نقطہ نظر

مولانا نور الدین ترالی کے فرزند، مرحوم حافظ پیر احمد اللہ کا پوتا مولانا نور احمد کا انتقال

ادارہ’ سرینگر ٹوڈے‘ مرحوم نوراحمدترالی ؒ کے خاندان کے ساتھ اُن کی رحلت پر تعزیت پیش کرتا ہے۔جملہ ممبران دست بدعا ہے کہ اللہ رب العالمین مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور لواحقین کو صبرو جمیل سے نوازیں۔

۱۹۴۲ء میں پیدا ہوئے بچے کا نام نور احمد جوکہ دو ناموں کا مرکب ہے، نور اور احمد، نور باپ کے نام سے اور احمد دادا سے منسوب ہے۔ نور الدین ترالی ؒکے گھر میں پہلا نرینہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے آپ کو لاڈ پیار سے پا لا گیا اور مولانا نور الدین ترالی ؒ کی سخت ریاضت اور وعظ و نصیحت کی مجالس کا اثر آپ پر کافی حد تک پڑا۔ نور احمد ترالی ؒ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام ترال ہی میں پائی۔ لیکن والد صاحب نے دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے آپ کو مدینۃ العلوم حضرت بل سرینگر بھیجا۔ جہاں آپ نے مولوی فاضل تک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا عبداالکریم کی صحبت بھی اختیار کی۔ بعد میں سرکاری استاد مقرر ہوئے اور ۱۹۷۳ء تک اس پیشہ سے منسلک رہے۔ مرحوم مولانا نور صاحب کے استعفیٰ کے بعد اسکول کے بقا کو مد نظر رکھتے ہوئے انجمن نے بااتفاق رائے آپ کو سرکاری ملازمت چھوڑنے پرمجبور کیا اور مدرسہ میں اپنے والد کے عہدے پر کام کرنےکےلئے راضی کیا۔ اس طرح آپ مدرسہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ مولانا مرحوم کو آپ کی بصیرت اور دینی تعلیم پر ناز تھا۔ اس لئے اپنی زندگی میں ہی آپ کو گپھہ بل مسجد میں جمعہ کا خطاب دینے پر راضی کیا۔ اس کی ذمہ داری مولانا نور احمد ترالی ؒ نے بخوبی انجام دی۔ مولانا نور احمد نے اپنے والد نور الدینؒ کے وفات کے سات سال بعد دار لعلوم انور السلام ترال کا قیام عمل میں لایااور آپ اس کےسربراہ مقرر ہوئے۔علاوہ ازیں مولانا نور احمد ترالی ؒ کی دور اندیشی اور بالغ نظری نے ایکہائر سکنڈری سکول اور اسلامیہ اورینٹل کالج خواتین کے لئےقائم کیا۔ مولانا نے ترال پائین میں جامع نور الاسلام ترال بھی تعمیرکی۔
مولانا نور احمد ترالی مختصر علالت کے بعد ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جمعرات یعنی۹؍دسمبر کو رات دیر گئے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ مولانا کی موت کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچی اور ترال کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں ماتم اور غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ وادی کشمیر کے اطراف و اکناف سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ترال پہنچی جہاں صبح سویرے سے ہی لوگ مرحوم کا آخری دیدار کرنے کے لئے قطاروں میں کھڑے تھے۔مولانا نور احمد ترالی کی نماز جنازہ صبح ساڑھے گیارہ بجے دارلالعلوم نور الاسلام ترال کے احاطے میں ادا کی گئی اور نماز جنازہ معروف عالم الدین اور دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مہتمم مولانا رحمت اللہ میر قاسمی نے پڑھائی ،جس دوران یہاں لوگوں کی ایک بڑا مجمع تھا ،جن میں ایک بڑی تعداد وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے لوگوں کی تھی۔ترال کے مین بازار سمیت گائوں دیہات میں تقریباً نصف دن تک دکانیں بند رہے ۔مولانا نور احمد ترالی نے اپنی تمام عمر دین اسلام کی خدمت میں گزاری ہے ۔مولانا ابتدائی طور ایک استاد تھے جس کو انہوں نے اپنے والد مولانا نور الدین ترالی ؒ کے اسرار پرسرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر مدرسہ تعلیم اسلام ترال ،دار العلوم ترال کا نگران مقرر کر کے انہیں ان اداروں کا کام کاج سونپاگیا، جس کو مرحوم نے بہتر انداز میں انجام دیا اور آخری دن تک تینوں اداروں میں معیاری تعلیم کو بلندیوں تک لیا ہے جبکہ مولانا نور الدین ترالی ؒ کا انتقال سال ۱۹۹۳ میں جمعہ کی نماز پڑھتے ہوئے تشہد میں ہوا۔اس کے بعد سے تاحال مولانا نور احمد ترالیؒ نے علاقے میں کئی اداروں کو نظم و ضبط کے ساتھ چلانے کے علاوہ واعظ و تبلیغ کی ذریعے سے دین اسلام کی کافی خدمت کی ہے ۔نور احمد ترالیؒ کو علاقے کا ہر ایک انسان چاہے وہ کسی بھی مکتب یا فرقے ،یا مذہب سے کیوں نہ تھاعزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔مرحوم کے وفات کے بعد آج یہاں سکھ اور پنڈت برادی کے لوگ بھی پر نم آنکھوں سے انہیں الودعی ٰ کہہ رہے تھے ۔نور احمد ترالی ؒ نے علاقے کے تین اہم تعلیمی اداوں جن میں دارالعلوم نور اسلام ترال،مدرسہ تعلیم اسلام ترال اور جامعہ البنات ترال شامل ہیں چلا رہے تھے جنہوں نے ترال میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے میعار کو انتہائی بلندیوں تک پہنچایا ۔دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کو دار العلوم اور جامعہ البنات میں رائج کرنا ان ہی کی ایک کوشش تھی تاکہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظ قران یا دیگر علوم حاصل کرنے والے طلباء کو کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس طرح سے ان کے وفات پر تر ال کا ہر شہری سوگوار ہے۔اس دوران متعدد دینی ،مذہنی اور سیاسی جماعتوں نے مولانا نور احمد ترالی کی رحلت اظہار دکھ کیا ہے۔
متحدہ مجلس علما ء چیئر مین میرواعظ عمر فاروق نے بزرگ عالم دین مولانا نور احمد ترالی کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی ترال اور نواحی علاقوں میں دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے پریس بیان میں انہوں نے کہا مولانا نہ صرف ایک تجربہ کار اور صاحب فکرعالم دین تھے بلکہ متحدہ مجلس علماء کے بانی اراکین میں شامل تھے ۔ موصوف مجلس کے ہر اہم اجلاس میں ذاتی طور شرکت کرکے وقتا فوقتاًقوم و ملت کو درپیش سنگین دینی و ملی مسائل پر اظہار خیال اور نمائندگی کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔ میرواعظ نے مرحوم کے انتقال کو ایک بڑا دینی اور علمی نقصان قرار دیتے ہوئے مرحوم کی خدمات خاص طور پر ترال میں دارالعلوم اور دارالبنات کے قیام اور اس کے ذریعہ تعلیمی مشن کی آبیاری کو ایک اہم کارنامہ قرار دیا ہے۔ادھر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے مرحوم کے دینی ، تبلیغی اور تدریسی خدمات کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی رحلت سے علاقہ کے لوگ بالخصوص اور اہلیان کشمیر بالعموم ایک ایسی معزز دینی شخصیت سے محروم ہوئے ہیںجن کا دل ہمیشہ دین و شریعت کی سربلندی اور اتحاد ملت کے فروغ کے لئے دھڑکتا رہتا تھا ۔مولانا مرحوم نے وادی میں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لئے ایک نمایاں کردار ادا کیا اور ایک دین دار معاشرے کی تعمیر کے لئے ہمیشہ برسر جدوجہد رہے ۔آغا نے کہا کہ مرحوم مولانا نور احمد ترالی ایک عالم دین اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی فہم و فراست کے مالک تھے جنھوں نے محراب و منبر سے ہمیشہ کشمیری قوم کے درد و کرب اور سیاسی خواہشات و جذبات کی عکاسی کی ہے۔انجمن علماء وائمہ مساجدجموں وکشمیر کے ایک بیان کے مطابق انجمن کے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی،سرپرست اعلیٰ مفتی محمد قاسم قاسمی امام وخطیب جامع مسجد کولگام، نائب امیر مفتی توصیف الرحمن قاسمی ،سکریٹری جنرل مفتی شیرازاحمد قاسمی مہتمم دارالعلوم رحمانیہ سلیالو ،ضلع صدر اننت ناگ مولانا محمد شفیع ترالی مہتمم دارالعلوم نورالقران سنگم، سکریٹری ضلع اننت ناگ حافظ بلال احمد رشیدی اورمفتی اعجازاحمد نے اپنے مشترکہ بیان میں مولانا نور احمد ترالی کی وفات پر خراج عقیدت پیش کیا ۔ ادھرجامعۃ الاخلاص ترال کشمیر کے سرپرست ڈاکٹر نثار احمد ترالی نے نور احمد ترالی کے انتقال پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ مرحوم ایک اعلیٰ پائے کے درویش صفت منش تھے۔ اس دوران ترا ل میں مقیم سکھ طبقے نے بھی موصوف کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقہ کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔