سرورق مضمون

مودی عمران دوستی!!!
کس کے کہنے پرجھکے دو ایٹمی پاور؟

سرینگر ٹوڈےڈیسک
ایشیا کے دو روایتی حریف ہندوستان اور پاکستان ایک بار پھر ایک دوسرے کے دوست بن رہے ہیں ۔ عمران مودی دوستی کی نئی لہر نے مبصرین کو حیران کیا ہے ۔ اس حوالے سے لوگ شش وپنج میں ہیں کہ دوستی کی یہ نئی لہر اچانک کیسے پیدا ہوگئی ۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سخت کشیدگی پائی جاتی تھی ۔ پلوامہ بم دھماکے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اس حملے میں تین درجن فورسز کے اہلکار مارے گئے تھے ۔ ہندوستان نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا ۔ پاکستان کی طرف سے الزام کو مسترد کرنے کے علاوہ اس حملے کی مزمت کی گئی تھی ۔ تاہم ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف سخت مہم چلائی گئی اور اعلان کیا گیا کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا ۔ اس کے بعد ہندوستان کی طرف سے بالا کوٹ کے پاکستانی علاقے میں ہوائی حملہ کیا گیا ۔ ہندوستان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے میں وہاں قائم جیش محمد کا ٹریننگ کیمپ تباہ کیا گیا ۔ اس حوالے سے جیش محمد کے سربراہ کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ۔ پاکستان نے بالا کورٹ حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسا کوئی کیمپ موجود نہیں تھا ۔ اس کے بعد ہندوستانی ائر فورس کی طرف سے ایک اور حملہ کیا گیا جسے پاکستان نے مبینہ طور ناکام بنایا ۔ تاہم اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ کشیدگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے ۔ اس کے بعد 5 اگست 2019 کو کشمیر کی متنازع حیثیت تحلیل کرنے اور پاکستان کی طرف سے علاقے پر دعویٰ کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کے دروازے بند کئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی تنائو پایا جاتا تھا اور ہندوستان نے اسلام آباد کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی ، تجارتی اور دوسرے تمام تعلقات کو منقطع کیا تھا ۔ کشمیر کو یونین ٹیرٹی بنانے کے بعد اسلام آباد حکومت نے اس وقت تک ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو مسترد کیا جب تک دہلی سرکار اس فیصلے کو واپس نہ لے ۔ دو سالوں سے زیادہ عرصے کے بعد پچھلے مہینے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ پیغام رسانی کا آغاز کیا ۔ ہندوستان نے پاکستان کو دھمکانا بند کیا اور پاکستان کی طرف سے کشمیر پر لئے گئے اسٹینڈ کو راتوں رات واپس لیا گیا ۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے لئے خیرسگالی کے پیغامات جاری کئے ۔ اس طرح سے دونوں ملکوں کے درمیان پھر سے دوستی کا آغاز ہوا ۔ پہلے لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے پر گولہ باری بند کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس حوالے سے 2003 میں ہوئے امن معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔ اس معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے دونوں طرف کے فوجی کمانڈروں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ یہ بات چیت اس وقت تک خفیہ رکھی گئی جب تک دونوں ملٹری کمانڈروں نے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد دونوں طرف سے کامیاب مذاکرات پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور ایک دوسرے کے لئے خیرسگالی کے پیغامات جاری کئے ۔ ان پیغامات میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ 23 مارچ کو یوم پاکستان پر وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے اپنے ہم منصب عمران خان کے نام ایک پیغام بھیجا جس میں پاکستان کے لئے خیرسگاکا اظہار کیا گیا ۔ اس کے جواب میں عمران خان نے اپنے خط میں خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ملک بہت جلد مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے ۔ عمران خان نے اپنے پیغام میں اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات حل کرنے کے لئے جنگ کے بجائے بات چیت سے حل کئے جائیں گے ۔ بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سیکریٹری یا وزارت خارجہ کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہوگا ۔ اس طرح سے مودی عمران دوستی کے لئے جلد ہی راہ ہموار ہوجانے کا امکان ہے ۔
ہند وپاک کے سربراہ کس وجہ سے اچانک ایک دوسرے کے نزدیک آنے پر مجبور ہوگئے اس حوالے سے مختلف خیالات کا اظہار کیا جارہاہے ۔ کئی لوگوں کی رائے ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس حوالے سے دبائو بڑھایا گیا اور دونوں ایٹمی ملکوں کو جنگ سے دور رہنے کے لئے کہا گیا ۔ اس پر مودی عمران نے رضامندی کا اظہار کیا ۔ ایک اور طبقہ امریکہ کی مداخلت کے بجائے چین کی طرف سے ڈالے گئے دبائو کو اس کی بڑی وجہ قرار دے رہاہے ۔ اس حلقے کا خیال ہے کہ چین نے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو خطے میں وسیع کرنے کے لئے ہند وپاک کے سربراہوں کو بات چیت پر آمادہ کیا ۔ ایک بڑی اور اہم خبر یہ سامنے آئی ہے کہ خلیجی ممالک نے اس میں اہم رول ادا کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب امارات کے علاوہ سعودی فرمانروا نے مودی کو پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر زور دیا ۔ اس طرح سے دونوں ملکوں نے اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد سازی بڑھانے کا اعلان کیا ۔ اس سے خطے میں امن اور سلامتی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے سے دیرینہ مسائل حل ہونے کی بہت کم امید کی جاتی ہے ۔ تاہم ان کے مابین پائی جانے والی کشیدگی ختم ہونے پر لوگ خوشی کا اظہار کررہے ہیں ۔ خاص طور سے سرحد کے آس پاس رہنے والوں کے لئے یہ خوشی کا باعث مانا جاتا ہے ۔ ان علاقوں میں رہنے والے دونوں طرف کے لوگ چوبیس گھنٹے خطرے میں رہتے ہیں ۔ انہیں ہر وقت جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ دونوں طرف کی فوجوں کی درمیان جب بھی گولیوں کا تبادلہ ہوتا ہے تو اس کا شکار فوجی کم اور عام لوگ زیادہ بنتے ہیں ۔ ان علاقوں میں فائرنگ سے کئی بچے بوڑھے اور عورتیں موت کا شکار ہوگئیں ۔ آئے دن جان و مال تلف ہونے سے یہاں خوف وہراس کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ جب سے دونوں ملکوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا سرحد کے آرپار رہنے والوں نے کسی حد تک اعتماد کا سانس لیا ۔ دونوں ملکوں کا درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوجائے تو ان لوگوں کے لئے خوشی کا باعث ہوگا ۔