سرورق مضمون

مین سٹریم جماعتوں کے آپسی تیکھے وارشروع

مین سٹریم جماعتوں کے آپسی تیکھے وارشروع

ڈیسک رپورٹ
ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہی والے ہیں اور اس کے بعد اسمبلی چناؤ بھی ہو نے والے ہیں۔ ان انتخابات کے تیاریوں میں سبھی مین سٹریم پارٹیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی پارٹیاں بھی لگی ہوئی ہیں۔ اس لحاظ سے ہر کوئی چاہیے وہ بڑی پارٹی ہو یا چھوٹی عوام کو اپنے حق میں رائے دینے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ اب مین سٹریم کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹیوں کا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کام شروع ہو گیا ہے اور ہر کوئی سیاستدان اپنے آپ کو عوام کا غمخوار اور دُکھ درد سمجھنے والا تصور کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف پارٹی پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید نے گذشتہ دنوں نیشنل کانفرنس کو ریاست جموں وکشمیرمیں موجودہ سیاسی عدم استحکام اور عدم تحفظ کے احساس کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی اس خطہ میں جمہوری اداروں کو پنپنے کا موقعہ نہیں دیا۔ مفتی محمد سعید نے کہا ’’1947سے2002تک نیشنل کانفرنس قیادت نے دھوکہ دہی کی سیاست سے ریاست میں جمہوری اداروں کو مسمار کردیا کیونکہ سیاسی عدم استحکام اس پارٹی کو راس آتا ہے اور اس کا وجود ہی افرا تفری اور انتشار پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے نہ صرف این سی کی بالادستی کو چیلنج کیا بلکہ اپنی عوام دوست پالیسیوں سے ریاست میں سیاسی مباحثہ ہی تبدیل کردیا۔مفتی محمد سعید نے کہا کہ یہ ان کی ہی کی خواہش تھی کہ ریاست میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے اور جموں و کشمیر کو ایک ماڈل اسٹیٹ کے طور پر پیش کیا جائے۔ جموں و کشمیر میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے پورے ملک میں ایک ماڈل اسٹیٹ بنانے کیلئے کافی ہیں تاہم بااعتبار قیادت کی ضرورت ہے جو نئی راہیں فراہم کرنے کے علاوہ ریاست میں نظر یہ ساز پالیسی متعارف کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی نے یہ دکھایا کہ قلیل وقت میں ہی انہوں نے نظام میں تبدیلی لائی اور سماج کے مختلف طبقوں کو یکساں حقوق فراہم کئے۔ لوگوں کو پی ڈی پی کے دور اقتدار کے دوران اس بات پر اعتماد ہونے لگا تھا کہ جوابدہ انتظامیہ موجود ہے۔لوگوں کو آئندہ پارلیمانی انتخابات میں تعاون فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت اچھے امیدواروں کو نامزد کریں۔
پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے بھی نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ پارٹی بدنظمی کا شکار رہا ہے اور پارٹی نے سیاسی مقاصد کے لئے تاریخی شہر کا استحصال کیا ہے۔ محبوبہ نے شہر کی خستہ حالی موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کا نتیجہ سے تعبیر کیا کیونکہ سرینگر ریاست کا گرمائی دارالخلافہ ہونے کے باوجود کسی جدید شہر کامانند نہیں لگتا،ہر سو افراتفری کا عالم ہے۔ محبوبہ نے کہا کہ 2010کے دوران پیدا ہونے والے نا مساعد حالات کا سب سے زیادہ اثر سرینگر شہر پر پڑا، عمر سرکارکی گولیوں کا نشانہ بننے والے اور جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئے ، ان میں سے بیشتر نوجوانوں کا تعلق شہر سے ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آٹھ ممبران اسمبلی اور ایک ممبر پارلیمان سرینگر کے مکینوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں نہ صرف چپی سادھے رہے بلکہ وہ حکومت کی کارروائیوں کو جواز مہیاکرنے میں مصروف رہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کی طرف سے متعارف شدہ چلی گرنیڈ اور پیلٹ گن کا نشانہ سب سے زیادہ شہر کے لوگ بنے۔ بالائے ستم یہ کہ حکمران ان ظالمانہ کارروائیوں کو عوام دوست قرار دے کر ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں، ملک میں ایسا کہیں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کو قانونی جواز مہیا کر کے حکمران حالات کو مزید پراگندہ کر نے کی مذموم حرکت کررہے ہیں، شہر کے نوجوانوں کو منشیات کے عادی، سنگ باز اور تنخواہ دار ایجنٹ قرار دے کر پشت بہ دیوار کر دیا گیا ہے۔محبوبہ نے کہا کہ سرینگر میں ترقیاتی سرگرمیاں نالیوں گلیوں کی تعمیر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جب کہ ملک کے دیگر ایسے شہرجن کی سرینگر کے مقابلہ میں تاریخی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے ، میں جدید طرز پر ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ردعمل میں ریاست کے وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے پی ڈی پی اور بی جے پی کو ایک ہی سکے کے دو پہلو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کا واحد ایجنڈہ عوام کو جذباتی بنیادوں پر تقسیم کرنا اور سماج میں نفرت کے بیج بو کر اقتدار حاصل کرنا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ڈی پی نے ریاست کے عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر کبھی بھی اُن کی حکومت کے ساتھ ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ عمر عبداللہ کے مطابق مفتی محمد سعید نے سال 2002 میں جب ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے قلمدان سنبھالا تو میں اُسے مبارک باد دینے گیا اور انہیں اپنی پارٹی کی طرف سے ریاست کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کیلئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور جب میں نے سال 2008 میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے قلمدان سنبھالا تو میں مفتی محمد سعید کی جانب سے کوئی لفظ سُننے کا انتظار کئے بغیر اُن کے پاس گیا اور ریاست کو تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے ، بے روز گاری اور دیگر مسایل کو حل کرنے کیلئے اُن کا تعاون طلب کرنے کیلئے اُن کے پاس گیا ۔ مفتی محمد سعید نے اگرچہ میری اس کاوش کو سراہا اور مجھے بھر پور تعاون کا یقین دلایا لیکن بدقسمتی سے ریاستی حکومت کو تعاون دینے کے بجائے مفتی سعید اور اُن کی پارٹی نے میری حکومت اور میرے خلاف جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ڈی پی کا صرف اور صرف ایک ہی ایجنڈہ ہے اور وہ کسی بھی طرح سے وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے اقتدار کے بھوکے لوگ تو دیکھے ہیں مگر پی ڈی پی جیسی اقتدار کی بھوکی اور اصولوں سے گری ہوئی کوئی جماعت نہیں دیکھی۔ ریاست کے خطوں اور متعدد طبقوں کے درمیان تناؤ پیدا کرنے اور امن خراب کرنے کیلئے بی جے پی بھی برابر کی ذمہ دار ہے ۔ بی جے پی کے رہنما سیاسی فایدہ اٹھانے کیلئے فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنے کے موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مخلوط سرکار میں شامل حریف جماعت کانگریس کے ساتھ پارلیمانی انتخابات کو لیکر کسی بھی طرح کی شراکت داری یا گٹھ جوڑ نہ کرنے کا اشارہ دیا۔ ڈاکٹر فاروق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پارلیمانی نشستوں کیلئے پارٹی کو اپنے امیدوار میدان میں اتارنے میں کوئی تذبذب نہیں ہے۔
ایک دوسرے پر تیکھے وار کرنے کی صلاحیت دونوں پارٹیوں کے پاس دیکھی جا سکتی ہے جبکہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس میں میدان کون آگے بڑھتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ تو دونوں پارٹیاں خوب سیاست کرنا جانتی ہیں اور عوام کو بے وقوف بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔