مضامین

مین اسٹریم پارٹیوں کے ناراض لیڈران سے بی جے پی کے رابطے

مین اسٹریم پارٹیوں کے ناراض لیڈران سے بی جے پی کے رابطے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے مجوزہ دورہ جموں سے پہلے پارٹی نے وادی میں اْن سیاسی کارکنوں اور لیڈران سے رابطہ قائم کرنے کا سلسلہ تیز کردیا ہے ، جو بی جے پی کو وادی میں اپنے پیر جمانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اس ضمن کئی لوگوں کو 25اگست کو امت شاہ سے براہ راست بات چیت کیلئے جموں مدعو کیا گیا ہے۔بی جے پی نے جموںو کشمیر میں اقتدار کی گدی پر فائز ہونے کیلئے اپنے ’’مشن44‘‘ ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کیلئے اْن تمام دھتکارے ہوئے سیاسی لیڈران سے رابطہ کرنا شروع کردیا ہے جنہیں اپنی پارٹیوں نے مینڈیٹ دینے سے انکار کردیاہے یا انہیں منڈیٹ دینے کے معاملے پر نظر انداز کیا گیا ہے۔بی جے پی نے وادی کشمیر میں ان اسمبلی حلقوں میں بھر پور طریقے سے لڑنے کی شروعات کی ہے جن میں مہاجر کشمیری پنڈتوں کا ووٹ بینک کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں پارٹی نے ان اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹ کا اثر زائل کرنے کیلئے مسلم ووٹ بینک کوتقسیم کرنے کی غرض سے ان با اثر سیاسی کارکنوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنی پارٹیوں سے ناراض ہیں۔اس ضمن میں گزشتہ دو دن کے دوران کم از کم چھ بااثر مسلم لیڈران سے رابط کیا جاچکا ہے جو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میںبحیثیت آزاد امیدوار الیکشن کے دوران مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بی جے پی نے بعض ایسے سیاستدانوں کو بھی پارٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی ہے ، جو اپنے اثر سے اسمبلی نشستوں کو جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی جانب سے جن ممکنہ امیدواروں کو منڈیٹ دینے کے معاملے پر نظرانداز کیاجاچکا ہے اور جن کا اپنے اپنے علاقوں میں کوئی اثر ہے اْن کے ساتھ بی جے پی نے براہ راست رابطہ کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ بھی رابطے مستحکم کئے جارہے ہیں، جن کا کچھ مخصوص علاقوںمیں عوامی حلقوں میں اثر دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے کئی ناراض اور رضامند افراد سے بات چیت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور آئندہ چند روز کے اندر بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔    وادی میں اب تک جن سیاسی کارکنان اور لیڈران سے بی جے پی نے رابطہ کیا ہے، انہیں 25اگست کو بھاجپا کے صدر امت شاہ کے جموں آمد کے موقعے پر اْن سے ملاقات کی دعوت دے دی گئی ہے تاکہ معاملات کو صحیح طریقے سے آگے بڑھانے میں آسانی ہوجائے۔  اطلاعات کے مطابق بھاجپا کے ریاستی صدر جگل کشور شرما کا کہنا ہے کہ پارٹی فی الوقت وادی میں کئی سینئر سیاسی کارکنوں اور لیڈروں سے رابطے میں ہے۔  ان کے مطابق بی جے پی نے ایسے کئی لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے جوبی جے پی کووادی کشمیر میں مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں‘‘۔ ان کے مطابق آنے والے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی وادی کشمیر کی آٹھ نشستوں پر جیت حاصل کرے گی اور اس کیلئے عنقریب مسلم کشمیری لیڈروں کی شمولیت منظرعام پر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی واضح پالیسی تینوں خطوں کو لیکر یکساں ہے اوریہ اس بات کی تصدیق امت شاہ کی جموں آمد پر ثابت ہوگی۔