نقطہ نظر

مودی حکومت کے پچاس دن

مودی حکومت کے پچاس دن

کلدیپ نائر
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پہلے پچاس دن کا جائزہ لینے پر صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ انتہائی دائیں بازو کی حکومت ہے جس نے بھارت کا اقتدار سنبھالا ہے۔ نہرو کے نظریے کو، جس کا جھکاؤ بائیں بازو کی طرف تھا، اسے اٹھا کر پھینک دیا گیا۔ ایک دفعہ پھر آزادانہ کاروبار اور بلا روک ٹوک تجارت لوگوں کو متحرک کر دے گی۔ یہ ان پالیسیوں سے روگردانی ہے جو اب تک قوم کی کسی حد تک رہنمائی کرتی رہی ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سرکاری شعبہ سکڑ جائے گا اور امیر امراء کے اثر و رسوخ اور کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔ یہ آزاد معیشت کے منطقی مضمرات ہیں۔ مودی بغیر منصوبہ بندی کے کاروبار پر کس حد تک پابندیاں لگا سکیں گے‘ فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے لیکن اب امیر اور طاقتور لوگوں کا دور دورہ ہو گا۔ اس کے نتیجے میں غریب غربا دیوار کے ساتھ لگ جائیں گے کیونکہ سرمایہ داری نظام کے فروغ کا اور کوئی طریقہ نہیں تاہم مودی کو سخت اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ بائیں بازو کے نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہی اس کی مخالفت کرینگے۔
بہر حال مودی نے اپنی جو پالیسیاں بنائی ہیں ان کے پیش نظر موجودہ بجٹ اتنا کافی نہیں کہ وہ ضروری تبدیلیاں لانے کے قابل ہو سکے۔ مودی کی حکومت اب تک کوئی ایسا قابل ذکر اقدام نہیں کر سکی جس سے بھارت کو اس عدم ترقی کی دلدل سے باہر نکالا جا سکے جس میں ملک پھنس گیا ہے۔ غربت کم کرنے کے لیے کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی۔ سابقہ آر بی آئی گورنر رنگا راجن کی چند روز پہلے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ہر دس بھارتیوں میں سے تین خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ مودی کی حکومت نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس اور فوری اقدامات نہیں کیے۔
کانگریس کی حکومت کی طویل عرصہ تک عدم حکمرانی کا مشاہدہ کرنے کے بعد میرا خیال تھا کہ بی جے پی کی حکومت معیشت کی ترقی کے لیے کچھ ضروری قانونی اور دیگر اقدامات کرے گی لیکن بجٹ سے ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کب اور کیسے ہو گا۔ اس کے بجائے حکومت کوئی ایسا قدم اٹھانے میں خاصی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے جس میں کسی قسم کے خطرے کا احتمال ہو۔ جب بی جے پی کی لوک سبھا میں واضح اکثریت ہے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ آخر اس کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تیز رفتاری سے ترقی کے لیے سرخ فیتے کی رخنہ اندازی ختم کر دیں گے لیکن جب عمل کا موقع آیا ہے تو ادھر سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے یا پھر ممکن ہے کہ یہ حکومت کی سستی اور کاہلی ہو۔بی جے پی کو سمجھنا چاہیے کہ تعمیر و ترقی کا آغاز پارٹی کی تنگ نظری کے تاثر کو ختم کر سکتا ہے۔بی جے پی کی حکومت کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے فرقہ واریت کے ایجنڈے پر زور نہیں دے رہی۔ لیکن کون جانتا ہے کہ مودی کی حکومت معاشرے کے جمود کو توڑنے کے لیے دوبارہ اپنی پرانی روش پر گامزن ہو جائے۔
حقیقت میں ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے اپنے ہندوتوا کے موقف میں تبدیلی پیدا کر لی ہے۔ اب بی جے پی ہر وقت سیکولر ازم کا ورد کر رہی ہے جیسے کہ ایک ہندو ریاست اور اجتماعیت پر مبنی معاشرے میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ درست ہے کہ آر ایس ایس جس کا عقیدہ ہے کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص ہندو ہے خواہ اس کا عقیدہ کچھ اور ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم بی جے پی نے آر ایس ایس سے ایک فاصلہ برقرار رکھا ہے کیونکہ آر ایس ایس کا موقف بہت سخت ہے۔ آر ایس ایس کے ارکان اب بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں تا کہ ان کے بارے میں عمومی تاثر بہتر ہو سکے۔
مودی چند روز قبل جب سرینگر گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو حدود میں رکھنے کی کوشش کی۔ وہاں انھوں نے کشمیر کے لیے بھارت کے اٹوٹ انگ کا لفظ استعمال نہیں کیا جیسا کہ وہ پہلے کرتے رہے ہیں بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ وہ سابقہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی تقلید میں انسانی قدروں پر زور دیں گے۔ اگرچہ مودی کے دورے کے دن سرینگر میں مکمل ہڑتال تھی لیکن پھر بھی انھوں نے کوئی اشتعال انگیز بیان جاری نہیں کیا۔ شاید انھوں نے سوچا ہو کہ ریاست کا دورہ کر نے سے ہی ان کا پیغام یہاں پہنچ گیا ہے۔
مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا ایک خاص تاثر بن چکا ہے۔ یعنی مسلم دشمن شخص۔ جب کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کی تعداد کئی کروڑ ہے جو کہ بے شک خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ انھیں اب بھی گجرات میں 2002ء میں ہونیوالے مسلم کش فسادات کا گہرا دکھ ہے۔ اگرچہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) نے مودی کو اس قتل عام سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے لیکن اس کی ذات پر لگنے والا مذہبی تعصب کا داغ مٹ نہیں سکا۔ وزیر اعظم کے طور پر انھیں معمول سے ہٹ کر اقلیتوں کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سارک کے ممالک کے بارے میں مودی کی طرف سے خیرسگالی کا اظہار133 جن میں تین مسلمان ملک ہیں133 درست سمت میں ایک قدم ہے تاہم مسلمانوں کا اعتماد جیتنے کے لیے مودی کو مزید کوشش کرنا ہو گی جیسے کہ واجپائی نے کیا تھا۔
اس وقت تک تو مجھے مودی کی حکمرانی میں کوئی نمایاں غلط اقدام نظر نہیں آیا۔ انتخابات ایک ایسا جذبات انگیز تجربہ ہے کہ سب سے بڑی سیاسی پارٹی یا مقبول لیڈر کو بھی شکست کے تلخ حقائق سے سمجھوتا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جیسا کہ کانگریس اور اس کی لیڈر سونیا گاندھی کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ دونوں ملک پر پورے دس سال حکمرانی کرتے رہے ہیں لیکن پارلیمانی انتخاب میں شکست کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں آ سکے۔ کانگریس کو 543 رکنی لوک سبھا میں اس وقت صرف 44 نشستیں حاصل ہیں۔ اب یہ وقت ہے کہ پارٹی اس بات کا تجزیہ کرے کہ اس کی ناکامی کی کیا وجوہات ہیں لیکن کانگریس کے لیڈرز کے بیانات جمود کی عکاسی کرتے ہیں۔
کانگریس کے لیڈروں کی طرف سے اس بات کا اصرار کہ انھیں لیڈر آف دی اپوزیشن کا درجہ دیا جائے بے معنی سی بات ہے۔ جب اس پارٹی کے پاس ایوان میں دس نششتوں میں سے ایک نششت یعنی مجموعی طور پر 55 نشستیں بھی حاصل نہیں ہیں تو وہ کس طرح حزب اختلاف کا لیڈر بننے کا تقاضا کر سکتی ہے۔ اسے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے۔
ہمارے پاس مثال ہے کہ تیلگو ڈیسم پارٹی (TDP) کو چند سال قبل سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود اسے لیڈر آف دی اپوزیشن کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ مجھے کانگریس کے دکھ کا اندازہ ہے لیکن اسے اس معاملے کو زیادہ نہیں اچھالنا چاہیے بلکہ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔جو ووٹرز بی جے پی کی طرف گئے تھے وہ چاہتے ہیں کہ مودی اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے پورے کریں تاہم یہ تو ان کی حکومت کے اولین دن ہیں انھیں کم از کم مزید 50 دنوں تک انتظار کرنا چاہیے تا کہ انھیں اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے مناسب وقت میسر آ سکے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)