اداریہ

ملک میں اقلیتیں خوفزدہ

پورے ملک میں اقلیتوں کے خلاف جنگ شروع کردی گئی ہے۔ پچھلے ہفتے سے اس جنگ میں سخت تیزی لائی گئی ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بہار میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے اس جنگ میں شدت لائی گئی ہے۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ فرقہ واریت کی بنیاد پر ووٹروں کو تقسیم کیاجائے جس سے ان کو فائدہ ملنے کا امکان ہے ۔بہار میں دو بڑے حریف لالو یادو اور نتیش کمار نے بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط اتحادد قائم کرکے فرقہ پرست عناصر کو شکست دینے کا اعلان کیا ۔ اس سے بی جے پی خوف زدہ ہوگئی ۔ لالو نتیش اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک طرف بہار کے لئے مالی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ اس پیکیج کو واقعی عمل میںلایا جائےگا ایسا ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کاغذی کاروائی ہے او ر اس سے لوگوں کو عملی فائدہ ملنا بہت مشکل ہے ۔ مالی پیکیج کے ساتھ گائو کشی کے مسئلے کی آڑ میں مسلمانوں کو حراساں کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں نے گائو کشی پر پابندی کے خلااف ایک لفظ بھی نہ بولا بلکہ اس میں تعاون کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے باوجود کئی جگہوں پر من گھڑت الزامات لگاکر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دہلی کے نواحی علاقے میں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کیا گیا ۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے گھرپر گائے کا گوشت پکایا تھا ۔ حالانکہ الزام سراسر بے بنیاد تھا ۔ اس کے باوجود بی جے پی نے اس پر چپ سادھ لی اور خاموش رہ کر اس قتل کی حمایت کی۔ اس وجہ سے پورے ملک میں ایسے الزامات لگاکر مسلمانوں کو سخت حراساں کیا جارہاہے ۔ اسی طرح اودھم پور میں ایک ٹرک کو آگ لگادی گئی جس میں سوار دو آدمی جل گئے جن میں ایک بعد میں انتقال کرگیا ۔ اس واقعے کے خلاف اسمبلی ممبر انجینئر رشید نے دہلی میں پریس کانفرنس دینے کی کوشش کی تو اس پر ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کیا اور اس کے چہرے پر سیاہی پھینک دی ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی عروج پر ہے اور اقلیتوں کا زندہ رہنا مشکل ہورہاہے ۔پورے ملک میں اقلیتیں خوفزدہ ہیں۔ انہیں ملک چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور حکومت فرقہ پرست عناصر کی کھل کر حمایت کررہی ہے ۔