سرورق مضمون

مفتی جانشین بنانے کیلئے بے قرار/ محبوبہ کے سر پر سجے گا کانٹوں کا تاج/ مظفر بیگ تھرڈفرنٹ بنانے کیلئے کوشاں

مفتی جانشین بنانے کیلئے بے قرار/ محبوبہ کے سر پر سجے گا کانٹوں کا تاج/ مظفر بیگ تھرڈفرنٹ بنانے کیلئے کوشاں

ڈیسک رپورٹ
وزیراعلیٰ مفتی سعید نے اس وقت ایک نیا دائو کھیلا جب انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی بیٹی محبوبہ مفتی میں ر یاست کی قیادت کرنے کی پوری پوری صلاحیت موجود ہے ۔ان کے اس بیان سے سیاسی پنڈتوں نے یہ مطلب نکالا کہ مفتی کے بعد ان کی جانشین محبوبہ ہونگی اور وہ ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنائی جائیں گی۔ مفتی کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں گشت کرنے کے بعد سامنے آیا کہ محبوبہ مفتی کو ریاست کا نیا وزیراعلیٰ بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ان حلقوں نے پیشن گوئی کی ہے کہ 27 نومبر کو محبوبہ مفتی نئے وزیراعلیٰ کے طور حلف لیں گی۔ تاریخ مقرر کرنا اگرچہ مبالغہ آرائی قراردی جارہی ہے تاہم یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ مفتی سعید سیاست میں اپنا جانشین بنانے کے لئے بے قرار ہیں۔ ریاستی سیاست میں اس وقت مفتی سعید سب سے سینئر لیڈر ہیں جنہوں نے ریاست اور مرکز میں کئی اہم وزارتوں کو سنبھالا ہے۔ آپ نے پہلے کانگریس اور پھر جنتا دل کے دور میں اہم وزیر کے طور کام کیا۔ آپ پہلے مسلمان ہیں جنہیں ہندوستان کا وزیرداخلہ بنایا گیا۔ اس کے بعد مفتی نے مرکز کو چھوڑ کر ریاست میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے پی ڈی پی کی تشکیل کی جو کچھ ہی سالوں میں ریاست کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت بن گئی۔ اس پارٹی نے این سی کے علاوہ کانگریس کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح مفتی صاحب دو بار ریاست کے وزیراعلیٰ بن گئے ۔ اب کہا جارہا ہے کہ ان کی صحت اب ان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے ۔ اس لئے آپ اپنا جانشین بنانے کے لئے بے قرار ہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ محبوبہ مفتی کو ان کی جگہ ریاستی وزیراعلیٰ بنایا جائے ،اس کے لئے آپ تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں اور محبوبہ کے وزیراعلیٰ بننے کے لئے راہ ہموار کررہے ہیں ۔
محبوبہ کے اس طرح سے وزیراعلیٰ بنانے کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نہیں چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن تک انتظار کرکے محبوبہ کو وزیراعلیٰ امیدواربناکر پیش کریں۔ اس وقت دکھائی دیتا ہے کہ مفتی اور ان کی بیٹی کے لئے الیکشن جیتنا ممکن نہ ہوگا۔ جب پارٹی الیکشن نہیں جیتے گی تو محبوبہ وزیراعلیٰ کیسے بنے گی۔ اس ارمان کو پورا کرنے کے لئے مفتی اپنی بیٹی کوجلد از جلد وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب کسی بیماری کا شکار ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ کام کرنے سے منع کیا ہے ۔ خود کو آرام دینے کے لئے وہ اپنی بیٹی کو وزیراعلیٰ بناناچاہتے ہیں۔ بیماری کی اس خبر کو بہت سے لوگ ایک افواہ قراردیتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں۔ البتہ کچھ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی میں اس بات پر سب بڑے لیڈر ناراض ہیں کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنائی گئی اور بعد میں مرکزی بی جے پی نے پی ڈی پی کی کوئی مدد نہ کی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب بڑے لیڈر پی ڈی پی سے نکل کر اپنی الگ جماعت بنانا چاہتے ہیں۔ ان لیڈروں میں مبینہ طور پارٹی کے دونوں پارلیمنٹ ممبران مظفر بیگ اور طارق حمید قرہ شامل بتائے جاتے ہیں۔اپنی نئی پارٹی بنانے کے بعد مظفر بیگ دوسرے اپوزیشن لیڈروں سے مل کر تھرڈ فرنٹ بنانے کی کوشش کریں گے ۔ اگر چہ اس بارے میں مزید تفصیل تاحال سامنے نہ آئی لیکن کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بات آگے بڑھ رہی تھی کہ درمیان میں محبوبہ مفتی کا وزیراعلیٰ بنانے کا شوشہ چھوڑا گیا جس وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی ۔ یہ لوگ انتظار کررہے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ باقی کھیل کا حصہ جلد ہی سامنے آئے گا ۔