خبریں

مفتی سعید کی جانب سے40 سیٹوں کا مطالبہ ایک بے ربط پینترا/عمر عبداللہ

مفتی سعید کی جانب سے40 سیٹوں کا مطالبہ ایک بے ربط پینترا/عمر عبداللہ
پٹن( بارہمولہ)/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ ریاست میں امن و امان بنائے رکھنے میں اگر مجھے اپنا تعاون جاری رکھیں گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ریاست کی خوشحالی و عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بناؤں گا۔وزیر اعلیٰ نے اس موقعہ پر ریاست کے سبھی خطے و علاقوں کے لوگوں کی متوازن ترقی و خوشحالی کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقی وخوشحالی اور امن و امان بنائے رکھنے کے لئے لوگو ں کا تعاون بہت ضروری ہے ۔انہوں نے ریاست میں حکومت کی جانب سے امن و امان بنائے رکھنے اور تخریب کار عناصر کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کی جاری کوششوں کو تقویت بخشنے کے لئے جموں و کشمیر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے کہا کہ وہ امن دشمن عناصر سے ہوشیار رہیں اور ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ کو ہر قیمت پر بنائے رکھیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں آپ کوووٹ دینے کے لئے نہیں کہتاہوں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ امن و امان بنائے رکھنے میں اپنا تعاون دیں کیونکہ ترقی ، روزگار اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے امن کا ہونا بہت ضروری ہے‘‘۔آج ضلع بارہمولہ کے علاقہ پٹن گنڈ خواجہ قاسم میں ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ سیاست داں جنہوں نے کالے چشمے پہن رکھے ہیں وہ موجود ہ حکومت کی جانب سے ریاست میں امن و امان قائم کرنے اور تعمیر و ترقی کے محاذو ں پر ایک نیا انقلاب لانے کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکا ر ہو چکے ہیں اور وہ موجود ہ مخلوط حکومت کی تاریخ ساز کامیوں کی وجہ سے خوش نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے دورِ اقتدار میں ناکام رہے ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے پی ڈی پی لیڈر شپ کا حوالہ دیا۔مفتی محمد سعید کا نام لئے بغیر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک سیاسی لیڈر جو کہ ملک کا ہوم منسٹر اور جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ بھی رہ چکا ہے اب وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اسمبلی کی چالیس سیٹوں کی مانگ کر رہا ہے اور جب وہ اقتدار میں تھے تب وہ یہ بات بھول چکے تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سیاسی لیڈر (مفتی محمد سعید) ’’ کی ایک اور پینترا بازی اور ساز باز ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ جب وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے ہوم منسٹر تھے انہوں نے کبھی بھی اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ (پی ڈی پی ) قیادت صرف او ر صرف اقتدار کی بھوکی ہے اسے اگر 80 سیٹیں بھی ملے گی تو وہ کچھ بھی نہیں کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے پی ڈی پی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے ریاست میں افسپا لاگو کرایا جب کہ وہ (عمر عبداللہ )افسپا کو ہر سطح پر ہٹانے کے لئے زوردار کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے پی ڈی پی قیادت سے کہا کہ جب وہ اقتدار میں تھی تو اس نے اس وقت کشمیر مسئلے سے متعلق بات کیوں نہیں کی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ صرف 28 ایم ایل اے ہونے پر ہی نیشنل کانفرنس نے اپنی کولیشن پارٹنر انڈین نیشنل کانگریس کی مدد سے جموں و کشمیر کے اُن نوجوانوں جنہوں نے بندو ق نہیں اٹھائی تھی اور پُرامن زندگی گذارنے کے متمنی تھے، کی سرحد کے اُس پا ر کی جانب سے ریاست میں واپسی کے لئے تاریخی باز آبادکاری پالیسی کو عمل جامع پہنایا۔عمر عبداللہ نے حالیہ گول ، بڈگام اور کشتواڑ کے واقعات کا حوالہ دیا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر سے ہوشیار رہیں جو کشمیراور جموں ، ہندو اور مسلمانوں اور شعیہ اور سنیوں میں تفرقہ ڈالنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جونہی انتخابات نزدیک آتے ہیں تو یہ عناصر سرگرم عمل ہوجاتے ہیں اور سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان اپنے ووٹ بینک کی سیاست کے لئے تفرقہ ڈالنے کی مذموم کوششیں کر تے ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایسے عناصر سے ہوشیا رہنے کو کہا۔عمر عبداللہ نے عوام کو بااختیار بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے متعدد اقدامات کا حوالہ دیا اس سلسلے میں انہوں نے پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ 69اہم خدمات اس ایکٹ کے لائی گئی ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کو ایک مقررہ وقت کے اندر خدمات کی دسیتابی کو یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے عوام کو اس ایکٹ سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی۔ اس عوامی اجتماع سے اعلیٰ تعلیم کے وزیر مسٹر محمد اکبر لون ، قانون سازیہ رکن و صوبائی صدر نیشنل کانفرنس ناصر اسلم وانی ،قانون سازیہ رکن جاوید احمد ڈار اور مقامی رہنما محمد ابراہیم لون نے خطاب کیا۔گنڈ خواجہ قاسم پہنچنے پر وزیراعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ان کے حق میں لک شگاف نعرے بلند کئے گئے ۔گرمجوشی سے استقبال کرنے کے لئے وزیر ا علیٰ نے علاقہ کے لوگوں کا شکر یہ ادا کیا۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے 2.18کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے 1×24 میٹر سپین ، 5.5میٹر چوڑے پل بشمول 0.75میٹر فٹ پاتھ کا گنڈ خواجہ قاسم میں افتتاح کیا جسے ای آر اے نے اے ڈی بی کی مالی امداد سے تعمیر کیا ہے جوکہ سرینگر اور بارہمولہ اور نارہ بل ۔ٹنگمرگ ۔گلمرگ براستہ خواجہ گنڈ قاسم کے درمیان ایک بہترین رابطہ بن گیا ہے ۔اس پل سے علاقہ کے زائد از 30,000لوگوں کو فائدہ ہوگا۔اس پل کی تعمیر سے بالواسط 8,000کام دن اور بلا واسطہ 5,500 کام دن دستیاب ہوئے۔وزیر اعلیٰ نے گنڈ خواجہ قاسم واٹر سپلائی سکیم کا سنگ بنیاد رکھا جس سے گنڈ خواجہ قاسم ، حبک ٹنگو ، کنتھر باغ اور امر گڑھ ۔شالی بُن میں پینے کے پانی کی سہولیات میں بہتری آئے گی۔اس سکیم سے 4گاؤں کی قریباً 5000 آبادی کو روزانہ فی شخص 55لیٹر دستیاب ہوگا۔