سرورق مضمون

مودی کا منتر کامیاب / محبوبہ کیلئے تاجپوشی کی تیاریاں مکمل

مودی کا منتر کامیاب / محبوبہ کیلئے تاجپوشی کی تیاریاں مکمل

ڈیسک رپورٹ
ریاست میں ایک بار پھر مخلوط سرکار بنانے کے لئے راستہ ہموار ہوگیا ۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد قائم ہوگیا۔پی ڈی پی رہنما نے اپنے دو سینئر ارکان کے ہمراہ گورنر سے ملاقات کی۔بی جے پی نے بھی گورنر کو مطلع کیا اور مخلوط سرکار کی حمایت کا اعلان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان وزارت کی تقسیم کا مسئلہ حل نہیں ہورہاتھا۔ بی جے پی کئی اہم وزارتوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ اس پراب اتفاق ہوگیا ہے اور پرانی کابینہ قائم رکھنے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پچھلے کئی مہینوں سے مذاکرات چل رہے تھے۔ مذاکرات کے کئی دور ہوئے جو سب ناکام ہوگئے۔ محبوبہ مفتی اور بی جے پی رہنمائوں کے درمیان بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔ پہلے محبوبہ نے دہلی جاکر امت شاہ کے ساتھ اہم میٹنگ کی ۔ لیکن میٹنگ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی ۔ اس کے بعد ان کی رام مادھو کے ساتھ ملاقات ہوئی وہ بھی ناکام رہی ۔ یہ تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد پی ڈی پی صدر کی وزیراعظم سے ملاقات کرائی گئی جو بہت ہی کامیاب ثابت ہوئی۔
محبوبہ مفتی اور مودی کے درمیان ملاقات 22مارچ کو ہوئی ۔ اس ملاقات میں کہا جاتا ہے کہ مودی نے محبوبہ کو یقین دلایا کہ ان کے وزیراعلیٰ بننے کی صورت میں انہیں ہرطرح کی مدد دی جائے گی۔ محبوبہ اور مودی کے درمیان ہوئی خیرسگالی کی یہ ملاقات بہت ہی کامیاب رہی۔ اس کے بعد محبوبہ واپس جموں آگئی جہاں انہوں نے اپنے پارٹی لیڈروں سے ملاقات کی اور انہیں تفصیل سے باخبر کیا ۔ اس کے بعد پی ڈی پی کے تمام اسمبلی ارکان کی میٹنگ ہوئی۔اس میٹنگ میں محبوبہ کو لیجسلیچر پارٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ تالیوں کی گونج میں محبوبہ کو لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر بنایا گیا۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ محبوبہ وزیراعلیٰ بننے کی غرض سے گورنرسے ملاقات کریں گی اور انہیں صورتحال سے باخبر کریں گی۔
واضح رہے پی ڈی پی اور بی جے پی کی سرکار اس وقت تعطل کاشکار ہوگئی تھی جب وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اچانک انتقال کرگئے ۔ کئی دنوں تک دہلی کے میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل رہنے کے بعد آپ اس دنیا سے چل بسے ۔ اس کے بعد محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ بننے کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے فوری طور وزیراعلیٰ بننے سے صاف انکار کیا۔ پہلے کہا گیا کہ باپ کے رسم چہارم کے بعد محبوبہ حلف اٹھائیں گی ۔ لیکن یہ پیشن گوئی درست ثابت نہ ہوئی۔ اس کے بعد کہا گیا کہ چالیسویں کی تقریب کے بعد آپ وزیراعلیٰ بن جائیں گی ۔ لیکن یہ سب قیاس آرائیاں غلط نکلیں ۔ اس کے بعد پی ڈی پی کی طرف سے حکومت بنانے کے لئے کئی شرائط سامنے آئیں ۔ ان میں کہا گیا کہ محبوبہ مفتی کرسی سنبھالنے سے پہلے کئی مدعوںپریقین دہانی چاہتی ہیں۔ ان مدعوں میں مبینہ طور سیلاب زدگان کی امداد ، پاور پروجیکٹوں کی واپسی اور افسپا ہٹانے جیسے مطالبات شامل بتائے گئے۔ اگرچہ محبوبہ نے ان کے بارے میں کھل کر کبھی بات نہ کی۔ لیکن میڈیا میں ان باتوں کا بار بار ذکر کیا گیا ۔ اس طرح سے دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد قریب قریب ختم ہوگیا۔ اس دوران ریاست پر گورنرراج نافذ کیا گیا۔ گورنر نے اپنے لئے دو مشیر مقرر کئے اور حکومتی کاروبار میں دلچسپی لینے لگا۔ حکومت کا سارا کاروبار سیکریٹریٹ سے گورنرہائو س منتقل ہوگیا۔ تمام کام گورنر کی مرضی سے ہونے لگے۔ اس دوران کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کی کوشش رہی کہ پی ڈی پی کو اتحاد کے لئے تیار کیا جائے۔ اس غرض سے بیک چینلز تیز کی گئیں اور مذاکرات میں تیزی لائی گئی۔
ادھر پی ڈی پی کے اسمبلی ممبران نے بھی دبائو ڈالنا شروع کیا کہ محبوبہ کو جلد از جلد حکومت بنانے پر مجبور کیا جائے ۔ یہ بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ کئی اسمبلی ممبر پارٹی سے بغاوت کرکے اپنا گروپ بنانے کی کوششیں میںہیں تاکہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائیں ۔
نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اس بات پرزور دینے لگا کہ اسمبلی کو توڑ کر جلد از جلد نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ اس غرض سے انہوں نے گورنرسے ملاقات کی اور اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کیا ۔ لیکن ان کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔ ان کی پارٹی کے بغیر کوئی بھی دوسری جماعت اسمبلی توڑنے کے حق میں نہ تھی ۔ کانگریس کی کوشش تھی کہ پی ڈی پی کے ساتھ مل کرحکومت بنائے۔ لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے درکار ممبران کی گنتی کم پڑتی تھی ۔ انجینئررشید کے علاوہ یوسف تاریگامی نے سیکولراتحاد کی حمایت کرنے کا اشارہ دیا ۔ لیکن عملی طور کچھ سامنے نہ آیا ۔ غلام نبی آزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ کسی بھی سطح پربات چیت نہیں ہورہی ہے ۔ البتہ مفتی کے انتقال پر کانگریس صدر سونیا گاندھی کے علاوہ جب کئی لیڈر تعزیت کے لئے کشمیر آئے اور بی جے پی لیڈروں میں سے کسی نے بھی یہاں آنے کی زحمت نہ اٹھائی تو بہت سے لوگ پی ڈی پی کانگریس اتحاد کی پیشن گوئیاں کرنے لگے۔ لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے سے موجود دوریاں بدستور قائم رہیں اور اتحاد نہ بن سکا ۔ پی ڈی پی میں ایک مضبوط لابی بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم رکھنے پرزوردیتی رہی۔ اس لابی نے محبوبہ کو بی جے پی کے ساتھ ہرحال میں حکومت بنانے پرزوردیا ۔ ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد قائم ہوگیا۔ اور اب مارچ کی اختتام پر نئی سرکار حلف اٹھائے گی ۔