سرورق مضمون

ملک گیلانی ملاقات /’کرو یا مرو ‘کا نعرہ بلند

ملک گیلانی ملاقات /’کرو یا مرو ‘کا نعرہ بلند

ڈیسک رپورٹ
18 مئی کو لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک نے حیدر پورہ آکر حریت لیڈر سید علی گیلانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے وقت حریت (گ)کے تمام سرکردہ رہنما وہاں موجود تھے۔ سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ میٹنگ میں ایڈوکیٹ بشیراحمد، محمد عبداللہ طاری، غلام نبی سمجھی، نعیم احمد خان ، شوکت بخشی ، الطاف شاہ ، نور محمد کلوال ، یٰسین بٹ اور ایاز اکبر بھی موجود تھے۔ بعد میں جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ میٹنگ میں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مسلم کش اقدامات کو زیربحث لایا گیا اور ان اقدامات کے خلاف جدو جہد کرنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقعے پر دونوں طرف سے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملک کا کہنا ہے کہ ریاست میں کرو یا مرو کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اس تناظر میں علاحدگی پسند لیڈروں کو متحد ہوکر جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان لیڈروں کے بقول ریاست میں قائم مخلوط سرکار کے ہاتھوں آر ایس ایس کا ایجنڈا نافذ کیا جارہاہے جو کہ ریاست کے اکثریتی طبقے کے خلا ف ہے۔ اس ایجنڈا کا توڑ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے تحت علاحدگی پسندوں کے درمیان وسیع اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ملک کی طرف سے حیدر پورہ جاکر اس طرح کی ملاقات اور حریت (گ)کی طرف سے ان اکا ستقبال بہت ہی اہم مانا جاتا ہے۔تاہم ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آئندہ کے لئے کس قسم کا طریقہ کار اختیار کیا جارہاہے۔
ریاست میں اس بات پر سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ مرکز نے سرینگر ، بارہمولہ اور اسلام آباد میں سینک کالونیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی اطلاع ہے کہ مہاجر پنڈتوں کی واپسی اور ان کی رہائش کے لئے محفوظ بستیاں بنائی جارہی ہیں۔ ادھر یہ بھی اطلاع ہے کہ باہر سے آنے والے مزدورں کے رہنے کے لئے کئی جگہوں پر فلیٹ تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ یہ تینوں ایسے فیصلے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح نئی تجارتی پالیسی کو منظوری دی گئی ہے جس کے تحت ریاست سے باہر کے کارخانہ داروں کو زمین پٹے پردے کر یہاں اپنے تجارتی مرکز قائم کرنے کی اجازت دی جارہی ہے ۔ ریاستی تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ مقامی تاجروں کے علاوہ دفعہ 370 کو کمزور کرنے کی سازش قرار دی جارہی ہے ۔ ریاستی سرکار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سینک کالونیوں یا مائنگرنٹ پنڈتوں کو آباد کرنے کے لئے زمین الاٹ کی گئی ہے ۔ تاہم علاحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ سرکار جھوٹ بول کر لوگوں کا دھوکہ دے رہی ہے۔ مرکز کے کہنے پر زمین کی نشاندہی پہلے ہی کی گئی ہے ۔ ادھر مرکز کی ریاستی بی جے پی لیڈروں سے صلاح مشورے کی خبریں بھی ہیں۔ علاحدگی پسندوں کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے بھی اس بات پرسخت احتجاج کیا ہے اور ریاستی سرکار کے زمین الاٹ کرنے سے انکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ زمین کی نشاندہی کی گئی ہے اور سینک کالونیاں بنانے کو پہلے ہی منطوری دی گئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں باوچوق ذرایع سے اس بارے میں معلومات ملی ہیں کہ دفعہ 370 کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ این سی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارٹی اسمبلی کے آنے والے بجٹ اجلاس میں ان مسائل کو لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے بھر پور مزاحمت کرے گی۔ اس وجہ سے اسمبلی کا آئندہ اجلاس سخت ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے۔ اس سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ اسمبلی کے اندر اور باہر عوامی سطح پر سرکار کے ان اقدامات کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ ملک نے کہا ہے کہ وہ ان اقدامات کے خلاف عوام کو منظم کرکے انہیں ناکام بنانے کی ہرممکن کوشش کریں گے ۔ یاد رہے کہ انہوں نے کچھ دن پہلے اس حوالے سے حریت کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ عمرفاروق کے ساتھ بھی ملاقات کی اور مشترکہ جدوجہد کرنے کے مسئلے پران سے بات چیت کی ۔کہا جاتا ہے کہ دونوں نے مشترکہ جدوجہدکرنے کے فارمولہ پر اتفاق کیا۔مولوی عمرفاروق اور گیلانی کے ساتھ ملاقات کے بعد اندازہ ہے کہ ملک مزید کئی علاحدگی پسند لیڈروں کے ساتھ بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ تاکہ ریاست میں بڑے پیمانے پر مبینہ آرایس ایس ایجنڈا نافذ کرنے کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ یہ تحریک کس نوعیت کی ہوگی تاحال معلوم نہیں۔