سرورق مضمون

ممبئی دھماکوں کی گونج /یعقوب میمن کو پھانسی / عدالتی فیصلہ یا مذہبی منافرت کاقتل؟

ڈیسک رپورٹ

ممبئی سیریل دھماکوں میں مبینہ طور ملزم قرار دئے گئے یعقوب میمن کو جمعرات صبح کو پھانسی دی گئی۔میمن کی پھانسی کے حوالے سے عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے ملا جلاردعمل سامنے آگیا ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ میمن کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یعقوب میمن اس وجہ سے ملک واپس آگیا جب اسے یقین دہانی کی گئی کہ اس کے خلاف کیس میں بہت زیادہ نرمی برتی جائے گی۔ لیکن عین موقع پر یقین دہانی کرنے والے اپنے وعدے سے مکر گئے اور میمن کو سولی چڑھایا گیا۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ میمن کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ وہ ایک اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اکثریتی فرقے کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے اس کو پھانسی دی گئی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک کی مختلف جیلوں میں بہت سے ایسے مجرم بند ہیں جن کے خلاف عدالت نے فیصلہ سنایا ہے او رپھانسی کا حقدار مان لیا ہے ۔ ایسے بہت سے قیدیوں کے خلاف میمن سے پہلے فیصلہ سنایا گیاہے ۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ اس قسم کے مجرموں میں راجیو گاندھی قتل کیس میں ملوث مجرم اور بھینت سنگھ کے قاتلوں کا نام لیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف بھی عدالت نے پھانسی کی سزا تجویز کی ہے۔ ان مجرموں نے صدر کے پاس رحم کی اپیل بھیجی۔ صدر کی طرف سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا جس وجہ سے وہ بچے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس یعقوب میمن کیس میں صدارتی محل نے بہت جلدی دکھائی اور رحم کی اپیل مستردکی گئی۔اس کے بعد میمن نے آخری کوشش کے طور سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا۔ سپریم کورٹ کا اجلاس رات کے ڈھائی بجے جیل کے اندر بلایا گیا جہاں فیصلہ میمن کے خلاف سنایاگیا۔ اس کے بعد یہ بات طے تھی کہ میمن کو پھانسی دینا یقینی ہے ۔ اسی روز صبح سویرے انہیں ناگپور جیل میں پھانسی دی گئی۔ بعد میں ان کی نعش ان کے آبائی گھر ممبئی پہنچائی گئی جہاں ہزاروں لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور انہیں بڑے مرغزار میں دفن کیا گیا۔ اس طرح سے ان کی دنیاوی زندگی کا باب بند ہوگیا ۔
یعقوب عبدالراق میمن کو پھانسی دینے کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا بڑا ہی اہم واقعہ ہے ۔ ممبئی میں 1993 میں ہوئے یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں کئی سو لوگ مارے گئے تھے ۔ان دھماکوں کے خلاف ملک بھر میں سخت احتجاج کیا گیا اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا گیا ۔ ان دھماکوں میں ملوث قراردئے جانے والے جن لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ان میں میمن فیملی کے کئی لوگ شامل ہیں جن میں خاص طور سے ٹائگر میمن اور یعقوب میمن کا نام لیا گیا۔ یعقوب میمن کاروائی سے بچنے کے لئے ملک سے باہر چلے گئے۔ لیکن کچھ عرصے بعد واپس ملک آگئے اور خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسہما رائو نے میمن کو یقین دلایاتھا کہ اس کو اپنا کیس آزادانہ طور لڑنے کی سہولت دی جائے گی اور اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔ لیکن بعد میں حکومت کا من بدل گیا اور میمن کو سخت سزا دینے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعدسب کچھ میمن کے خلاف ہوا یہاں تک کہ اسے جمعرات کو پھانسی دی گئی ۔ اس پر مختلف سیاسی حلقوں نے صدر اور موجودہ سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ حقوق انسانی کی کئی تنظیموں نے اسے ایک عدالتی قتل قرار دیا ۔ کیمونسٹ پارٹی نے اس فیصلے کے خلاف سخت ردعمل کااظہار کیا ۔ مسلم تنظیموں نے مجموعی طور اسے مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ ردعمل پارلیمنٹ ممبر اسد اویسی نے دکھایا ۔ حیران کن طریقے پر کانگریس نے بھی یعقوب میمن کو پھانسی دینے کے عمل کو ایک سخت فیصلہ قرار دیا۔ کانگریس نے اس کیس میں دکھائی گئی جلد بازی پر حکومت کی سخت تنقید کی ۔ اگر چہ ماضی میںکانگریس نے خود کئی کیسوں میں یہی طریقہ اپنا یا ۔ لیکن آج سرکار کے خلاف ردعمل دکھانے میں پیش پیش ہے ۔