اِسلا میات

موجودہ حالات میں واقعہ معراج کا مطالعہ

موجودہ حالات میں واقعہ معراج کا مطالعہ

رجب کا مہینہ اسلامی تاریخ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’واقعہ معراج‘‘ کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ واقعہ کس سن میں پیش آیا؟ اس سلسلے میں سیرت نگاروں کے درمیان خاصا اختلافِ رائے ہے، لیکن مشہور یہی ہے کہ ہجرت کے بارہویں سال اور رجب کی ستائیس تاریخ کو یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ معراج سے مراد وہ آلہ اور ذریعہ ہے جس کے ذریعے بلندی پر چڑھا جائے۔ اسی لیے اْردو میں اس کا ترجمہ ’’سیڑھی‘‘ سے بھی کیا جاتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق ہر اْس ذریعے پر ہوتا ہے جو آدمی کو بلندی پر لے جائے، خواہ وہ اینٹوں اور پتھروں سے تراشے ہوئے زینے ہوں، آج کی ترقی یافتہ دنیا میں لفٹ یا کوئی اور الیکٹرانک سواری ہو، چاند کی حدود سے گزرتے ہوئے راکٹ ہوں یا کوئی اور ذریعہ سفر133 یہ سب لغوی معنی کے اعتبار سے ’’معراج‘‘ کے لفظ میں داخل ہیں۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے اس سفرِ آسمانی کے لیے براق اور ایک خاص مرحلے پر رف رف کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس طرح آپؐ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ آپؐ نے زمین سے آسمانوں بلکہ عرشِ بریں کے قریب تک سفر فرمایا، اس لیے سیرت نگار حضرات مکہ سے بیت المقدس تک کے سفر کو ’’اسراء‘‘ اور بیت المقدس سے عالم بالا تک کے سفر کو ’’معراج‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
واقعہ معراج میں بہت سے سبق آموز اور عبرت آمیز پہلو ہیں اور کتنے ہی نقوش نصح و موعظت اس واقعہ کی تہہ میں چھپے ہوئے ہیں، ان میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ واقعہ معراج کن حالات میں پیش آیا؟ اور معراج کے واقعہ کے بعد کیا کچھ حالات سامنے آئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں پیدا ہوئے اور جب عمر مبارک چالیس سال ہوئی، تو نبوت سے سرفراز فرمائے گئے۔ نبی بنائے جانے کے بعد کم وبیش تیرہ سال آپؐ نے مکہ معظمہ میں گزارے، ان تیرہ سالوں میں کوئی دن اور کوئی رات ایسی نہیں تھی، جس میں آپؐ نے دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے اور فکر وخیال کی چوکھٹوں پر دستک دینے کی کوشش نہ کی ہو۔ اپنوں کے پاس پہنچے، بیگانوں کی خوشامدیں کیں، کانٹے بچھانے والوں پر محبت کے پھول نچھاور کیے، کوچہ کوچہ میں آبلہ پائی کی، صحرا اور بیابانوں میں راہ نوردی کی، ہر تلخ کلامی کو برداشت کیا، دشمنوں کی کڑوی کسیلی باتوں کو انگیز فرمایا۔
ان مشقتوں کے باوجود ظاہری حالات کے اعتبار سے دو وجود تھے، جو آپؐ کے لیے حامی ومحافظ اور سہارا بنے ہوئے تھے: ایک آپؐ کے محسن چچا حضرت ابو طالب، جن کو بنو ہاشم اور بنو مطلب کی قیادت حاصل تھی اور اس لیے ان قبائل کی پناہ زمانۂ جاہلیت کے قبائلی قانون کی وجہ سے آپؐ کو حاصل تھی، دوسرے آپؐ کی رفیقۂ حیات اور ہمدم وغم خوار حضرت خدیجہؓ جو آپؐ کے زخم پر مرہم رکھا کرتیں اور اپنی دلداری اور محبت کے ذریعے آپؐ کے غم ہلکے کرتیں۔ لیکن نبوت کے دسویں سال حضرت ابوطالب کا اور ان کے چند ہی دنوں بعد حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوگیا اور اس طرح ظاہری طور پر آپؐ کی تائید وتقویت کے دو اہم ستون بھی گرگئے۔ اسی لیے آپؐ نے اس سال کو ’’عام الحزن‘‘ (غم کا سال) قرار دیا۔ اب مخالفتوں نے شدت اختیار کرلی، بنو ہاشم کی قیادت ابولہب کے ہاتھ میں آئی، جو آپؐ کا بدترین دشمن تھا۔ اب تک لوگوں کو آپؐ پر جسمانی ایذا رسانی کی ہمت نہیں ہوئی تھی، لیکن اب ان کی جسارتیں بڑھ گئیں۔
ان حالات میں آپؐ نے طائف کا سفر کیا اور اہلِ طائف کو ایمان کی دعوت دی، لیکن وہ اہلِ مکہ سے بھی زیادہ سنگ دل اور شقی القلب ثابت ہوئے، انہوں نے آپؐ کے ساتھ ایسی بدسلوکی روا رکھی جس نے اہلِ مکہ کی زیادتیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ غرض کہ مصیبتوں اور آزمائشوں کی گھٹائیں تہہ درتہہ گہری ہوچکی تھیں، مایوسیوں اور نااْمیدیوں نے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور بظاہر راستے بند ہوچکے تھے، ان حالات میں معراج کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عروجِ جسمانی کا تھا، وہیں دعوتِ اسلام کے عروج وسربلندی اور ارتقاء کا نقطۂ آغاز بھی بن گیا۔ اسی واقعہ کے کچھ دنوں کے بعد ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت ہی نے کامیابی و ظفر مندی کے راستے کھولے، اور صرف آٹھ سال کے بعد مکہ کی وہی سرزمین جہاں سے آپؐ بے یارومددگار نکلنے پر مجبور کیے گئے تھے، آج آپؐ کے قدموں میں بچھی ہوئی تھی اور کاتب تقدیر نے ہمیشہ کے لیے اس کی قسمت اسلام سے وابستہ کردی تھی۔ غرض کہ واقعہ طائف آپؐ کی ابتلا وآزمائش کا نقطۂ عروج تھا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے واقعۂ معراج کے ذریعے دلداری کا سامان کیا اور اسلام کی ظفر مندی اور ترقی کا ایک نیا باب کھل گیا۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے واقعہ طائف اور واقعہ معراج کے پس منظر میں خوب لکھا ہے:
’’یہ حیاتِ طیبہ کا ایک بہت بڑا موڑ ہے، اب تک اللہ کا آخری نبیؐ دشمنوں کے حوالے تھا، کہ جس طرح چاہیں، پرکھ لیں، سیرت وکردار کی کسوٹی پر، صداقت وامانت کے معیار پر۔ چاہے طنز واستہزا کے تیر چلائیں، گالی و زبان درازی کے تازیانے برسائیں، معاشی ناکہ بندی کا ہتھیار آزمائیں، بندھنوں کی معاشرتی زنجیریں کاٹ دیں، سرِ بازار رسوا کریں، سنگ باری سے جسمِ اطہر لہولہان کردیں، مظلومیت کی اس کیفیت میں جو دُعا زبانِ وحی ترجمان سے نکلی، وہ عرشِ الٰہی سے جاٹکرائی۔ قبولیت کا اولین مظہر پہاڑوں کا فرشتہ تھا، جو تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوا تھا، اب نبیؐ تمام آزمائشوں سے گزر کر کامیاب ہوتا ہے۔ دنیوی نقطۂ نظر سے سنگ باری اذیت کی انتہا ہے اور روحانی اعتبار سے سرخروئی ہے۔ بندہ آزمایا گیا، دبایا گیا، پست کیا گیا اور امتحان میں کامیاب ہوگیا تو اٹھایا گیا، بلند کیا گیا، معراج سے ہمکنار ہوا، شعبِ بنی ہاشم کی نظر بندی اور طائف کے بازاروں میں رسوائی کا انعام افلاک کی نظر نوازی اور عرشِ بریں پر عزت افزائی ہے۔