نقطہ نظر

مودی کے دورۂ لاہور سے امیدیں

مودی کے دورۂ لاہور سے امیدیں
کلدیپ نائر
جاتے سال کا سب سے دلفریب لمحہ وزیراعظم نریندر مودی کے کابل سے واپسی پر اچانک لاہور کا دورہ تھا۔ یہ یقیناایک بہت خوش آیند اقدام تھا جسے ہر جگہ پر بہت سراہا گیا۔ بالخصوص پاکستان میں۔ ان کے ملک میں یہ احساس ہے کہ جیسے بھارت اپنی پرانی روش ترک کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے قیام کو 70 سال بیتنے کو ہیں مگر ابھی تک دلوں سے بدگمانی نہیں نکلی۔ مودی کا کہنا ہے کہ اس قسم کی آمد و رفت دونوں طرف سے ہونی چاہیے جو کہ بہت خوش گوار یقین دہانی کہی جا سکتی ہے۔
ان دونوں کے آپس میں بات چیت کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں تھیں وہ اس واقعے کے بعد پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کا میڈیا کام خراب کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ مودی کی آمد پر طرح طرح کے اندازے لگاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آخر ایسا ہوا کیونکر۔ مودی کا دورہ خود ان کی اپنی سوچ کا نتیجہ تھا۔ وہ لیڈر ہی کیا ہو جو دوسروں کے اشارے پر چلے۔ پاکستان میں اس بات کی جو تعریف کی جا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلقات کی سرد مہری کو اس سے پہلے ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ دونوں کے درمیان جھوٹی انا آڑے آ رہی ہے۔
مودی نے یہ خلیج عبور کر لی ہے جس کی ہر طرح سے ستائش کی جا رہی ہے۔ کانگریس کی طرف سے مودی کو نیچا دکھانے کے لیے جو تبصرہ کیا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ بجائے اس کے کہ کانگریس کہتی کہ بی جے پی نے بھی اب وہی راستہ اختیار کر لیا ہے جس پر کانگریس کئی عشروں سے چل رہی تھی۔ اس کے بجائے کانگریس نے کہا ہے کہ مودی کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔
کئی سال پہلے جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ وہ دوستی بس پر لاہور جائیں گے تو اس پر سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ یہ مذاکرات کامیاب رہے تھے اور اس وقت کی حکومت کے ترجمان مشاہد حسین کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی ایک ٹائم فریم پر اتفاق ہو گیا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وقفے وقفے سے ہونے والی بات چیت میں کوئی پائیدار حل تلاش نہ کیا جا سکا۔
کشمیری لیڈر فاروق عبداللہ نے اپنے قابل احترام والد شیخ عبداللہ کے حوالے سے یہ بات کہی کہ کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے پاس ہے وہ ان کے پاس رہے اور جو ہمارے پاس ہے اس کو ہم اٹوٹ انگ کہتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی زمینی حقائق ہیں، کنٹرول لائن کی کوئی بھی خلاف ورزی دونوں ملکوں میں کشیدگی پیدا کر دیتی ہے حتیٰ کہ جنگ کی طرح کی صورت حال بن جاتی ہے۔ لاہور میں مودی کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات سے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کو نہ صرف تعلقات بہتر بنانے چاہئیں بلکہ پورے خطے کے اقتصادی فواید کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
دبئی کے راستے تجارت کرنے کے بجائے دونوں کو اپنی سرحد سے اشیاء کی درآمد کو برآمد کرنی چاہیے۔ مودی نے لاہور کے دورے کے بعد بیان دیا ہے کہ اس قسم کا آنا جانا جاری رہنا چاہیے۔ دونوں طرف سے خوامخواہ کے تکلفات کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایسی بات ہے جو اس سے پہلے بھی ہو سکتی تھی۔ واجپائی ایک دور اندیش شخص ہیں کیونکہ مودی انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور سے واپسی پر وہ سب سے پہلے واجپائی سے ملنے گئے۔ گو واجپائی اس وقت صاحب اختیار نہیں تاہم انھوں نے بھی یہ کہا ہے کہ جو مودی نے کیا ہے ان کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔
اگر مودی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انھیں آر ایس ایس کو صاف صاف بتا دینا چاہیے کہ وہ اپنا ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا ایجنڈا ترک کر کے پاکستان کو ایک خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کرے۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ اس ملاقات کے بعد آر ایس ایس کے لیڈروں نے جو بیانات دیے ان میں وہی ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کی گھسی پٹی بات نمایاں تھی۔
اس سے پھر فریقین میں بداعتمادی پیدا ہو گی جو کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں اصل رکاوٹ ہے۔ یہ بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ مودی کے دورۂ پاکستان سے جو خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوئے ہیں ان کو خراب کرنے کے لیے ایودھیا کے مقام پر بھارت کے مختلف علاقوں سے بڑے بڑے پتھر پہنچانے شروع کر دیے گئے ہیں تا کہ رام مندر تعمیر کیا جا سکے۔ انتہا پسند عناصر ایک بار پھر رام مندر تعمیر کرنے کا متنازعہ ایشو اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ تھا جس سے بھارت کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ برابر کے شہری نہیں ہیں۔ اور یہ بابری مسجد ہی تھی جس نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان خلیج کو وسیع تر کر دیا۔ اس مسئلے کو دوبارہ اچھالنا ملک میں تقسیم در تقسیم پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
جو ماہر مورخین سالانہ تاریخی کانفرنس کے لیے اکٹھے ہوئے انھوں نے ایودھیا میں منقش پتھروں کے رام مندر کی تعمیر کے لیے لائے جانے کے خلاف باقاعدہ ایک قرار داد منظور کی ہے جو وہ بابری مسجد کی جگہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
انڈین ہسٹری کانگریس (IHC) کا 76 واں اجلاس مغربی بنگال کے شہر مالدہ (Malda) میں ہو رہا ہے جب کہ آئی ایچ سی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایودھیا میں کندہ شدہ پتھروں کا لایا جانا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بہر حال اس کا انحصار وزیر اعظم نریندر مودی پر ہی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے انتہا پسند ارکان کو کنٹرول میں رکھیں اور اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس کو بھی۔ اگر وہ پھر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی باتیں کریں گے تو وہ مودی کے دورۂ لاہور کو یکسر ناکام کر دیں گے۔
بابری مسجد کا ڈھانچہ ہمارے سیکولر ازم کے عقیدے کا ایک واضح ثبوت تھا۔ بابری مسجد 6 دسمبر 1992ء کو منہدم کی گئی جب کہ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ مہاتما گاندھی جی کو 30 جنوری کو گولی ماری گئی، تھی، لیکن ان کی اصل موت کئی سال بعد بابری مسجد کے انہدام پر ہوئی۔ اس موقع پر بی جے پی کے لیڈر ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی بھی وہاں موجود تھے۔ جن کے سامنے مسجد کو منہدم کیا گیا۔
ایڈوانی نے اتنا احساس ضرور کیا کہ اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن جب ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایسی صورتحال پیدا کر لی گئی کہ یہ ان کی فتح تھی تو ایڈوانی نے بھی بھیگی بلی بنتے ہوئے استعفیٰ واپس لے لیا۔ خوشی کی بات ہے کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹری اس ماہ کے اواخر میں ملاقات کر رہے ہیں۔ سرتاج عزیز نے پہلے ہی ایک نشری بیان میں کہہ دیا ہے کہ تمام مسائل ایک ہی ملاقات میں طے نہیں ہو سکتے تاہم رکاوٹیں دور کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کی جائے گی۔
مودی جنہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے، پر عزم ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جائیں اور ان کے اس عزم کی امریکا، روس اور برطانیہ سے تحسین کی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساری دنیا کو پاک بھارت تعلقات کے بارے میں کتنی تشویش ہے۔ دونوں ملکوں کو سمجھنا چاہیے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔ اصل حل اقتصادی ترقی ہے کیونکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ غریب آبادی اسی خطے میں رہتی ہے۔ مودی کا ماضی جیسا بھی ہو مگر اب وہ ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ لہٰذا سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ کامیاب رہیں۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)