مضامین

مودی نواز ملاقات :مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ/ امریکہ نے دیا مثبت پیش رفت قرار/ سیاسی و مزاحمتی پارٹیوں کا ملا جلا ردعمل

مودی نواز ملاقات :مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ/  امریکہ نے دیا مثبت پیش رفت قرار/ سیاسی و مزاحمتی پارٹیوں کا ملا جلا ردعمل

ایک سال کے طویل انتظار کے بعدہندوپاک وزرائے اعظم کی روس میں ہونے والی ملاقات دونوں ملکوں کے تعلقات پر جمی یخ توڑنے میں کامیاب ہوگئی اور دونوں لیڈران نے تمام تصفیہ طلب معاملات کو لیکرباہمی مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آر پارقومی سلامتی مشیر، سرحدی حفاظتی افواج کے سربراہان اورڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز عنقریب ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران غیر متوقع طور تنازعہ کشمیر زیر بحث نہیں آیا، البتہ دونوں رہنمائوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل کو لیکر مذاکرات پر رضامند ہونے کا اعلان کیا۔اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کی جانب سے اگلے برس پاکستان میں منعقد ہونے والے سارک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت قبول کرلی۔  روس کے شہر اْفا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دوروزہ سربراہی اجلاس شروع ہوا اور اسی شام کانفرنس کے میزبان روس کے وزیر اعظم ولادیمیر پوتن بھی کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے مختلف ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام ہوا۔اس موقعے پر ہند پاک وزرائے اعظم نریندر مودی اور میاں نواز شریف کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہوئی اور دونوں نے کچھ دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ بات کی۔دونوں سربراہان مملکت کے مابین باضابطہ اور رسمی ملاقات کانفرنس کے حاشئے پر روس کے شہر اْفا کے کانگریس ہال میںہوئی۔نریندر مودی اور نواز شریف نے انتہائی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کیااور مصافحہ کرتے ہوئے تصاویر بھی کھنچوائیں۔ملاقات کے دوران دونوں وزرائے اعظم کے ہمراہ وفود بھی موجود تھے جن میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے علاوہ بھارتی خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووَل کے نام قابل ذکر ہیں۔یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی جو ملاقات کیلئے مقررہ وقت سے بہت زیادہ تھا۔ تاہم ملاقات کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا اور اور نہ ہی دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔البتہ بعدازاں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ سبھرامنیم جے شنکر اور اعزاز احمد چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا تاہم انہوں نے نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے سے معذوری ظاہر کی۔دونوں ملکوں کے سیکریٹریوں کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی۔خارجہ سیکریٹریوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ قیامِ امن اور ترقی کو یقینی بنائیں اور اس مقصد کیلئے دونوں ممالک ہر تصفیہ طلب مسئلے پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس موقعے پر بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان طے پانے والے پانچ اہم نکات کو پڑھ کر سنایا۔ دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز اور اجیت دووَل دہشت گردی کے مسئلے سے وابستہ تمام معاملات پر نئی دہلی میں مل کر تبادلہ خیال کریں گے۔اس کے علاوہ بھارتی بارڈر سیکوررٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستانی رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات منعقد کی جائے گی جبکہ ڈی جی ملٹری آپریشنز بھی ایک دوسرے سے ملاقی ہونگے۔دونوں وزرائے اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ آر پار نظر بند ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو ان کی کشتیوں سمیت15دن کے اندر اندر رہا کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔مشترکہ بیان کے مطابق مذہبی مقامات کی زیارت کی غرض سے  سرحد پار آنے جانے والوں کو بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔ملاقات کے دوران ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لئے دو طرفہ تعاون کرنے پر اتفاق بھی ہوا اور اس ضمن میں دیگر تعاون سمیت ملزموں کی آوازوں کی ریکارڈنگ کا تبادلہ بھی کرنے پر اتفاق ہوا۔مشترکہ بیان کے اختتام پر بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اگلے سال پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جسے نریندر مودی نے قبول کر لیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مشترکہ بیان میں کشمیر تنازعے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں کچھ کہا گیا کہ آیا یہ مسئلہ وزرائے اعظم ملاقات کے دوران زیر بحث آیا یا نہیں!اس سے قبل اس طرح کی ملاقاتوں کے بعد پاکستان کی طرف سے کشمیر جبکہ بھارت کی طرف سے دہشت گردی کو بنیادی مسائل قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوا۔واضح رہے کہ نریندر مودی اور میاں نواز شریف کی دو طرفہ ملاقات ایک سال سے بھی زائد عرصے کے بعد ہوئی ہے۔اس سے قبل دونوں لیڈران نے گزشتہ برس نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب کے موقعے پر دو طرفہ بات چیت کی تھی۔
اُدھرامریکا نے  مودی نواز ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے۔وائٹ ہائوس کے ترجمان کا کہناہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات مثبت پیشرفت ہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی ہو،دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی سے کسی کوفائدہ نہیں ہوگا۔ امر یکہ دو نو ں ممالک کے ما بین تنا زعا ت کے حل کیلئے مذا کرا ت کا حا می ہے اور اس کی بھر پور حمایت کر تا ہے ، دو نوں مما لک مذاکرا ت سے مسائل حل کریں۔
ادھر وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت اور پاکستان کے مابین بات چیت کی بحالی کا خیرکیا اور کہابات چیت ہندوپاک روابط میں ایک مثبت قدم ثابت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اُن کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف  کے ملاقات نے ایک نئی شروعات کا آغاز کیا ہے۔   وزیر اعظم اور اْن کے پاکستانی ہم منصب کا دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین امن عمل کیلئے حالیہ اقدامات کا ہم خیر مقدم کرتے  ہوئے مفتی نے کہا کہ  ہم اس تازہ قدم میں اْمید کی کرن دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ یہ بات چیت ہند۔ پاک روابط میں ایک مثبت قدم ثابت ہو گا‘‘۔ حکومت نہ صرف جموں و کشمیر کی سرحدوں کے استحکام بلکہ جموں و کشمیر سے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات کی بحالی اور توسیع کی بھی منتظر ہے جو فی الوقت جمود کا شکار ہے۔ ایک پْر امن اور خوشحال جنوبی ایشیا کو ٹھوس اقدامات بالخصوص حدِ متعارکہ کے آر پار سفر و تجارت سے فروغ حاصل ہو گا۔مفتی سعید نے کہا کہ ہند۔ پاک کے مابین دوستی سے تعمیری توانائی کا اخراج ہو گا جو کئی دہائیوں سے تصادم آرائی کا شکار رہی ہے اور جس سے سب سے زیادہ متاثر ریاست جموں و کشمیر ہوئی ہے۔  جموں و کشمیر دونوں ملکوں کے مابین لڑی گئی کئی جنگوں، ملی ٹینسی اور سیاسی غیر یقینیت سے بْری طرح متاثر ہوا ہے اور ریاست کی تاریخ کے ایک حساس موڑ پر یہ نیا آغاز ایک نیک شگون ہے۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہند وپاک وزارئے اعظم کی ملاقات کو ایک خوش آئند پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ زیر بحث نہ آنے کے باوجود اس کی طرف خاص توجہ دی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے  مودی نواز ملاقات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے سماجی نیٹ ورک ٹویٹر کا سہارا لیا اور ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کی طرف بھی دھیان دیں۔اس ضمن میں عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’’ہند پاک مذاکرات کی بحالی ایک خوش آئند پیشرفت ہے، میں صرف اس بات کی امید کرتا ہوں کہ اب کی بار اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ نے  پاکستان کی طرف سے کشمیر کا بالکل بھی ذکر نہ کرنے کے باوجود مستقبل میں اس مسئلے کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ بات چیت کی بحالی اگر چہ ایک اچھا پہلا قدم ہے لیکن ماضی میں اس عمل میں رکاوٹیں پیش آئی ہیں ، لہٰذا اس سے یہاں کے لوگوں کی زیادہ توقعات نہیں ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’’ترجمانوں کی طرف سے کامیابی کا دعویٰ اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا سب سے چھوٹا راستہ ہے
ادھر حریت (گ) سربراہ سید علی گیلانی نے ہندوپاک مذاکرات کی بحالی کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی نواز ملاقات سے کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں کی جانی چاہئے۔ حریت (گ)ترجمان ایاز اکبر نے گیلانی کا حوالہ دیکر کہا’’یہ مذاکرات بین الاقوامی دبائو  کی وجہ سے ممکن ہوئے۔ہندوپاک نے1947سے اب تک کشمیر پر 150مرتبہ بات چیت کی اور یہ اب روایت بن چکی ہے۔ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ دو ممالک کے درمیان مذاکرات اْس وقت تک فضول ہیں جب تک کشمیریوںکے جذبات اور قربانیوں کا احترام کیاجائے‘‘۔  حریت اقوام متحدہ کی جانب سے ضمانت شدہ حق خود ارایت کے حصول تک موجودہ جدوجہد جاری رکھے گی‘‘۔ اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ملا قات کے دوران مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات پر بات چیت کی بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنہری موقعے کو ضائع نہ ہونے دیں اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے اس تسلسل کو قائم رکھیں تاکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کے حل کیلئے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔میرواعظ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کے حوالے سے کشمیری عوام اور کل جماعتی حریت کانفرنس کا موقف بالکل واضح ہے اور ہم نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور اعتماد کی بحالی کی بات کی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ60سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جب دونوں ممالک کے درمیان کشمیر جیسے Issue Coreپر پیش رفت ہوگی تو دوسرے معاملات پر خود بخود یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کی بحالی کے ضمن میں بھارت کی جانب سے ہٹ دھرمی سے عبارت طریقہ کار میںآج جو مثبت تبدیلی آئی ہے وہ ایک خوش آئند عمل ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کا مرکز بنائے بغیر یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی یا زمینی تنازعہ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیر عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے جس کو کشمیری عوام کی خواہشات کا احترم کر کے اور ان کو اس مسئلے کے ضمن میں کسی بھی مذاکراتی عمل میں شامل کر کے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔  لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے  بھی ہندو پاک وزرائے اعظم کے مابین بات چیت کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ کو کشمیریوں کیلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ مذاکراتی عمل سے ہی دنیا کے مسائل حل ہوتے ہیں لیکن کشمیر کے حوالے سے اس عمل کو اس قدر غیر سنجیدہ بنایا گیا ہے کہ لوگوں کااس پر سے اعتبار ہی اْٹھ گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ پر اپنا ردعمل بیان کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ جنگ و جدل کسی مسئلے کا حل نہیں ہواکرتے بلکہ دنیا کے جملہ مسائل کا حل بہرحال مذاکراتی عمل سے ہی نکالنا ممکن ہوتا ہے۔لیکن مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ یہ سنجیدہ ہو اور اس کا ہدف مسائل کے حل کی نیت ہو ‘نہ کہ وقتی تفریح یا پھر اصل مسائل سے منہ پھیر کر وقت نکالنے کا بہانہ۔ کشمیری بھارت و پاکستان کے درمیان صلح سمجھوتے کے خلاف نہیں ہیں نا ہی ہم ان دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مسائل پر گفتگو کے خلاف ہیں لیکن ان دونوں ممالک کے لیڈران کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ان کے مابین لڑائی اور صلح کا براہ راست اثر کشمیریوں پر پڑتا ہے اسلئے یہ دونوں ملک جموں کشمیر کے کروڑوں لوگوں کو یرغمال رکھ کر آگے کا سفر طے نہیںکر سکتا۔