خبریں

ملازم لیڈران کی گرفتاری پر گیلانی کی مذمت

ملازم لیڈران کی گرفتاری پر گیلانی کی مذمت

حریت (گ ) کے چیرمین سید علی گیلانی نے ملازم لیڈران کی گرفتاری اور ان پر تشدد ڈھانے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت ہر مسئلے کو دھونس، دباؤ اور طاقت کے بل بوتے پر حل کرانا چاہتی ہے اور اس پالیسی سے ریاست کی مخدوش اور غیر یقینی صورتحال میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہذب سماج میں لوگوں کو اپنی بات رکھنے اور اپنے مطالبات کو لیکر جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ آبرو مندانہ طریقے سے اس کا استفادہ بھی کرتے ہیں، البتہ اس ریاست میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو عملاً معطل رکھا گیا ہے اور یہاں ہر بات کا فیصلہ تشدّد اور طاقت سے کرنے کا چلن جاری ہے۔ گیلانی نے کہا کہ ملازمین کی جہاں اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری اور امانتداری سے ادا کرنے کی طرف توجہ مرکوز کریں، وہاں انہیں اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا بھی پورا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا یہ حق ان سے زبردستی چھیننا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اور گرفتار کرنا ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے اور اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ حریت چیرمین نے گرفتار ملام لیڈروں کو فوری طور پر رہا کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زور زبردستی سے کسی مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے، بلکہ افہام وتفہیم ہی وہ واحد راستہ ہے، جو ایک جمہوری سماج کے شایان شان ہوتا ہے۔ اس دوران سید علی گیلانی نے کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد مختلف بیماریوں اور عارضوں میں مبتلا ہے، البتہ جیل حکام ان کے مناسب علاج ومعالجے کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر سینٹرل جیل میں نظربند محمد ایوب ڈار، محمد یاسین یتو اور شکیل احمد بٹ کی صحت کافی عرصے سے ناساز ہے، جبکہ بارہمولہ سب جیل میں پابند سلاسل مقصود احمد بٹ، اعجاز احمد ڈار، بلال احمد ڈار، محمد اشرف کمار اور شبیر احمد بٹ بھی کئی عارضوں میں مبتلا ہیں۔ دونوں جیلوں میں میڈیکل سہولیات برائے نام ہیں اور جو دوائیں دستیاب بھی رکھی گئی ہیں، وہ غیر معیاری ہیں۔ جیل ڈاکٹر اکثروبیشتر قیدیوں کو باہر کے اسپتالوں میں لے جانے کی سفارش کرتے ہیں، البتہ اس کو مختلف بہانوں سے ٹالا جاتا ہے۔ حریت چیرمین نے حقوق بشر کے لیے کام کرنے والے اداروں اور جموں کشمیر میں تعینات عالمی ریڈکراس کمیٹی کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ نظربندوں کی حالت زار کا نوٹس لیں اور بیمار قیدیوں کو علاج بہم پہنچانے کے لیے اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو پورا کریں۔