مضامین

مفتی فیض الوحید

مفتی فیض الوحیدجموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم، فقیہ اور مفسر قرآن تھے۔ انہوں نے قرآن کا گوجری زبان میں سب سے اولین ترجمہ لکھا ہے۔ وہ یکم جون۲۰۲۱ کو اس دار فانی سے رحلت کر گئے۔
مفتی فیض الوحید ولد مولوی غلام حسن1964ء میں تحصیل تھنہ منڈی ضلع راجوری کے ایک گائوں دوداسن بالا میں تولد ہوئے۔ والد پیدائش کے صرف سترہ دن بعد انتقال فرما گئے۔ مقامی ہائی اسکول میں علوم مروجہ کی تعلیم حاصل کی۔1977ء آپ نے تھنہ منڈی میں موجود مدرسہ کاشف العلوم میں شعبہ فارسی میں داخلہ لیا۔ آٹھ ماہ بعد مدرسہ بند ہو گیا تو آپ نے قریب کے ایک گائوں رھتہال میں امام جامع مسجد حافظ محمد صابر کے پاس ایک پارہ قرآن حفظ کیا۔1978ء میں آپ نے یو پی کا رخ کیا، وہاں ضلع مظفر نگر کے قصبہ جالنٹھ کے مدرسہ تعلیم القرآن میں داخلہ لیا۔1982ء تک آپ نے حفظ و قرأت سے فراغت کی۔1983ء میں آپ ڈھائی ماہ تک حضرت مولانا حامد میاں خلیفہ حضرت تھانوی ؒ کے پاس رہے جہاں آپ نے کچھ پاروں کا دورہ کیا۔1984ء میں آپ نے ضلع غازی آباد کے قصبہ ماپوڑ کے مدرسہ خادم الاسلام میں عالمیت کے شعبہ میں داخلہ لیا۔ درس نظامی کے آٹھ سالہ کورس میں سے دوسال کی تکمیل کی۔1985-86ء میں دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا مگر ایک سال چھوڑ کر چوتھے سال میں یعنی تیسرے سال کا مطالعہ کر کے امتھان دیا اور الحمد اللہ چوتھے میں داخلہ ہو گیا۔1990-91ء میں دارالعلوم دیو بند سے فضیلت کی اور بیانوے فیصد نمبرات حاصل ہوئے۔ دوسرے سال افتاء میں داخلہ لیا اور 1992ء افتاء کی تکمیل ہوئی۔ اس کے ساتھ جامع اُردو علی گڈھ اور کچھ دوسرے پرائیویٹ اداروں میں چند امتحانات پاس کئے جن کے اسناد پر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے M, thکا پہلے سال کا امتحان پاس کیا۔ جس میں 75فیصدی نمبرات آئے۔ لیکن کچھ مجبوریوں کی بنا پر آپ فائنل کا امتحان نہ دے سکے۔ آپ نے جامعہ علی گڈھ ہی کی اسناد پر آگرہ یونیورسٹی سے اُردو میں ایم اے کیا اور اچھے نمبرات لائے۔1992ء کے آخر میں آپ جموں وارد ہوئے اور یہاں جھلکا محلہ جموں کے مدرسہ اشرف العلوم میں شعبہ عالمیت میں تدریسی خدمات پر مامور ہوئے اور آپ کا ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا۔ دو سال تک مدرسہ اشرف العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران یہاں کے صدر مدرس حضرت قاری جمال الدین و حافظ نذیر احمد کے ہمراہ ایک اچھے ادارہ کے لئے جگہ کی تلاش کی۔ بسیار تلاش کے بعد بٹھنڈی گائوں کے لوگوں نے ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی مشترکہ اراضی میں سے برائے ادارہ وقف کیا۔ جموں کے مدرسہ میں رہتے ہوئے یہاں تین کمروں کی ایک عمارت بنوائی اور 5 ؍اکتوبر 1995ء یہاں منتقل ہوئے۔ قاری جمال الدین و حافظ نذیر احمد آپ کے ہمراہ آئے۔ کافی عرصہ اس جھگڑا میں گذرا کہ ادارہ کا مہتمم کون ہو۔ آپ کا اصرار تھا کہ قاری جمال الدین قاسمی مہتمم کی ذمہ داری سنبھالیں لیکن وہ قبول نہ فرماتے تھے۔ آخر قاری صاحب نے اس کے لئے حامی بھر لی اور یہ عہدہ قبول کیا۔ یہاں ادارہ وجود میں آتے ہی بریلوی حضرات سے کشمکش شروع ہو گئی۔ گائوں کے کچھ لوگ بھی ایک بریلوی مولوی کے کہنے میں آئے اور پھر حالات کشیدہ ہوتے رہے۔ ماہ اگست 1995ءمیں آپ کو پولیس نے گرفتار کیا اور آپ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا دیا گیا۔ لیکن بہت کوششوں سے کوئی گیارہ ماہ بعد وہ ختم ہو گیا اور آپ دوبارہ مدرسے میں حاضر ہوئے۔ مئی 1997ء ایک حادثہ کے الزام میں پھر گرفتار ہوئے اور اگست 2000ءتک آپ محبوس رہے۔ جیل میں آپ نے چند فقہی کتابوں کے علاوہ گوجری زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کا کام انجام دیا۔2001ء سے آپ پھر اس ادارہ کی تدریس سے وابستہ رہے۔ آپ مولانا محمود گنگوہیؒ، مولانا مسیح اللہ خان ؒ، مفتی مبین احمد کی صحبت میں بھی رہ چکے ہیں۔ بالآخر آپ یکم جون 2021ءیعنی ۲۰ شوال کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔