سرورق مضمون

مفتی محمد سعیدکی وفات/ کشمیر سیاست میں نئی تبدیلی/ محبوبہ کیلئے کانٹوں کا تاج

مفتی محمد سعیدکی وفات/ کشمیر سیاست میں نئی تبدیلی/ محبوبہ کیلئے کانٹوں کا تاج

7 جنوری کو ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے نئی دہلی کے میڈیکل انسٹیچوٹ میں وفات پائی۔ ان کی موت سے ان کی پارٹی کے اندر صف ماتم بچھ گیا۔ کئی رہنما زار وقطار روتے دیکھے گئے۔ ملک کے نامور سیاست دانوں اور دوسری شخصیات نے ان کی موت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی ان کی میت کو سرینگر روانہ کرنے سے پہلے ان کے آخری دیدار کو پہنچ گئے اور میت پر پھول ڈالے۔ ان کے ہمراہ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ بھی وہاں آئے تھے ۔وزیرداخلہ مفتی کی میت کے ساتھ ان کی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لئے سرینگر تک ساتھ آگئے ۔ یہاں مفتی کی میت کو ان کی رہائش گاہ گپکار روڑ لیا گیا جہاں سے غسل اور کفن پہنانے کے بعد انہیں ایس کے اسٹیڈیم سرینگر لایا گیا۔ اسٹیڈیم میں پولیس نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ بعد میں لوگوں نے ان کے نماز جنازہ میں شمولیت کی ۔ نماز جنازہ تعلیم کے وزیر نعیم اختر نے پڑھایا ۔ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے تحت آبائی قصبہ بجبہاڑہ لیا گیا اور جہاں اُنہیں دفن کیا گیا ۔
مفتی سعید کی زندگی کا خاتمہ اچانک ہوا۔ اس وجہ سے ریاست کے سیاسی حالات میں سخت ہلچل پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔ پی ڈی پی نے مفتی سعید کی موت کے فوراََ بعد ان کی جانشینی کے لئے ان کی بیٹی کا انتخاب کیا ۔ اس غرض سے اگلے ہی روز گورنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا ۔ محبوبہ مفتی اس وقت اننت ناگ حلقے سے پارلیمنٹ ممبر ہیں ۔ مفتی سعید کے بیمار ہونے سے پہلے ڈاکٹروں نے رائے ظاہر کی تھی کہ ان کے پھیپھڑوں میں شدید تکلیف کی وجہ سے آپ کسی بھی وقت دنیا سے رخصت ہوسکتے ہیں ۔ مفتی کی خطرناک بیماری کی اطلاع کے بعد ہی پارٹی میں ان کی جانشینی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا ۔ پارٹی میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ مفتی کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ ہی ان کی جانشین ہوگی ۔ اگرچہ پارٹی میں بہت پہلے سے کئی سینئر لیڈروں کی ناراضگی کی وجہ سے محبوبہ کے وزیراعلیٰ بنانے پر شدید اختلاف پایا جاتا تھا ۔ تاہم مفتی کے اس حوالے سے خود اعلان کرنے کے بعد مخالف لیڈرخاموش ہوگئے ۔ مفتی کا کہنا تھا کہ محبوبہ نے ہی پارٹی کو عوامی سپورٹ دلوایا ۔ اس لئے وہ وزیراعلیٰ بننے کا حق رکھتی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں وزیراعلیٰ بننے کی تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد یہ طے پایا گیا کہ ریاست کی اگلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ہی ہونگی ۔
محبوبہ کے وزیراعلیٰ بننے سے ظاہر ہے کہ ان کی اپنی لابی اقتدار میں شریک ہوگی اور نئے چہرے سامنے آئیں گے۔اس سے یہاں کی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آنے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے ۔ محبوبہ کے لئے وزیراعلیٰ کے بطور تاجپوشی کو ان کے لئے کانٹوں کا تاج قرار دیا جارہاہے ۔ ان کی اب تک کی علاحدگی پسندی کے حوالے سے ایک نرم پالیسی رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کی یہ پالیسی جاری رہنا بہت ہی مشکل ہے ۔ اس وجہ سے ان کی عوامی حمایت میں کمی آنے کی بات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ لوگوں کی نظریں اس پر ہیں کہ ان کا اپنا نیا ایجنڈا کیا ہوگا ؟ یہ یہاں کی سیاست کے لئے ایک اہم سوالیہ نشان ہے ۔