نقطہ نظر

مودی کا دورئہ بنگلہ دیش

مودی کا دورئہ بنگلہ دیش

کلدیپ نائر

وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈھاکا کا دورہ غلط وقت پر ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے انھوں نے وزیر اعظم حسینہ شیخ کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کی کوشش کی ہے مگر انھوں نے محض بھارت دشمن جذبات کو ہی ہوا دی ہے۔
نئی دہلی حکومت اپنی غیر جانبداری برقرار نہیں رکھ سکی۔ مجھے نہیں پتہ کہ ہم نے کیوں اور کب سے وزیر اعظم حسینہ شیخ کی بنگلہ دیش پر مطلق العنان حکمرانی کی حمایت شروع کر رکھی ہے۔ یہ درست ہے کہ حسینہ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہیں جنہوں نے مغربی پاکستان کی حکومت سے مشرقی پاکستان کو آزاد کرایا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حسینہ شیخ آئین اور تسلیم شدہ روایات کا مذاق بنا کر رکھ دیں۔
مثال کے طور پر ڈھاکا اور چٹاگانگ میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات پر نظر ڈالیں۔ حکمران عوامی لیگ کے امیدواروں کے ووٹوں سے بیلٹ بکس ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے گئے تھے جس سے رائے دہندگان اور دوسرے لوگ دہشت زدہ ہو کر رہ گئے۔ شیخ مجیب بھی یقینا اپنی قبر میں بے چینی سے پہلو بدل رہے ہونگے۔ انھوں نے اپنے عوام کا حق رائے دہندگی بحال کروایا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ مودی کے اس دورے سے سیکولر قوتوں کو بنیاد پرستوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک نئی طاقت حاصل ہوئی ہے لیکن حسینہ اب بھی اپنی پرانی روش پر قائم رہیں گی کیونکہ جس ظالمانہ انداز سے انھوں نے اپنے مخالفین کو دبایا ہے اس سے تو ان کی ساری کارگزاری مشکوک ہو گئی ہے یعنی یہ کہ آیا ان کو کبھی بھی ایک آزاد ریاست اور جمہوری انداز حکمرانی کا خیال تھا بھی یا نہیں؟
سب سے بدترین مثال یہ ہے کہ انھوں نے بنگلہ دیش کے پہلے وزیر خارجہ کمال حسین کی کس بری طرح تضحیک کی ہے۔ وہ ان کے مرحوم والد شیخ مجیب کے کولیگ ہیں اور اپنی زندگی میں اخلاقی اقدار کا پاس رکھنے کے حوالے سے ان کا ایک بلند مقام ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ ایک بلا سوچا سمجھا اقدام تھا۔
اور یہ بھی درست ہے کہ حسینہ انتخابات جیتنے کے لیے ہر انتہا تک جانے کے لیے تیار تھیں۔ لیکن پھر بھی اگر بی این پی انتخابات میں حصہ لیتی تو اس کے چند اراکین ضرور منتخب ہو جاتے جو عوام کے سامنے حسینہ کے نکتہ نظر کی مخالفت کر سکتے تھے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عام انتخابات حکمرانوں کی قسمت کا فیصلہ کر دیتے ہیں، لیکن بلدیاتی انتخابات سے پتہ چل جاتا ہے کہ جیتنے والی پارٹی نے عوام سے کیے گئے اپنے وعدے کس حد تک پورے کیے ہیں یا نہیں کیے۔
بھارت اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ اس کے اولین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ملک کے لیے جمہوریت اور سیکولرازم کا جو راستہ متعین کیا تھا وہ اس راہ پر بڑی ذمے داری سے گامزن رہا تاہم ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے جمہوریت کو پٹری سے اتار دیا اور نہ صرف یہ کہ پریس پر پابندیاں عاید کر دیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق بھی معطل کر دیے۔ لیکن لوگوں نے ان سب باتوں کو خاموشی سے قبول نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنا تمام غصہ الیکشن میں نکال لیا۔ اور یہ بات کسی کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی تھی کہ اتنی زبردست طاقتور اندرا گاندھی بھی شکست کھا جائے گی۔
یہ الگ بات ہے کہ جب وہ 1980ء میں دوبارہ اقتدار میں آئیں تو اس نے ان سرکاری ملازمین کو بھی سزائیں دیں جنہوں نے مکمل دیانتداری سے اپنے فرائض منصبی ادا کیے تھے لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اندرا نے ان تمام لوگوں سے انتقام لیا جن پر انھیں جنتا پارٹی کی حکومت کی قربت کا ذرا سا بھی شبہ ہوا۔
بھارت میں کانگریس پارٹی نے ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا تاہم اس نے اس سے سبق بھی سیکھ لیا۔ پارٹی نے اپنی بدعملی پر ندامت کا اظہار کیا ہے مگر میرا جی چاہتا ہے کہ پارٹی قوم سے باقاعدہ معافی مانگے۔ اظہار ندامت کرنے اور معافی مانگنے میں بہت فرق ہے۔ تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ بنگلہ دیش جو کہ بنا ہی انسانی حقوق کے نام پر تھا اس میں اظہار خیال کا وہ جوش اور جذبہ مفقود ہو گیا ہے جو کبھی اس قوم کا خاصا تھا۔
ایسا ہونا اپنے طور پر ہی ایک المناک واقعہ ہے اور اس صورت میں تو اور زیادہ درد ناک ہو جاتا ہے جب یہ تبدیلی اسی خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں رونما ہو جس نے اپنے ملک کو آزاد کرایا۔ تاہم اس کا الزام سوائے حسینہ کے کسی اور پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بذات خود جمہوریت کے شعلے کو بجھا رہی ہیں اور یہ کام شیخ مجیب کی بیٹی کے ہاتھوں سے ہو تو نہ صرف مایوس کن ہو گا بلکہ پریشان کن بھی ہو گا۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اور زیادہ زنجیروں میں جکڑیں گی کیونکہ حق اور ناحق اور اخلاقی اور غیر اخلاقی کی حد فاصل معدوم کر دی گئی ہے۔
ایک ایسے ماحول میں جب حسینہ آمرانہ طرز حکومت کا مظاہرہ کر رہی ہیں مودی کا ڈھاکا جانا اور بھی زیادہ بدقسمتی کی بات ہے۔ مودی کو وہاں یہ ضرور کہنا چاہیے تھا کہ بنگلہ دیش انقلاب کے ذریعے وجود میں آیا ہے لہٰذا اسے انقلابی جذبات کو بہر صورت فروغ دینا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس انھوں نے حسینہ کی تعریفیں شروع کر دیں حالانکہ بنگلہ دیش کے عوام مایوس ہو چکے ہیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ بھارت اس طرح کا کوئی اشارہ کرے کہ وہ حسینہ کے طرز حکومت سے خوش نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ مودی خشکی میں گھرے ہوئے ان علاقوں (انکلیوز) کے تبادلے کا سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو طویل عرصے سے زیر التوا تھا گو کہ اس سمجھوتے کی بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے بحث کے بعد اجازت مل گئی تھی لیکن پھر بھی سمجھوتے پر عملدرآمد کا کریڈٹ مودی کو ہی ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی نے اس موقع پر پارلیمنٹ کی ان تمام پارٹیوں کا شکریہ ادا نہیں کیا جنہوں نے ایک مفید اور دل پسند پڑوسی ملک کے ساتھ اس سمجھوتے کی حمایت کی تھی۔ لیکن مودی کا اس سمجھوتے کو ’’دیوار برلن‘‘ گرانے کے مترادف قرار دینا بچگانہ بات تھی۔
میری تمنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے دورے میں پاکستان پر تنقید کرنے سے اجتناب کرتے نہ صرف یہ کہ یہ نکتہ چینی نازیبا تھی بلکہ ایک غیر ملکی سرزمین پر ایسا کرنا سفارتی اخلاقیات کے بھی منافی تھا۔ ایک طرف وہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے دوستی کی بات کر رہے تھے دوسری طرف پاکستان کو علیحدہ طور پر ہدف تنقید بنا رہے تھے جو ان کی اپنی ہی بات کی تردید تھی۔ ان کو اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح یہ احساس ہونا چاہیے کہ ایک وقت آئے گا جب جنوبی ایشیا کے ممالک کی ایک مشترکہ مارکیٹ بن جائے گی جس میں وہ سب کاروبار‘ تجارت اور تعمیر و ترقی میں ایک دوسرے کے مدد گار ہونگے۔
بنگلہ دیش کے عوام دریائے تیستا کے پانیوں کے بارے میں میں بھی کسی سمجھوتے کی توقع کر رہے تھے مگر وزیر خارجہ سشما سوراج نے دہلی سے ڈھاکا کے لیے روانگی سے پہلے ہی یہ بیان دیدیا تھا کہ دریائے تیستا کے پانی کا معاملہ مودی کے موجودہ دورے کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی وزیر اعظم مودی کے ہمراہ ڈھاکا کا دورہ کیا جو کہ ایک اہم پیشرفت تھی۔
اس سے ڈھاکا کو یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ نئی دہلی حکومت تیستا کے پانی کے حوالے سے تنازعہ حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اگر یہ مسئلہ مودی کے دورے پر حل نہیں ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت اس معاملے میں کوئی سودا بازی کرنا چاہتا ہے اصل میں ممتا بینرجی کے دورے سے ڈھاکا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس مسئلہ کے حل میں کچھ وقت تو ضرور لگے گا تاہم اس سمت میں پیشرفت کا آغاز یقینا ہوگیا ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)