اداریہ

منشیات اور کشمیر
کیا عام لوگ بر ی الذمہ ہیں ؟

جموں و کشمیر پچھلے تیس پینتا لیس سال سے ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے ۔جموں و کشمیر میں اس مد ت کے دوران زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو ئی ہیں اگرچہ تبدیلیوں کی ہیئت مختلف شعبوں کے لئے مختلف ہے ۔کسی شعبے میں ہو نے والی تبدیلی مثبت اثرات کی حامل ہے جبکہ کہیں پر منفی تبدیلیاں رونماہو ئی ہیں اور ان منفی نو عیت کی تبدیلیوں نے ہما رے سماج کے تا نے با نے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔آج سے تیس پینتیس سال کے کشمیر پر اگر نظر دوڑائی جا ئے تو اس وقت کا عام کشمیری انسان انتہائی سادہ طبیعت ،منکسر المزاج اور ہر کسی کے لئے اپنے دل میں ہمدردی رکھنے والا ہوا کر تا تھا مگر نو ے کی دہا ئی میں شروع ہو نے والی تبدیلیوں نے جہاں کشمیر میں خواندگی کی شر ح ،لوگوں کی اقتصادی حالت اور پھر مختلف شعبوں میں تعمیر و تر قی کا ایک رواج ساپیدا کر دیا وہیں ہمارے سماج کے اندر درج کی جا نے والی ان تبدیلیوں نے ہما رے اجتماعی ضمیر پر کچھ منفی اثرات بھی مرتب کرلئے ہیں جن کا اگر فو ری تدارک نہ کیا گیا تو نتائج بھیا نک ہوسکتے ہیں ۔یہ با ت صحیح ہے کہ جب کسی سماج کا ایک مخصوص طبقہ مادی اور اقتصادی اعتبا ر سے تر قی کی بلند یوں کو چھو لیتا ہے تو سماج کے پچھڑے یا ما دی طور کمزور طبقے بھی اپنی حالت سدھا رنے کی کوشش میں زیا دہ سے زیا دہ دولت کما نے کی دوڑ میں لگ جا تے ہیں اور یہیں سے سماج کے اندر اخلاقی گراوٹ اور آوارہ گر دی کے خصائص رواج پا تے ہیں اور سما ج منفی سمت میں چلنے لگتا ہے۔پچھلے تیس سال کے دوران جموں و کشمیر میں جاری نا مساعد حالات کے دوران ہما رے اجتما عی ضمیر میں ’تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا‘ کے مصداق کئی ایسی چیزیں اپنا گھر بنانے میں کامیاب ہو ئی ہیں جنہو ں نے ہما رے نوجوانوں کو سب سے پہلے اپنے نر غے میں لے لیا ہے ۔منشیات منفی اثرات کی حامل ان ہی چیزوں میں سے ایک ہے ۔اگر پچھلے دو سال کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جا ئے تو وادی میں اربو ں روپے ما لیت کی منشیا ت ضبط کی گئی ہیں اور پو لیس نے اس حوالے سے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے ۔یہاں سوال یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ اگر منشیات کا غیر قانونی کا روبا ر کر نے والے افراد سے اربو ں روپے ما لیت کی منشیات ضبط کی جا سکتی ہیں تو پھر کتنی ما لیت کی منشیات اس لت میں مبتلاء لو گوں تک پہنچا ئی گئی ہو ں گی ؟۔ ہما ری وادی کا کو ئی بھی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں منشیات کا کاروبا ر کر نے والے لو گ سرگرم عمل نہ ہوں اور جہاں پر منشیات کا استعما ل کر نے والے افراد کی تعداد میں روز افزوں اضافہ نہ ہو رہا ہو اور ستم ظریفی کی با ت یہ ہے کہ ان میں معصوم نوجوانوں کی ایک بڑ ی تعداد شامل ہے۔ حکومت نے اگر چہ منشیات کی لت میں مبتلا ء لوگوں کے لئے ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے اور یہ مراکز فعال طریقہ پر اپنا کا م انجام دے رہے ہیں مگر یہ با ت بھی سچ ہے کہ سماجی رویے کے ڈر سے لوگ ان مراکز کا رُخ نہیں کر تے اور اس طرح گھروں کے گھر اُجڑ رہے ہیں ۔پلوامہ ،شوپیاں اور اننت نا گ اضلاع کے کئی علا قے ایسے ہیں جہاں لوگ بھنگ کی با ضابطہ کاشت کر رہے ہیں اور امن و قانون نا فذ کر نے والی ایجنسیاں اس صورتحال سے بخوبی واقف بھی ہیں مگر یہاں سطحی طور کا روائی عمل میں لا ئی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں بھنگ کا شت کر نے والے افراد کے حوصلے دن بہ دن بڑ ھتے ہی جا رہے ہیں ۔شراب نوشی،نشیلی ادویات کا استعما ل اب ہما رے سماج کے اندر گھر گھر کی کہانی بن گئے ہیں اور والدین کو ہر آن یہ غم ستا ئے رہتا ہے کہ جن بچوں پر ہم اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ خرچ کر رہے ہیں کہیں وہ منشیات کے ہتھے نہ چڑھ جا ئیں ۔اس طرح سے نہ صرف معصوم بچوں کا مستقبل تبا ہ و بر با د ہو تا ہے بلکہ والدین کے اپنے بچوں کی خاطر دیکھے گئے خواب بھی بکھر جا تے ہیں ۔اس صورتحال کو ختم کرنے کی جہاں حکو مت کی ذمہ داری ہے وہیں عام لوگوں کو بھی اس بدعت کے خلاف کمر بستہ ہو کر لڑ نا ہو گا تب جا کر ہی اسے ختم کیا جاسکتا ہے ۔