایس ڈی کی طرف سے جموں کشمیر کی حدود میں عمل میں لائی گئی کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ مذکورہ یونٹ مبینہ طور’’غیر مجازی‘‘ کارروائیاں عمل میں لائیں، یہاں تک کہ اس طرح کی کارروائیاں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی اجازت کے بغیر سرحد پار بھی انجام دی گئی ہونگی۔خصوصی خفیہ یونٹ پر الزام ہے کہ اس کے ہاتھوں فوج کے موجودہ افسران کے خلاف فنڈس کا استعمال کیا اور قریب8کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا۔یہ8کروڑروپے سال2010میں سنگا پور کی ایک کمپنی سے ’’انٹر سیپشن‘‘ آلات خریدنے پر صرف کئے گئے جو سرینگر میں قائم فوج کی15ویں کور کے ہیڈکوارٹر میں نصب کئے گئے اور مارچ2012میں حیرت انگیز طور پر ان آلات کو تباہ کردیا گیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بورڈ آف آفیسرس کی مرتب کردہ رپورٹ کو وزارت دفاع کے پاس کارروائی کیلئے بھیجا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اس سنسنی خیز رپورٹ میں کہی گئی باتوں اور کئے گئے سنسنی خیز انکشافات کا معاملہ وزیر اعظم کے دفتر تک پہنچانے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ بھاٹیہ کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کا وزارت دفاع اور وزیر اعظم دفتر میں اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس میں کئے گئے انکشافات کی روشنی میں آئندہ ایسی سرگرمیوں پر روک لگانے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جاسکیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان تمام معاملات کے بارے میں سابق فوجی سربراہ کے خلاف تحقیقات کرانے کی سفارش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیقات فوج کے کسی اندرونی ادارے کے ہاتھوں نہیں ہونی چاہئے تاکہ کمیٹی کے بارے میں یہ تاثر نہ دیا جائے کہ اس نے سابق فوجی سربراہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی ہے۔ اس ضمن میں کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ چھان بین مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کے ذریعے کرائی جائے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا ششی کانت شرما نے دفاعی سیکریٹری کی حیثیت سے TSDکو فنڈس کی فراہمی یہ کہتے ہوئے روک دی تھی کہ انہیں رقومات صرف کرنے کے بارے میں شفافیت کا فقدان نظر آیا تھا۔بھاٹیا کمیٹی نے ان الزامات کی چھان بین بھی عمل میں لائی ہے کہ سابق فوجی سربراہ جنرل(ر) وی کے سنگھ کے دور میں سینئر فوجی افسران کے خلاف عدالتی کیس دائر کرنے کے لئے ملٹری انٹیلی جنس فنڈس کا ناجائز استعمال کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جنرل بکرم سنگھ کے فوجی سربراہ بننے کے بعد مذکورہ یونٹ کو تحلیل کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی اور اس سے منسلک افسران کو وہاں سے تبدیل کرکے دوسری جگہوں پر تعینات کیا گیا۔یہ یونٹ براہ راست سابق فوجی سربراہ کو رپورٹنگ کرتا تھا اور اس پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے وزارت دفاع سے باہر بھی خصوصی آلات کے ذریعے لوگوں کی گفتگو تک رسائی حاصل کی ہوگی۔بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم آفس اور وزارت دفاع نے اس رپورٹ کا جائزہ لیا ہے اور عنقریب معاملے کی چھان بین کے باضابطہ احکامات جاری ہونگے۔نئی دلی میں مرکزی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اسکی تحقیقات کے احکامات صادر کئے جائیں گے۔اس سلسلے میں میڈیا رپورٹیں شائع ہونے کے بعد مرکزی وزارت دفاع کی طرف سے باضابطہ طور بیان جاری کرتے ہوئے رپورٹ موصول ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
ادھراطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر منیش تیواری نے نئی دلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فوج کی رپورٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے اور قصور وار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سابق یا موجودہ آفیسر کو قصور وار پایا گیا تو حکومت مناسب کارروائی عمل میں لائے گی۔ادھر جنرل(ر) وی کے سنگھ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سیاسی شعبدہ بازی کا نتیجہ ہے۔سابق فوجی سربراہ نے کہا ’’یہ سادہ شعبدہ بازی ہے اور لوگ میرے نریندر مودی کے ساتھ بیٹھنے سے خوش نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کسی نے یونٹ کے بارے میں تحقیقات عمل میں لانے کی سفارش کی ہے تو وہ شخص اپنی ٹوپی کے بل پر بات کررہا ہے کیونکہ یونٹ کی سرگرمیاں خفیہ رکھنا مقصود ہے۔
دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ’’انکشافات نظر انداز نہیں کئے جاسکتے اور یہ معاملہ عدالتی یا سی بی آئی تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے۔ سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی طرف سے خصوصی یونٹ قائم کرنے اور فوج کے خفیہ سروس فنڈ کو 2010میں عمر عبداللہ حکومت کا تختہ پلٹنے کیلئے استعمال کرنے کے انکشاف پروانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطح سی بی آئی یا سپریم کورٹ کے کسی جج کے ذریعہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس صوبائی صدر نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت کو گرانے کیلئے سابق فوجی سربراہ کی کوششوں سے متعلق ہوئے انکشاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا ’’اس معاملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج یا کم از کم سی بی آئی کے ذریعہ اس کی تحقیقات کی جانے چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہمار امطالبہ ہے ریاست یا ریاست سے باہر جو کوئی بھی شخص عمر عبداللہ حکومت کو گرانے کی کوششوں میں ملوث ہے اْن کے نام عوام کے سامنے ظاہر کرنے کے علاوہ اْن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاجموں وکشمیر ریاست کئی بار ایسے لوگوں کی سازشوں کا شکار ہوئی ہے اور اس رپورٹ سے مزید ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو جمہوری ادارو ں کو زک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اس میڈیا رپورٹ نے 2010مژھل فرضی جھڑپ دوبارہ منظر عام پر لایا ہے۔ناصر نے کہا ’’2010میں احتجاج کی صورت میں واقعات کا ایک طویل سلسلہ چلا جس کا ہم نے سڑکوں اور گلی کوچوں میں مظاہرہ بھی دیکھا اور ان واقعات کی جڑ شمالی کشمیر کے مژھل سیکٹر میں رونماہوئی فرضی جھڑپ تھی ‘‘۔انہوں نے کہا ’’یہ احتجاج جنہوں نے شدت اختیار کی تھی،سے ہمارے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ 2010کی پوری ایجی ٹیشن ایک منظم سازش کا حصہ تھی‘‘۔اْدھر آزاد ممبر اسمبلی لنگیٹ اور عوامی اتحاد پارٹی سربراہ انجینئر عبدالرشید نے تازہ انکشافات کو تشویشناک قرار دیا اور اس پورے معاملہ کی سی بی آئی یا جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انجینئر رشید نے کہا کہ چونکہ غلا م حسن میر کا نام رپورٹ میں آیا ہے ،لہٰذا انہیں اخلاقی بنیادوں پر اْس وقت تک مستعفی ہونا چاہئے جب تک تحقیقاتی عمل کے ذریعے انہیں بے قصور ثابت نہیں کیا جاتا۔انجینئر رشید کا کہنا تھا کہ یہ انکشافات اس لحاظ سے کافی تشویشناک ہیں کیونکہ2010میں کشمیر یوں کا خون پانی کی طرح بہایاگیا۔انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کہیں ایک تیر سے دو شکار کرنے کیلئے ایک سازش کے تحت لوگوں کو جان بوجھ کر ماراجارہا تھا تاکہ حکومت گرانے کا راستہ آسان ہوسکے۔