بلاگ

مغربی بنگال ،آسام ،تامل نا ڈو اور کیرلاکے اسمبلی انتخابات
کیا بھارت کی سیاسی ہوا بدل رہی ہے ؟

اظفرندیم
مغربی بنگال،آسام ،تا مل ناڈو اور کیرلا کے اسمبلی انتخابات کے نتا ئج ابھی چند روز پہلے ہی ظاہر ہو ئے جن میں بھا رتیہ جنتاپا رٹی کے لئے کوئی خوشی یا جشن کی با ت نہیں تھی کیو نکہ سوائے آسام کے با قی سبھی ریا ستوں میں پا رٹی نے کوئی خاص کا رکر دگی نہیں دکھا ئی اور توا قعات کے عین بر عکس مغربی بنگا ل اور کیر لا میں لوگوں نے بھارتیہ جنتا پا رٹی کو سر ے ہی مسترد کر دیا۔اگر چہ بھا رتیہ جنتا پا رٹی نے مغربی بنگا ل اور کیر لا میں انتہا ئی پرُ جو ش انداز میں انتخابی مہم چلائی تھی اور پا رٹی کے کم و بیش سبھی مرکزی لیڈران جن میں وزیر اعظم نر یند ر مودی،وزیر داخلہ امیت شاہ ، وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ اور کئی دیگر کا بینہ وزرا ء اور مر کزی لیڈران شامل تھے نے انتخابی مہم میں حصہ لے کر مغربی بنگال میں ترنمول کا نگریس کی سر براہ ممتا بینر جی کو پچھاڑنے کا بھیڑااُٹھا یا تھا اور اسی طرح سے کیرل میں بھی ڈی ایم کے کو ہرانے کے حوالے سے پا رٹی لیڈر شپ کی جانب سے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تھے ۔مغربی بنگا ل میں ایک چنا ئو ریلی سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ’’دو مئی دیدی گئی‘‘ کا نعرہ بلند کرکے انتخابی اکھاڑے میں مزید اضطرابی اور اضطراری کیفیت پیدا کر نے کی کو شش کی تھی مگر دو مئی کے نتا ئج پا رٹی کے لئے انتہا ئی پریشان کن اور باعث ِ خفت ثابت ہو ئے ۔
2019 ء کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ملک میں سیکولرازم کے مستقبل کو لیکر خدشات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ ہندو راشٹر کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں بتدریج ختم ہوتی جا رہی تھیں۔کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کیا گیا، بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی راہ ہموار کی گئی۔ اقلیتوں کو اعتماد میں لئے بغیر انکے عائلی قانون میں دخل اندازی کرتے ہوئے تین طلاق کے متعلق قانون سازی کی گئی۔ اور سب سے بڑھ کر اقلیتوں کے لئے اندیشوں کا سبب این آر سی قانون بھی پاس کیا گیا۔ یہ قانون حکومت کی اکثریت نوازی کی مثال بن کر سامنے آیا۔اس طرح بی جے پی اپنے ایجنڈے کے نفاظ کو لیکر سنجید گی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے گذشتہ دنوں کچھ ریاستوں میں انتخابات میں شکست کے باوجود ممبران کی خرید و فروخت کے ذریعہ حکومت بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اکثر سیکولرازم کی دعوے دار پارٹیاں فرقہ پرستوں سے سمجھوتہ کرتی رہی ہیں یا انکے ممبران الیکشن جیتنے کے بعد کسی عہدے یا رقم کے عوض فرقہ پرستوں کی جھولی میں گرتے رہے ہیں۔

مغربی بنگال،آسام، کیرالہ،تمل ناڈو اور پانڈیچیری کے حالیہ انتخابات ہندوستان میں سیکولرازم کے مستقبل کو لیکر کافی اہم رہے ہیں۔ لیکن ان ریاستوں میں مغربی بنگال کے الیکشن نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ ایک تو اس صوبے کے الیکشن کو آٹھ مرحلوں میں کرائے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ جسکو ایک متنازعہ فیصلہ سمجھا گیا اور الیکشن کمیشن کی جانب داری پر سوال اٹھائے گئے۔ دوسرے اس ریاست میں بی جے پی نے الیکشن اس طرح لڑا جیسے یہ پارٹی کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہو۔ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جوکہ سادگی کی مثال ہیں اور بنگالیوں کے دل میں جن کے لئے بہت احترام ہے عوام میں انکا لقب دیدی ہے ۔ ان کے خلاف بی جے پی کی پوری فوج مع اپنے سپہ سالار وزیراعظم نریندر مودی کے اتر پڑی۔ وزیر اعظم نریدر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ نے بہت سی ریلیاں کیں۔ پورے ملک میں پھیلتی جا رہی کرونا کی وبا کے باوجود ریلیاں جاری رہیں۔ ہزاروں لاکھوں کی بھیڑ بھی اکٹھا ہوتی رہی۔ بنا ماسک کے بنا سوشل ڈسٹنسنگ کے۔ بہت سے دیگر مرکزی وزراء، کے علاوہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی بھی بنگال کے الیکشن میں وارد ہوئے، انہوں نے درگا پوجا اور جے شری رام کا مدعا اٹھایا اور بنگال کو اتر پردیش جیسا بنا دینے کا وعدہ کیا۔ اب بھلا پڑھے لکھے بنگالیوں سے اتر پردیش کے حالات کہاں پوشیدہ تھے سو انہوں نے یوگی جی کی بات پر یقین کرتے ہوئے اپنے حال پر اکتفاء کیا۔ پارٹی صدر جے پی نڈا جی بھی پوری محنت سے الیکشن مہم میں لگے رہے۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان نے بھی بنگال جا کر ’ دو مئی دیدی گئی ‘ کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے سی اے اے اور این آر سی کے نفاظ کا وعدہ دہراتے ہوئے ودیشیوں کو باہر نکانے کا یقین دلایا، وزیراعظم حالانکہ آج کل گرو دیو رویندر ناتھ ٹیگور کی وضع میں نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی بنگالیوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہے۔اور جیسا کہ الیکشن کے نتائج سے ظاہر ہے، ممتا بنرجی کو لے کر ان کا تخاتب ’ دیدی او دیدی‘ لوگوں کو توہیں آمیز لگا۔ دوسرے صوبوں کے نتائج بھی بی جے پی کے لئے زیادہ حوصلہ افزا نہیں کہے جا سکتے۔ صرف آسام اور چھوٹی سی ریاست پانڈے چیری میں ہی کامیابی حاصل کر سکی ہے۔ کیرل میں بائیں بازو کی حکومت برقرار رہے گی۔ جب کہ بی جے پی کیرل میں اس بار ایک بھی سیٹ پر کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ تامل نادو میں بھی جہاں کہ اس بار الیکشن دو بڑے لیڈروں جے للتا اور کروناندھی کی غیر موجودگی میں ہوا ۔بی جے پی مخالف ڈی ایم کے الائینس کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ان نتائج کے لئے کچھ دوسرے عوامل جیسے کی کسان تحریک کو لیکر مرکزی حکومت کی بے حسی اور کرونا وباپرحکومت کی تساہلی کیوجہ سے بگڑتے حالات کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس طرح اگر سیکولرازم کے مستقبل کے تناظر میں حالیہ صوبائی انتخابات کے نتائج خاص کر بنگال کے نتیجے پر پر غور کیا جائے تو ایک بار واضح ہے کہ بنگال میں پوری کوششوں کے باوجود بی جے پی عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے میں ناکام رہی، کئی ایسی سیٹوں پر جہاں 90 فی صدی سے زیادہ اکثریتی طبقہ کا ووٹ ہے بی جے پے کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس طرح مغربی بنگال کے نتائج نے ملک میں دم توڑتے ہوئے سیکو لرازم کے لئے آکسیجن کا کام کیا ہے۔ اگر بنگال کی طرز پر ملک کے دوسرے حصوں میں بھی لوگ فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے کارکردگی کو مقدم سمجھیں تو ملک میں سیکولرازم کا مستقبل امید افزا ہو سکتا ہے۔