نقطہ نظر

مودی واپس اپنے ایجنڈے پر

کلدیپ نائر
جب نریندر مودی بی جے پی کا ڈیزائن کردہ ہندوانہ لباس پہن کر اپنی انتخابی مہم کے دوران تھک کر لیٹ گئے تو ان کی والدہ نے سوچا وہ جذبات سے مغلوب ہوگیا ہے اور پھر بھارت کا وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے کہا کہ میں 125 کروڑ بھارتی باشندوں کو تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر لے کر چلوں گا تو ان کی ماں کا کہنا تھا کہ اسے اس پر پورا یقین آ گیا۔
لیکن جوں جوں یہ پارٹی اپنے طے شدہ پروگرام کی پرتیں کھول رہی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ تعمیر و ترقی کی بات آر ایس ایس کی تقسیم در تقسیم کی حکمت عملی کو چھپانے کا ایک بہانہ ہے۔ مودی خود کو ایک غیر متعصب شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بی جے پی اور آر ایس ایس اجتماعیت کی سوچ کو تحلیل کرنے کے اقدامات کر رہی ہیں۔آر ایس ایس پہلے ہی اپنے اعتماد کے اراکین کو مختلف کمیشنوں اور کلیدی مناصب پر تعینات کر رہی ہے جب کہ پارٹی کے عام ورکروں کو نچلے درجے کی ذمے داریاں سونپی جا رہی ہیں اور چونکہ بیورو کریسی اپنے روایتی مزاج کے مطابق ہوا کا رخ پہچان کر قدم اٹھاتی ہے لہٰذا بی جے پی اور آر ایس ایس کو اپنا ایجنڈا نافذ کرنے میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا۔
سابقہ وزیر زراعت شرد پوار جو مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بھی تھے، کا یہ کہنا درست ہے کہ بی جے پی کی انتخابی فتح کے بعد پورے ملک میں فرقہ واریت کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اور یہ سب مودی کی حکومت کے پہلے پندرواڑے میں ہی شروع ہو گیا ہے۔ ابھی تو آگے پورے پانچ سال پڑے ہیں۔ تب کیا حشر ہو گا۔ مہاراشٹر کے سب سے زیادہ آزاد خیال شہر پونے میں جو ہوا اس سے ان قوتوں کی نشاندہی ہوتی ہے جو بے قابو ہو رہی ہیں۔ ایک انتہا پسند ہندو گروپ نے ایک اٹھائیس سالہ آئی ٹی مینجر محسن شیخ کو قتل کر دیا۔
یہ واردات انتہا پسند جماعت شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے کی توہین آمیز تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد ہوئی۔ محسن پر شبہ ظاہر کیا گیا مگر اس کی نہ کوئی شہادت تھی نہ ثبوت۔ درست ہے کہ بی جے پی نے اس قتل کی مذمت کی ہے لیکن یہ ایک ایسا موقع تھا جب وزیر اعظم مودی مسلمانوں کو تحفظ کا یقین دلا سکتے تھے جو کہ بہت بری طرح عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مودی کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ محسن کے قاتلوں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ مودی کو خاص طور پر درخواست کی گئی تھی کہ وہ مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں لیکن وہ بالکل چپ رہے۔
مودی کا رویہ حیران کن نہیں۔ 2002ء میں جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو 2000 سے زیادہ مسلمانوں کو وہاں قتل کیا گیا تھا جس میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی ملوث تھی لیکن مودی نے اس پر کبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب مودی پر تنقید ہوئی تو موصوف نے ایک مجسٹریٹ سے اپنے بے گناہ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا اور اسے تنقید کرنے والوں کے منہ پر دے مارا۔ حتیٰ کہ آج تک اس نے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ پونے میں ہونے والے قتل پر اس کی مذمت سے مسلمانوں کے جذبات کو سنبھالا جا سکتا تھا۔
میرے جیسے لوگ مسلم کمیونٹی کو جن کی تعداد عام اندازے کے مطابق پندرہ سے سولہ کروڑ تک ہے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ انھیں ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ بھارت کا آئین ہر شہری کے برابر ہونے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ملک میں عدالتیں بھی ہیں میڈیا بھی ہے اور آزاد خیال آوازیں بھی۔ اگر مسلمانوں کو کمیونٹی کے طور پر ہدف بنایا گیا وہ سب مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ یہ اس وقت بھی دیکھا گیا تھا جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیا اور گجرات میں مسلم کش فسادات شروع ہو گئے تھے۔
اب جو آئین کے آرٹیکل 370 کی بات کر رہے ہیں، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے یہ وہی عناصر ہیں جو مسلم دشمنی پر اتر آئے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 370 بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود آئین ہے جسے 65 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن چونکہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ مودی کی حکومت کے دوران اس ریاست کی حیثیت کی تبدیلی کے لیے موقع مناسب ہے۔ ان کو تاریخ کا نہیں پتہ اور نہ ہی وہ حقائق جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
جب اگست 1947ء میں برطانوی اقتدار ختم ہو گیا تو برصغیر کی 560 نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں۔ اس حوالے سے ریاست کی آبادی کے اکثریتی مذہب کو مقدم رکھا جانا تھا۔ ریاست کا حکمران اگر چاہتا تو آزاد بھی رہ سکتا تھا۔
جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے قدرے تاخیر کے ساتھ بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا اگرچہ ریاست کی آ بادی کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ میرا مشاہدہ ہے کہ کشمیر اگر تحمل کا مظاہرہ کرتا تو یہ پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیتا تاہم مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ جو الحاق کیا۔ اس نے بھارت کو صرف تین شعبوں کا اختیار دیا جن میں دفاع‘ امور خارجہ اور مواصلات شامل ہیں۔ باقی تمام امور ریاست کے ہاتھ میں رہے۔ آئین کا آرٹیکل 310 اس مفاہمت کی دلیل ہے۔
بھارت کی مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے مزید امور کو اپنے اختیار میں لانا چاہتی ہے لیکن اس کا فیصلہ ریاست ہی کرے گی کیونکہ بھارت کے ساتھ اس کا الحاق مشروط ہے اور بھارتی حکومت ریاست کی مرضی کے بغیر اس کے مزید امور کو اپنی عملداری میں نہیں لا سکتی چنانچہ آر ایس ایس جس نے کہ آرٹیکل 370 کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے وہ درحقیقت غیر قانونی راہ اختیار کر رہی ہے۔
حقیقتاً اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے تین پارٹیوں کو متفق ہونا پڑے گا جن میں بھارت‘ پاکستان اور جموں کشمیر کے عوام شامل ہوں۔ اگر آج وہاں پر ریفرنڈم کرایا جائے تو وادی کشمیر ایک آزاد ریاست کے لیے ووٹ دے گی۔ جموں میں چونکہ ہندوؤں کی اکثریت ہے اس لیے وہ بھارت سے یکجہتی کریں گے اور لداخ جہاں بدھ مت والوں کی اکثریت ہے وہ براہ راست نئی دہلی سے الحاق کرے گا۔ ان ساری وجوہات کی بنا پر یہ مسئلہ خاصا پیچیدہ ہو چکا ہے۔
جہاں تک آر ایس ایس کا تعلق ہے تو اسے ہر گز سیاست کاری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ خود کو ثقافتی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 30 جنوری 1948ء کو اس پر پابندی لگ گئی تھی کیونکہ آر ایس ایس کے رکن نتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ پھر 1949ء میں جب آر ایس ایس کی طرف سے اپیل کی گئی کہ اس پر سے پابندی ختم کر دی جائے تو اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور آر ایس ایس میں ایک معاہدہ ہوا جس میں آر ایس ایس نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گی اور خود کو صرف ثقافتی سرگرمیوں تک محدود رکھے گی۔
لیکن پٹیل آر ایس ایس کی طرف سے دی گئی یقین دہانی سے مطمئن نہیں تھے اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ علیحدہ طور پر اس بات کی ضمانت دیں کہ آر ایس ایس ہمیشہ کے لیے سیاسی سرگرمیوں سے دور رہے گی۔ یہ 1949ء کی بات ہے تاہم بعدازاں حکومت نے اس تنظیم پر سے پابندی اٹھا لی اور آر ایس ایس نے شرمناک دھوکا دہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جون 2013ء سے مکمل سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں تا کہ آر ایس ایس کے ایک سابقہ پرجوش کارکن نریندر مودی کو بھارت کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر سرفراز کرایا جا سکے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)