مضامین

’مودی مفتی‘ سرکار اب کی بار

’مودی مفتی‘ سرکار اب کی بار

تحریر
جی این حکیم
سال2014 ء اپنی تلخ یادیں چھوڑ کر تو چلا گیا مگر23 دسمبر کے روز ایک اور ارمان کشمیریوں کے دلوں میں چھوڑ کر سب کو مبتلائے غم کر کے یہ شعر گنگانے پر مجبور ہو گئے کہ
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
سابقہ مخلوط سرکار کو اپنے غلط پالسیوں ، کنبہ پروری، لوٹ کھسوٹ ، قتل و غارت گری کا کم کاسہ سزا تو مل گیا ہے مگر جو بدلائو کا نعرہ ہم نے دے دیا تھا اُس کا اب کوئی فائدہ کشمیریوں کو نہیں ملا بلکہ اُس کا فائدہ براہ راست ریاست کے گورنر این این ووہرا کو ملا تھا۔ اس کے بعد بیوروکریٹ بھی ہر طرح فائدے میں آگئے ہیں  رہا سوال عوام کا تو ہم غیر معینہ وقت تک بھید کے درختوں سے ناشپاتی مانگتے رہیں ، پھر بھی نہ جانے ہم کشمیر ی مودی و مفتی سرکار سے کس توت مآچھ کی اُمید کرتے ہیں جو مودی کی آشرواد سے مفتی سعید لوگوں کو کھلائے گا یہ محض ہم کشمیریوں کا وہم اور بھول ہے پارٹیوں کے اندر سے مفادات کا سرد جنگ چل رہا تھا۔ چناوی نتائج کے بعد ریاست میں جو سیاسی صورتحال سامنے آئی اُس میں ایک عجیب فاصلہ ہوا صوبائی تعصب کھل کر سامنے آگیا صوبہ جموں سے وزیراعلیٰ بنانے کی مانگ بڑھ کی گئی تھی،  حساس معاملات زیر بحث رہے  یہاں تک کہ پارٹیوں میںبغاوت کے آثار بھی نمودار ہوئی۔ سب سے پہلے نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کی ناکام کوشش کی چند ممبر کم پڑ گئے ورنہ حالات کچھ اور ہوتے، جب نیشنل کانفرنس کو کوئی موقعہ ہاتھ نہ آیا تو چالاکی سے پنترا ہی بدل دیا کانگریس والے بھی ہاتھ پائوں مارتے تھے کہ کس طرح بی جے پی کو پیچھے دھکیلا جائے مگر حد سے زیادہ منانے کے باوجود بھی پی ڈی پی والوں نے دونوں کو نظر انداز کر کے خود ہی آگے بڑھ گئے۔ پی ڈی پی کو اس بات کا زبردست ڈر اور خدشہ تھا کہ کہیں نیشنل کانفرنس بازی نا مارلے اس لئے کہہ رہے تھے لوگوں نے بدلائو کو ووٹ دیا ہے۔ کچھ حقیقت بھی تھی یعنی اگلی بار حکومت کرنے کا حق پی ڈی پی کو ہی ہے اور ہم مان بھی لیتے ہیں کہ نا مکمل اکثریت کے باوجود بی جے پی اور پی ڈی پی کو ایک اورمخلوط سرکار بنانے کے لئے اکثریت اُن کے پاس ہے۔ مگر تعجب اس بات کا ہے کہ پی ڈی پی کو اگر واقعی غریب اور مفلوالحال کشمیریوں کی ہمدردی ہے تو لمبی دیر کرنے کا کیا مطلب تھا، لوگوں کے نظروں میں مفتی محمد سعید ایک منجھے ہوئے سیاسی رہنما ہیں اور مرکزی پارٹیوں کے سیاسی دائو پیچوں سے بھی واقف ہیں مفتی سعید کو کانگریس کے ساتھ کام کرنے کا تلخ تجربہ بھی ہے۔ مرکزی وزیرغلام نبی آزاد سے لے کر بہت سارے زمہ داروں نے بلاشرط حمایت کی پیشکش کی ، نیشنل کانفرنس بھی اپنی حمایت لے کر آگے آئی ، آزاد ممبران حکیم یٰسین، انجینئر رشید اور ایم وائی تاریگامی نے بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
ان سب پارٹیوں کی مخلصانہ حمایت کو پی ڈی پی ترجمان نے یکسر مسترد کر کے کشمیریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بی جے پی ایک مرکزی پارٹی اور آجکل مرکز میں بر سر اقتدار بھی ہے اس لئے اس پارٹی کے ساتھ ہی گڑھ جوڑ کر کے ایک اور مخلوط سرکار قائم کر کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں مگر مفتی سعید کیوں یہ بھول گئے ہیں کہ بی جے پی کی جو تعصبی پالیسی سارے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف چل رہی اور کشمیری مسلمانوں کی مسلم شناخت روز اول سے ہی بی جے پی کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے اُسی تعصب نے مہاتما گاندھی کی جان لے لی( باپو) کا صرف یہ قصور تھا آرپار مسلمانوں کی زبانی طور بھی اور عملی طور بھی حقوق کی بات اور حمایت کرتے تھے۔ اُس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے باپو کو منانے سے انکار کیا تھا جب وہ ایک مرن برتھ پر بیٹھے تھے یاد رہے یہ مرن برتھ باپو نے مسلمانوں سے ایک زیادتی کے خلاف رکھا تھا۔(بحوالہ) ’’آدھی رات کی آزادی‘‘نامی کتاب میں تفصیلاً اندراج ہے۔ آج مرکز میں( واجپائی) وزیراعظم نہیں جو ایک باضمیر آدمی ہے۔ آج سارے دنیا میں اپنی کرتوتوں کیلئے بدنام شخص برسر اقتدار ہے جو مسلم برادری کو عید الفطر کا مبارک دینا پسند نہیں کرتا اور اُن کا تذکرہ کرنا بھی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا تو کشمیری لوگ کس اُمید کے ساتھ اس اتحاد کو دل سے قبول کرینگے۔ ہاں پی ڈی پی کو اقتدار کی مجبوری ضرور ہے لیکن نہ جانے مفتی محمد سعید نے کیوں ایک مسلم رہنما اور کشمیری ہونے کے باوجود اُس پارٹی کے ساتھ ساز باز کیاجو کشمیریوں کو حلق  سے نہیں اُتری، طوفانی سیلاب نے ریاست کو تباہ حال کر کے رکھ دیا ہے۔ تجارت پیشہ کارخانہ زرعی زمین لاکھوں مکانات اور جائیدادیں برباد ہو گئے۔ غربت اور افلاس نے لوگوں کا حال بے حال کر دیا ہے۔ نوجوانوں کا ایک طبقہ جو بے روزگار ہی تھے بنکوں کے قرض دار بھی بن چکے تھے۔ میوہ باغات کے مالکان برباد ہو گئے، قحط سالی کا جنگ لڑ رہے غریب لوگ سیلاب زدہ متاثرین بے خانماں ادھر اُدھر ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ ان حالات میں ایک سیول سرکار کا رول اہم بنتا ہے جو عوامی مفاد میں بڑے سے بڑے فاصلے بھی لینے کے مجاز ہوتی ہے مگر افسوس ہمارے سیاست دان عوامی مفاد کے بجائے پارٹی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اگر پی ڈی پی دوسرے جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانا نہیں چاہتی تو کوئی زور زبردستی بھی نہیں ،مگر پی ڈی پی کا بی جے پی کے ساتھ جو رابطہ دو ڈھائی مہینوں سے چلتا رہا  اس سے عوام کے کان بھی تھک گئے یہ سنتے سنتے کہ حکومت سازی کا معاملہ عنقریب حل ہو جائے گا دوسری طرف کشمیری سیلاب زدگان آس لگائے بیٹھے ہیں سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں اکثر متاثرین اس بات کیلئے پریشان  رہے کہ اگر دو ماہ سے زائد عرصہ بحث مباحثوں میں گزرا تو حاصل کچھ نہیں آیا۔ اب جب پی ڈی پی اور بی جے پی کو آپس میں مفاہمت ہوئی ہے سوچنا یہ ہے کہ مفتی محمد سعید اب عوامی مفاد کے کون سے اقدامات اٹھائیں گے ،کہیں مفتی محمد سعید کرسی کی خاطر  کشمیر میں بی جے پی کی پالیسی اپنانے کے حق میں نہیں ہوگا۔ جس کا خدشہ پہلے سے ہی  پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر سابق نائب وزیراعلیٰ اور پارلیمنٹ ممبر مظفر حسین بیگ نے ایک ہی میٹنگ میں قبول کیا تھا جس کو فوجی یاد تو آئے اور کشمیری بھول گئے مرحبا محبوبہ مفتی کو جس نے جلد ہی مظفر بیگ کی زبان بند کر دی، یہ الگ بات کہ بعد میں مظفر بیگ نے ناکام بغاوت کا منصوبہ ترتیب دیا جو ناکام ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان عوامی مفاد کے معاملات ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف ذاتی مفادات کے معاملات  ہی طے نہیں  ہوئے ہوں گے۔ اب جب پی ڈی پی میں اقتدار آرہی ہے تو دیکھنا یہ کیا کیا پی ڈی پی عوام سے کئے گئے وعدوں کو کہیں بھول نہ جائے ورنہ انہیں دہلی میں شیلا ڈکشت کا حشریاد رکھنا ہوگا۔