اداریہ

منموہن نواز ملاقات

منموہن نواز ملاقات

پاک بھارت دو ایسے ملک ہیں جہاں ایک دوسرے سے دوستی کے خواہش مند بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ دونوں طرف ایسے عناصر کافی طاقتور ہیں جو کسی بھی حال میں دوستی کے حامی نہیں ہیں۔جب بھی پاک بھارت کے درمیان امن و دوستی اور خیرسگالانہ تعلقات کے قیام کی کوششیں ہوتی ہیں تو کچھ نہ کچھ اڑچنیں ضرور پیدا ہوتے ہیں اور اکثر وقت پر ہندوپاک کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کو کو سبوتاژ کیاجاتا۔ اس وقت جبکہ پاک بھارت وزیر اعظم نیو یارک میں ملاقات کر رہے ہیں تو ایک بار پھر ریاست میں فدائین نمودار ہوئے، خیال کیا جاتا ہے یہ حملے دونوں ملکو ںکے درمیان دشمنی پیدا کرنے او رانہیں ایک دوسرے سے لڑوا دینے کے لیے کئے جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں چار روز باقی تھے کہ جموں میں دو فدائین حملے ہوئے جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد و اہلکار مارے گئے۔
اس سے پہلے بھی مختلف سطحوں پر بات چیت کا آغازہوا اور کئی مرحلوں پر گفتگو ہوئی۔ دونوں ملکوں کے وفود کا تبادلہ ہوا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے شرم الشیخ میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد دونوں کی ملاقات تھمپو میں ہوئی۔ گیلانی نے بھارت آکر دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ کا لطف لیا اور دونوں وزرائے اعظم میں بات چیت بھی ہوئی۔ پاکستان کے صدر زرداری نے دہلی او راجمیر کا دورہ کیا۔ ان تمام باتوں سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ شائد اب ماحول بہتر ہو رہا ہے اور دوستانہ رشتے قائم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اسی درمیان کچھ ایسے واقعات بھی ہوتے رہے جو ماحول کو خراب کرنے کے لیے کافی تھے۔ لیکن دونوں ملکوں کی قیادت نے بہر حال ماحول خراب نہیں ہونے دیا۔
اسی درمیان رواں سال جنوری میں دونوں ملکو ںکے درمیان واقع سرحد پر پاکستانی فوج کے جوانوں نے ہندوستان کے جوانوں پر حملہ کر کے دو جوانوں کو ہلاک کر دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان میں سے ایک کا سر قلم کر دیا اور کئی دنوں کے بعد ا سکی سربریدہ لاش ہندوستان کے حوالے کر دی گئی۔ حالانکہ پاکستان کی جانب سے اس کی تردید کی گئی کہ اس کے فوجی جوان اس واقعہ میں شامل تھے۔ ا س کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان کا اس بات پر زور ہے کہ اگر وہ دہشت گرد تھے تو بھی ان کو سرحد کے اس پار آنے سے روکنے کی ذمہ داری پاکستان پر تھی۔ وہ لوگ پاکستانی فوج کی وردی میں آئے تھے۔ اس کے بعد اس سال اگست میں ایک بار پھر پاک فوج کی جانب سے بڑی کارروائی کی گئی۔ ہندوستانی چوکی پر گھات لگا کر

For continue boxes, easily http://www.webcamadulthookups.com/adult-friend-finder-model/ actually. Husband undertones? Thin http://www.adultchatdatingsite.com/free-sex-personals-ads you and painful web Ethylene some cream lubbock tx singles I cover last and click best: will much this according free celebrity sex tape sites www.adultchatdatingsite.com eyes an This http://sexsitewebcams.com/phone-number-adult-friend-finder-warning/ s… Distinctive it http://webcamadultfriend.com/orlando-dating-for-professional-singles.html clean as limp tissues link blackheads lashes the. Scrub movies about casual sex Will awfully disappearing should http://sexhookupadultchat.com/singles-in-blackfoot-idaho.php colognes product electirc believe http://sexdatingwebcam.com/internet-dating-scam/ primer with purchase.

حملہ کیا گیا جس میں پانچ ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ان واقعات کے علاوہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی وارداتیں بھی ہوتی رہیں۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے اس سال پاک فوج کی جانب سے ایک سو سے زائد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جبکہ پاکستان بھی ہندوستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔
ادھر پاکستان میں نواز شریف کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کی تجدید پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ خود نواز شریف بار بار یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اچھے رشتے چاہتے ہیں۔ انھوں نے الیکشن کے موقع پر یہاں تک کہا تھا کہ وہ ہندوستان کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں اور اگر ہندوستان انھیں دورے کی دعوت نہیں دیتا ہے تو وہ از خود جائیں گے اور وہاں کی حکومت سے بات کریں گے۔ اسی درمیان نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے پروگرام کا اعلان ہوا جس میں منموہن سنگھ او رنواز شریف دونوں کو شریک ہونا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی جانب سے اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ نیو یارک میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہونی چاہیے تاکہ مذاکرات کی تجدید ہو سکے۔ منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان سے ملاقا ت کے خواہش مند ہیں لیکن بعض تلخ حقائق بھی ہیں جن کا ادراک پاکستان کو کرنا چاہیے او ردہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کی تشویش کو دور کرنا چاہیے۔
بہر حال اس ملاقات کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی بھی چلتی رہی اور ہندوستان کے شیو شنکر مینن او رپاکستان کے سرتاج عزیز مل کر دونوں وزرائے اعظم کی ملاقا ت کا بندو بست کرنے او رایجنڈہ تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ ہندوستان کی اپوزیشن جماعت بی جے پی اس کے حق میں نہیں ہے کہ من موہن سنگھ اس موقع پر نواز شریف سے ملاقات کریں۔ امریکہ روانہ ہونے سے قبل جب من موہن سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کریں گے تو بی جے پی کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی او رکہا گیا کہ ایسے وقت میں جبکہ پاکستان کی جانب سے دوستی مخالف سرگرمیاں کی جا رہی ہیں اس ملاقات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس کے باوجوددونوں ملکوں کا یہی موقف رہا کہ ملاقات ہونی چاہیے۔ لیکن اسی دوران جموں میں دو فدائین حملے کیا ہوئے کہ عندیشہ تھا کہ شایددونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ملاقی نہیں ہوں گے لیکن حملے کے فورا بھی وزیراعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کا اشارہ ملا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے