مضامین

مفتی محمد سعید کا انتقال ،سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

مفتی محمد سعید کا انتقال ،سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

ریاست جموں و کشمیر کے12ویں وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست 79سالہ مفتی محمد سعید 7جنوری کی صبح نئی دلی میں انتقال کرگئے۔اْنہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے 24دسمبر2015کو ہنگامی بنیادوں پر علاج و معالجہ کیلئے آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈکل سائنسز میں داخل کیا گیا تھا،جہاں وہ جمعرات کی صبح یعنی 7 جنوری 2016 کو اس دنیا سے چل بسے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ 24دسمبر جمعرات کو ہی وہ علیل ہونے کے بعد نئی دلی منتقل کئے گئے اور جمعرات کو ہی انکی روح پرواز کر گئی۔مرحوم کو ہائی بلڈ پریشر ،گردوں اور جگر کے امراض کا بھی سامنا تھا۔ انہیں14دن تک ایمز کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ( آئی سی یو) میں رکھا گیا تاہم اُن کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا۔
مفتی محمد سعید 12 جنوری 1936کوبابامحلہ بجبہاڑہ میں ایک جاگیر دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایس پی کالج سرینگر سے گریجویشن کی جس کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ عربی ہسٹری میں ماسٹرس ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ کچھ عرصہ کیلئے وکالت کے پیشہ سے بھی منسلک رہے۔انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز نیشنل کانفرنس کے ساتھ1950کی دہائی میں کیا اور نیشنل کانفرنس لیڈر پی ایل ہنڈو کے ساتھ نزدیکی قائم کی تاہم زیادہ دیر تک این سی کے ساتھ نہ ٹک سکے۔اس کے بعد انہوں نے جی ایم صادق کی سربراہی میں ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس میں ڈی پی دھر ،سید میر قاسم اور جی ایل ڈوگرہ کے ہمراہ شمولیت اختیار کی۔انہیں ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس کا ڈسٹرکٹ کنوینئر بنایا گیا۔بعد ازاں کانگریس میں شمولیت اختیار کرکے پارٹی کی یوتھ ونگ سے سیاسی سفر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی۔وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ریاست میں نیشنل کانفرنس کے خلاف کانگریس کو ایک قوت کے طور متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ 1962میں انہیں بجبہاڑہ سے ریاستی اسمبلی کیلئے منتخب کیاگیا اور پانچ سال بعد پھر اس نشست پر اپنی گرفت جاری رکھی۔1971میں کانگریس پارٹی کی صادق حکومت میں وزیر مملکت بنے اور ایک سال بعد1972میں انہیں نہ صرف کابینہ درجے کا وزیر بنایاگیا جبکہ قانون ساز کونسل میں وہ کانگریس پارٹی کے لیڈر بھی مقرر ہوئے۔1975میں انہیں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کرنے کے علاوہ ریاستی کانگریس صدر بھی منتخب کیاگیااور ایک دہائی تک ریاستی کانگریس کے صدر رہے تاہم اس کے بعد مسلسل چناؤ ہار جانے کے بعد ان کے سیاسی کیرئر میں ٹھہراؤآیا۔گوکہ 1975کے آس پاس انہوں نے وزیراعلیٰ بننے کے خواب دیکھے تاہم اندرا شیخ ایکارڈ نے ان کے خوابوں پر پانی پھیر دیا تاہم انہوں نے ہمیت نہ ہاری اور1977کے الیکشن سے قبل عبداللہ حکومت سے کانگریس کی حمایت واپس لیکر حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش تاکہ ان کے وزیراعلیٰ بننے کا راستہ ہموار ہوسکے تاہم گورنر ایل کے جھاہ نے ریاست کو گورنر راج کے دائرے میں پھر ان کی خواب پوری نہ ہونے دی۔یہ ریاست جموں وکشمیر میں پہلا گورنر راج تھا۔اس کے بعد باقی تما م پانچ دفعات پر گورنر راج کے نفاذ میں سعید کا رول رہا۔ 1977میں نیشنل کانفرنس واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آگئی اور مفتی کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور 1984میں نیشنل کانفرنس حکومت کا تختہ پلٹنے میں کلیدی رول ادا کیا۔1986میں جب دو بارہ گورنر راج نافذ کیاگیا تو اس میں بھی مفتی کا کلیدی رول رہا۔1984میں نیشنل کانفرنس میں اندرونی بغاوت کے نتیجہ میں فاروق عبداللہ حکومت کو گورنر جگموہن کی جانب سے بے دخل کرنے میں بھی ان کا ہاتھ رہا او رفاروق عبداللہ کے برادر نسبتی جی ایم شاہ کانگریس کی حمایت سے وزیراعلیٰ بن گئے تاہم 1986میں مفتی کی سربراہی والی ریاستی کانگریس نے شاہ حکومت سے حمایت واپس لیکر گورنر راج کی راہ پھر ہموارکی۔اسی دوران1986میں جب راجیو گاندھی اور فاروق عبداللہ کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی توراجیو گاندھی نے انہیں ریاستی سیاست سے الگ کرنے کی حکمت عملی کے تحت مرکزی حکومت میں سیاحت وشہری ہوا بازی محکمے کا وزیر بنایاتاہم جب1987میں راجیو فاروق ایکارڈ ہوا تو مفتی نے بطور احتجاج مرکزی حکومت سے استعفیٰ دے دیا۔اس کے بعد انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے1987میں بوفورس سکینڈل کی وجہ سے کانگریس سے دوری اختیار کرچکے وی پی سنگھ کے ساتھ مل کر جن مورچہ بنائی جس کے بعد1989کے انتخابات میں جن مورچہ کی ٹکٹ پر اترپردیش کے مظفر نگر پارلیمانی حلقہ سے الیکشن جیت کر2دسمبر1989کو وہ بھارت کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بن گئے اور 10نومبر1990تک اس عہدے پر فائض رہے۔انہوں نے اس دوران ریاستی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی منشاء کے برعکس گورنر کو ریاستی گورنر تعینات کیا جس کے خلاف بطور احتجاج فاروق عبداللہ مستعفی ہوگئے اور ریاست میں 1990میں پھر سے گورنر راج نافذ ہوگیا۔ 2002اور2014میں بھی کانگریس اور بھاجپا کے ساتھ حکومتی جوڑ توڑ کی کوششوں کے دوران گورنر راج نافذ ہوا اور 2008میں بھی امر ناتھ ایجی ٹیشن کے دوران آزاد حکومت کی حمایت واپس لینے کے نتیجہ میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔قومی سیاست میں متحرک رہتے ہوئے پی وی نرسمہا راؤ کے وزارت عظمیٰ کے آخری ایام میں 1996میں سعید کی کانگریس میں واپسی ہوئی اور اْس وقت و ہ اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کو بھی کانگریس میں لے آئے تاہم اس بار انہوں نے قومی سیاست کی بجائے ریاستی سیاست کو ترجیح دی۔مفتی محمدسعید 1998میں اننت ناگ پارلیمانی حلقہ سے جیت کر آئے جبکہ ان کی بیٹی محبوبہ 1996میں کانگریس کی ٹکٹ پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئی۔ تاہم انہوں نے1998میں ہی اپنی بیٹی محبوبہ مفتی سمیت کانگریس چھوڑ کر اپنی علیحدہ پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے بنا ڈالی۔اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ صرف3سال بعدیہی جماعت دوبارہ جموں وکشمیرمیں بر سرا قتدار آجائیگی۔ سال 2002کے اسمبلی انتخابات میں جب پی ڈی پی کو 16 نشستیں حاصل ہوئیں تو اس نے کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط سرکار کا قیام عمل میں لایا جبکہ مفتی محمد سعید اس مخلوط سرکار کے سربراہ کی حیثیت سے بطور وزیر اعلیٰ 2 نومبر 2002 سے 2 نومبر 2005 تک بر سر اقتدار رہے۔2004کے اختتام تک راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں پی ڈی پی کا ایک ایک ممبر تھا۔2014کے لوک سبھا الیکشن میں مفتی کی سربراہی میں ہی پی ڈی پی نے کشمیر کی تینوں نشستوں پر قبضہ جمالیا۔اب کی بار 79 سالہ مفتی محمد سعید کی جماعت نے ریاست میں ایک نئی سرکار کا قیام عمل میں لانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے کیونکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی پی ڈی پی کو 28 جبکہ بھاجپا کو 25 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی اور ان دونوں جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہی نئی سرکار بنانے کی پوزیشن میں تھا جس کو حتمی شکل دی گئی اوریکم مارچ2015کو مفتی محمد سعید نے ریاست کے بارہویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جموں یونیورسٹی کے زورآور آڈیٹوریم میں ریاستی گورنر این این ووہرا سے عہدے اور رازداری کا حلف لیکردوسری مرتبہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کا اعزازحاصل کیااور قریب ایک سال تک اس عہدے پر براجماں رہنے کے بعد مفتی محمد سعید 7جنوری 2016بروز جمعرات نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی چیوٹ میں قریب دو ہفتوں تک زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔
مرحوم مفتی محمد سعید کی تین بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید، محمودہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی عرف نکسن ہیں۔ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں۔محبوبہ فی الوقت رکن پارلیمان ہیں اور گذشتہ 20سال سے کشمیر کی مقامی سیاست میں سرگرم ہیں۔مفتی محمد سعید کے جسد خاکی کو پہلے دلی سے سرینگر اور بعد میں بجبہاڑہ (اننت ناگ) پہنچایا گیا جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ داراشکوہ(پادشاہی باغ)بجبہاڑ ہ کے ایک کونے میں دفن کیاگیا۔24دسمبر کی صبح وزیر اعلیٰ نے گپکار روڑ سرینگر پر واقع اپنی رہائش گاہ پر اچانک بے چینی محسوس کی اور ان پر غشی طاری ہوئی۔ اس کی شکایت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ کو نئی دلی لیجانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مفتی محمد سعید کو سرکاری طیارے میں سرینگر سے براہ راست دلی منتقل کیا گیا جہاں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ان کا طبی معائنہ کرکے انہیں اسپتال میں ہی داخل کردیا گیا۔دلی منتقل کرنے سے دوروز قبل مفتی محمد سعید نے سخت سردی کے بیچ شہر سرینگر کا تفصیلی دورہ کیا تھا جو قریب چھ گھنٹوں تک جاری رہا۔دورے کے بعد مفتی محمد سعید نے تھکان اور کمزوری کی شکایت کی اور ایک دن اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مکمل آرام کیالیکن اگلے ہی روز انہیں ہنگامی بنیادوں پر ایمز منتقل کیا گیا جہاں وہ مسلسل 14روز تک ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم کی نگرانی میں رہے۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کی طبیعت زیادہ بگڑنے کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کو ہی اس دنیا سے چل بسے۔ ان کی جسد خاکی کو قریب 11بجے ایمز سے پالم ہوائی اڈے لے جایا گیا،جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے اْن کی میت پر پھولوں کے ہار چڑھاکر خراج عقیدت پیش کیاجبکہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ وہاں پہلے سے موجود تھے۔اس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سمیت مرکزی حکومت کے کئی عہدیدار بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔مفتی محمد سعید کے جسد خاکی کو بعد دوپہر قریب دو بجے نئی دلی سے ائر فورس کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے براہ راست سرینگر پہنچایا گیا۔سرینگر کے ہوائی اڈے سے ان کی میت ایک ایمبولنس کے ذریعے گپکار روڑ پر ان کی سرکاری رہائش گاہ’فیئر ویو‘ لائی گئی جہاں پی ڈی پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ سینکڑوں پی ڈی پی کارکنان موجود تھے۔دلی سے مفتی محمد سعید کی میت کے ساتھ ان کی بیٹی اور پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر اعظم کے آفس میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ، سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد بھی سرینگر پہنچے۔اس موقعہ پر پی ڈی پی اور مرحوم وزیر اعلیٰ کے حق میں زوردار نعرے بازی کے بیچ پی ڈی پی کارکنوں کو روتے ہوئے اپنے لیڈر کو یاد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد میں ان کی میت ایک جلوس کی صورت میں سرینگر کے شیر کشمیر اسٹیڈیم پہنچائی گئی جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔اس موقعہ پر گپکارروڑاور اسٹیڈیم کے آس پاس حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اہم شخصیات کی موجودگی کے باعث ہر طرف سیکورٹی اہلکاروں کا جال بچھا یا گیا تھا۔نماز جنازہ میں متعدد سیاسی لیڈران اور پی ڈی پی کارکنوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔اس سے قبل پولیس کے ایک خصوصی دستے نے مرحو م وزیر اعلیٰ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔ سرینگر میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد مفتی محمد سعیدکا جسد خاکی گاڑیوں کے ایک قافلے کی صورت میں ان کے آبائی قصبہ بجبہاڑہ منتقل کیا گیا۔بجبہاڑہ میں لوگوں کی بھاری تعداد میت کا انتظار کررہی تھی۔یہاں داراشکوہ(پادشاہی باغ)میں ان کی ایک مرتبہ پھر نماز جنازہ ادا کی گئی اورشام دیر گئے اسی باغ کے ایک کونے میں سپرد خاک کیاگیا۔