نقطہ نظر

معیشت پر لاک ڈائون کے تبا ہ کن اثرات
بھا رت میں 10ملین لوگ روزگا ر سے محروم ،97فیصد کنبوں کی ما ہا نہ آمد نی میں کمی

تجمل احمد
کورونا وائرس کی عالمی وباء سے جہاں پوری دنیا میں تیس لاکھ سے زیا دہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں وہیں بھا رت میں ہلا کتوں کی تعداد تین لا کھ سے زیا دہ ہو گئی ہے ۔اس دوران اس عالمی وباء نے دنیا بھر میں معیشت کو زبر دست نقصانا ت سے دوچار کر دیا ہے جبکہ کروڑوں کی تعداد میں لو گ اس وائر س کے پھیلائو کے بعد لگنے والے لا ک ڈائون کے نتیجہ میں روزگا ر سے محروم ہو چکے ہیں ۔ورلڈ اکنامک فورم کی جا نب سے چند ہفتے کرائے گئے ایک سر وے میں اس بات کا خلا صہ ہوا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کا جی ڈی پی کورونا کی وباء کے ابتدائی ایام میں ہی صفر سے نیچے چلا گیا تھا جبکہ تجا رت و کا روبا ر میں آئے جمود کے نتیجہ میں دنیا بھر کے ممالک میں کروڑوں افراد کے بے روزگا ر ہو نے کے نتیجہ میں 80فیصد لوگوں کی ما ہا نہ آمدنی تشویشنا ک حد تک گر گئی ہے۔سر وے میں کہا گیا ہے کہ اگر چہ کا رونا وباء نے ترقی یا فتہ ممالک کی معیشت کو بھی کا فی نقصان پہنچایا ہے تاہم اس دوران تر قی پذیر ممالک خاص کر تیسری دنیا کے ملکوں کو زبر دست ما لی مندی کا سامنا کر نا پڑا ہے اور اس وبا ء کے ٹل جا نے کے کئی سال تک بھی ان ممالک میں اس کے اثرات محسوس کئے جا ئیں گے ۔بھا رت کے دیگرحصوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے اندر بھی کو رونا وبا ء کے پیش نظر لگا ئے گئے لا ک ڈائون کی وجہ سے معیشت تبا ہ حال ہے اور یہاں بھی لاکھوں لو گ اپنے روز گا ر سے محروم ہو چکے ہیں ۔بھا رت کے جی ڈی پی پر بھی اس مہلک وبا ء کے تبا ہ کن اثرات مر تب ہو ئے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کو شدید مالی بحران در پیش ہے ۔
جموں و کشمیر کی مختلف تجا رتی انجمنوں کی جانب سے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپو رٹ کے مطابق محض پچھلے ایک ما ہ کے دوران وادی میں معیشت کویومیہ تین ہزار کروڑ روپے کا نقصان جھیلنا پڑا ہے ۔رپو رٹ میں کہا گیا ہے کہ لا ک ڈائون کی وجہ سے سب سے زیا دہ متا ثر ہو نے والا طبقہ محنت کشوں کا ہے کیو نکہ یہ طبقہ سرے سے ہی روزگار سے ہا تھ دھو بیٹھاہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق سرینگر شہر کے اندر ساڑھے چھ ہزار خوانچہ فروش اپنا روز کا کاروبا ر کر نے سے محروم ہو گئے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں اور ان کے اہل و عیال کو فاقہ کشی کا سامنا ہے ۔اس دوران چونکہ کنسٹرکشن کے سیکٹر میں بھی جمود طاری ہے لہٰذاء کنسٹرکشن ورکرس بھی کمر توڑ حد تک متا ثر ہوئے ہیں اور سر کا ر کی جانب سے اگر چہ رجسٹر شدہ کا مگا روں اور کنسٹرکشن ورکرس کو ما ہا نہ ایک ایک ہزار روپے کا وظیفہ دئے جا نے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ان کنسٹرکشن ورکر س نے اس ما ہا نہ وظیفہ کو زخمو ں پر نمک پا شی کے مترادف قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ حکو مت نے ان کے ساتھ ایک مذاق کیا ہے کیو نکہ ایک ہزار روپے میں ایک فرد ِواحد بھی اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا ۔
CMIEیعنی سینٹر فار ما نیٹرنگ انڈین اکنامی کی جانب سے حال میں جا ری کی گئی ایک رپو رٹ میں اس با ت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے نتیجہ میں بھا رت کے اندر ایک کروڑ لو گ اپنے روز گا ر سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران بھا رت کے اندر ستانوے(97) فیصد کنبے ایسے ہیں جن کی آمد نی میں تشویشناک کمی واقع ہو ئی ہے ۔سی ایم آئی ای کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مہیش ویا س نے ایک انٹرویو کے دوران اس رپو رٹ پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ بڑ ی تعداد میں لو گوں کے بے روز گار ہو نے اور ستا نوے فیصد گھرانوں کی ما ہا نہ آمدنی میں کمی آنے کے نتیجہ میں طرح طرح کے سماجی مسائل کے جنم لینے کا خطرہ ہے اور اس سے جہاں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو گا وہیں سماج کی نفسیات پر بھی کا فی زیادہ مضر اثرات مر تب ہونے کا خد شہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی ایم آئی ای نے اپریل 2021ء میں ملک بھر میں ایک لاکھ 75ہزار کنبوں کا سروے کیا جس دوران پچھلے ایک سال میں آمدنی میں گراوٹ کا تشویشناک پہلو ابھر کر سامنے آیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سروے کے دوران محض تین فیصد لوگوں نے کہا کہ ان کی آمد نی اس دوران بڑھ گئی۔ویاس کا کہنا تھا کہ سروے کے دوران55فیصد لو گ ایسے تھے جنہو ں نے کہا کہ ان کی ما ہا نہ آمدنی میں پچاس فیصد سے زیا دہ کمی واقع ہو ئی جبکہ 42فیصد لو گ ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کی ما ہا نہ آمد نی میں پچاس فیصد سے کم کمی واقع ہو ئی ہے اور اس طرح سے کل ملا کر 97فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہیں ماہانہ آمدنی میں گراوٹ کا سامنا رہا ہے ۔سرکا ری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں مہیش ویا س نے کہا کہ اپریل کے آخر میں بھا رت کے اندر بے روزگا ری کی شرح آٹھ فیصد تھی جبکہ مئی کے آخر تک اس کے 12فیصد ہو جا نے کا خد شہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ بھا رت میں اس دوران قریب دس ملین یا ایک کروڑ لوگ بے روز گا ر ہو چکے ہیں ۔انہو ں نے اگر چہ اس با ت کی امید جتا ئی کہ لا ک ڈائون میں نر می کے بعد اس صورتحال میں بہتری آئے گی تاہم ان کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ معیشت کو مکمل طور سدھر نے اور بے روز گا ری کے مسئلہ کے حل ہو نے میں کا فی وقت در کا ر ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ کو رونا وائرس کی دوسری لہر کے نتیجہ میں جو لو گ روز گا ر سے محروم ہو ئے ہیں انہیں روزگار حاصل کر نے میں زبر دست دقتیں پیش آرہی ہیں اور جب تک صورتحال مکمل طور پر نا رمل نہیں ہو تی تب تک ان لوگوں کو روزگا ر ملنا کا فی مشکل ہو گا ۔
اس دوران اگر جموں وکشمیر کی بات کی جائے تو یہاں پر بھی ہزاروں کی تعداد میں لو گ روز گا ر سے محروم ہو چکے ہیں۔کشمیر اکنا مک الائنس نے حال ہی میں حکو مت سے مطالبہ کیا تھا کہ تجا رتی اور صنعتی سیکٹر کو سہا را دینے کی غرض سے ایک ما لی پیکیج کا اعلا ن کیا جا نا چاہئے تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ حکو مت سے یہ نہیں چاہتے کہ حکو مت انہیں قرضے عطا کرے۔الائنس کا کہنا تھا کہ حکو مت کی جانب سے قرضوں کی فراہمی سے تجا رت پیشہ افراد مزید قرضوں کے بو جھ تلے دب جا تے ہیں اور پھر جب مختلف قسم کی صورتحال کے نتیجہ میں اقتصادی سر گر میاں کبھی ٹھپ ہو جا تی ہیں تو انہیں قرضے اتارنے اور سود اداکر نے کی فکر دامن گیر ہو جا تی ہے اور اکثر اوقات ہو تا کچھ یو ں ہے کہ بینکوں سے قر ضہ لینے والے تا جر اور صنعتکا ر قرضے اتارنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں اور اس کے لئے اپنی دکا نیں اور کا رخانے تک بیچ دیتے ہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تین سال سے جموں و کشمیر میں بالعموم اور وادی میں با لخصوص اقتصادی سرگرمیاں لگا تارٹھپ ہیں اور کو رونا وائرس کی عالمی وبا ء کے نتیجہ میں حکو مت کی جا نب سے لا ک ڈائون نا فذ کئے جا نے کی وجہ سے لو گ اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جس کے نتیجہ میں معیشت منفی سمت میں جا ری ہے اور اکیلا وادی کے اندر ہزاروں لو گ روز گا ر اور روزی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں ۔