اداریہ

موسم سرما اور انتظامیہ کا رول

ریاست جموںوکشمیر کوپوری دنیا میں اپنی خوبصورتی اور جغرافیائی و موسمی حالات کے طفیل ایک منفرد مقام حاصل ہے ، سال کے الگ الگ موسم یہاں کے حسن میں ایک طرف چار چاند لگا دیتے ہیں تو دوسری طرف موسم سرما آتے ہی ریاست کے اکثر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کے لئے مشکلات کا آسمان ٹوٹ پڑتاہے ۔ درجہ حرارت میں کمی واقع ہوتے ہی یہاں کے شہری خاص کر دیہی علاقوں میں رہ رہے لوگ گونا گوں مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سردیاں شروع ہوتے ہی ایک طرف ہمیں زیادہ اخراجات کی وجہ سے مالی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو دوسری طرف روز مرہ کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے زندگی گذارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ بجلی کا آنکھ مچولی کھیلنا، صاف پانی کی نامعقول فراہمی ، تیل خاکی اور اشیائے خوردنی حاصل کرنے میں دقتیں آنا، شام ہوتے ہی مسافر گاڑیوں کا سڑکوں سے غائب ہوجانا جیسے مشکلات سے گذرنا پڑتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موسم سرما یہاں تک کہ دسمبر مہینہ شروع ہوتے ہی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے عناصر اس طاق میں رہتے ہیں کہ کب صورتحال سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر دو دوہاتھوں سے سادہ لوح عوام کو لوٹا جائے۔ اگر چہ انتظامیہ کی طرف سے آئے روز لوگوں کی سہولیات کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جانے کی خبر آرہی ہیں تاہم یہ خبریں محض خبروں تک ہی محدود رہتی ہیں۔ عملی جامع پہنانے میں انتظامیہ بھی لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں اور انتظامیہ خالص اعلانوں سے ہی کام نبھاتی ہے۔ انتظامیہ کا صارفین کے تئیں خاطر خواہ اقدامات کئے جانے کا اعلان اور اس پر عملی طور اپنانے کی کوششیں ناکافی اورغیر اطمینان بخش نظر آتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیا ت میسر رکھنے کیلئے مامور محکموںاور فیلڈ عملے کو متحرک کیاجائے تاکہ آنے والے موسم سرما کے ایام میں عوام کو اور زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔