اداریہ

مین سٹریم جما عتوں کو دلی کا بلا وا
کیا کشمیر میں کچھ بدلنے والا ہے ؟

دفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کے بعد پہلی مر تبہ ایسا ہو ا ہے کہ جموں وکشمیر کی مین سٹریم سیا سی جما عتوں کو نریندر مو دی کی سر براہی والی مرکزی حکو مت نے نئی دہلی آنے کی دعوت دی ہے۔ان سیا سی جما عتوں کو یہ بُلا وا ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جموں وکشمیر کے حوالے سے افواہوں کا بازار کا فی گرم ہے اور جموں وکشمیر خاص کر وادی میں یہ افواہیں اُڑائی جا رہی ہیں کہ مرکزی حکو مت جموں و کشمیر کے حوالے سے کو ئی اور سخت گیر فیصلہ لینے والی ہے ۔کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ جموں کو ایک الگ ریا ست کا درجہ دیا جا ئے گا جبکہ دیگران کا کہنا ہے کہ کشمیر کو دو لخت کر کے آدھے حصے کو جموں صوبے کے ساتھ جبکہ آدھے کو لدا خ کے ساتھ جو ڑ دیا جا ئے گا ۔اس دوران قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منو ج سنہا نے ایک بھا رتی ٹیلی ویژن چینل کو اس حوالے سے دئے گئے ایک خصوصی انٹر ویو میں کہا کہ جموں وکشمیر کے مذید تقسیم کا معاملہ با لکل غلط اور بے بنیا د ہے اور اس حوالے سے اڑائی جا رہی افواہوں پر زیا دہ تو جہ نہیں دی جا نی چاہئے۔انہوں نے تا ہم کہا کہ حد بندی کے سوا کچھ بھی بڑ اہو نے والا نہیں ہے ۔مر کزی حکو مت جموں وکشمیر کے حوالے سے کچھ بھی کر ے تاہم یہ با ت عیاں ہے کہ کچھ تو ہو نے والا ہے ۔ لیفٹیننٹ گو رنر نے کل بھی نئی دہلی میں مر کزی وزارت داخلہ کے دفتر میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ ملا قات کی اور اس دوران بھی جموں وکشمیر کی تا زہ ترین صورتحال کا جا ئزہ لیا گیا ۔ایسے میں جب مر کزی حکو مت یہاں کی (پچھلے ایک دو سال سے غیر فعال ) مین سٹریم سیا سی جما عتوں کو دہلی آنے کی دعوت دے تو یہ با ت بلاخوف تر دید کہی جا سکتی ہے کہ مر کزی حکو مت کے ذہن میں کشمیر کے حوالے سے کچھ تو چل رہا ہے ۔نیشنل کا نفرنس کے صدر اور ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹر فا روق عبد اللہ نے کل ایک بیان میں کہا کہ انہیں ابھی تک دعوت نا مہ مو صول نہیں ہو ا ہے تاہم جب دعوت نامہ مو صول ہو گا تو وہ پیوپلز الائنس فا ر گپکا ر ڈکلریشن یعنی پی اے جی ڈی کے رہنما ئو ں کے ساتھ بیٹھ کر صلا ح و مشورہ کر یں گے اور یہ لا ئحہ عمل مر تب کر نے کی کو شش کر یں گے کہ دہلی جا کر انہیں جو کچھ بھی کر نا ہو گا اس پر پہلے سے ایک اتفاق را ئے پیدا کر دیا جائے تا کہ وہاں پہنچ کر پھر کو ئی فیصلہ لینے کے حوالے سے کو ئی اڑچنیں نہ ہوں ۔پی ڈی پی صدر محبو بہ مفتی نے دعوت نا مہ مو صول ہو نے کی تصدیق کر تے ہو ئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جا نب سے انہیں رواں ما ہ کی 24تا ریخ کو نئی دہلی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ وہاں پر کشمیر کے حوالے سے آگے کا لائحہ ٔ عمل مر تب کیا جا سکے۔ایسے میں سیا سی پنڈتو ں کا خیال ہے کہ حال ہی میں مین سٹریم جما عتوں کا جو اجلا س پی اے جی ڈی کے بینر تلے محبو بہ مفتی کی سر کا ری رہا ئش گا ہ پر ہو ا تھا اس میں این سی اور پی اے جی ڈی کی دیگر رُکن جما عتوں نے پی ڈی پی کو دفعہ370اور 35Aکی واپسی کی ضد تر ک کر کے اپنے مو قف اور رویے میں قدرے لچک لا نے کا مشورہ دیا تھا تاکہ جموں وکشمیر میں انتخابا ت کے حوالے سے مر کزی حکو مت کو فیصلہ لے اور یہاں کی مین سٹریم جما عتو ں کو کچھ کام دھندہ مل جا ئے ۔اس دوران ہو سکتا ہے کہ پی ڈی پی کے دیگر لیڈران نے بھی اپنی لیڈرشپ پر اس حوالے سے دبا ئو ڈالا ہو تب جا کر ہی یہاں کی مین سٹریم جما عتوں کو نئی دہلی کا بلا وا مو صول ہوا ہے اور اس میں دلچسپی والی با ت یہ ہے کہ پہلا دعوت نامہ پی ڈی پی کو ہی بھیج دیا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ 24جو ن کو نئی دہلی میں جموں وکشمیر کی سیا سی جما عتوں اور مر کز کے ما بین ہو نے والے مذاکرات میں کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے کیا فیصلہ لیا جا ئے گا ؟۔