سرورق مضمون

نئی حکومت کب تک؟

نئی حکومت  کب تک؟

ڈیسک رپورٹ
مفتی محمد سعید کی رحلت کے بعد ریاستی سرکار اب تک سنبھل نہیں پارہی ہے ۔ ریاست میں گورنر راج نافذہے ۔ منسٹروں سے ان کی گاڑیاں اور تمام اختیارات چھین لئے گئے ۔ کئی حلقوں کی کوشش تھی کہ محبوبہ مفتی اپنے باپ کی موت کے بعد ہی ان کی جگہ سنبھالے ۔ لیکن انہوں نے ماتم کے دوران ایسا کرنے سے انکار کیا ۔ اس وجہ سے ریاست میں آئینی تعطل پیدا ہوگیا اور گورنر راج نافذ کیا گیا ۔ مرکز سے پہلے رام مادھو اور بعد میں گڑکری نے کوشش کی کہ محبوبہ مفتی جلد از جلد نئی سرکار کی بھاگ ڈور سنبھالے ۔ لیکن تمام لیڈر اس محاذ پر ناکام رہے ۔ انہوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کیا ۔ اس وجہ سے سیاسی حلقوں میں سخت اتھل پتھل پائی جاتی ہے ۔بہت سے حلقے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ پی ڈی پی اس اتحاد کو فوری طور ختم کردے ۔ حکومت بننے میں جس قدر وقت لگایا جارہا ہے بی جے پی کے لئے پریشانیوں میں اتنا ہی اضافہ ہورہاہے ۔ اس سے سخت غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ پی ڈی پی تاحال کوئی دو ٹوک فیصلہ لینے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔ بی جے پی نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ اتحاد برقرار رہے گا ۔ لیکن پی ڈی پی کی اندورونی صفوں سے بھی اس اتحاد کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ اگرچہ حتمی فیصلہ لینے کا اختیار محبوبہ مفتی کو ہے ۔ تاہم انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے پارٹی کے تمام اسمبلی ممبروں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم میٹنگ ہونے کے بعد بھی کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوا نہ ہی مطلع صاف ہوا ، مطلب ابھی بھی کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا ۔
ریاست کے سیاسی حلقوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ بی جے پی نے پچھلے دس مہینوں کے دوران ریاستی سرکار کو کوئی تعاون نہیں دیا ۔ بی جے پی نے سرکار کے مشترکہ ایجنڈا پر کام کرنے کے بجائے اپنے مفادات کا زیادہ خیال رکھا ۔ اس وجہ سے دونوں پارٹیوں کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں۔اگرچہ دونوں پارٹیوں کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے کئی حلقے کوشش کررہے ہیں ۔ لیکن تاحال اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ ریاست میں جو سیاسی صورتحال بنی ہوئی ہے اس سے لگتا ہے کہ پی ڈی پی اب گھاٹے کا سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اشارہ دیا ہے کہ کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے وہ حکومت کے پچھلے دس مہینوں کی کارکردگیکا جا ئزہ لیں گی ۔ اس حوالے سے این سی لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتحادی سرکار کے پچھلے دس مہینے سراسر ناکامی کے دس مہینے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی حکومت پھر بنانا پی ڈی پی کی بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پی ڈی پی اس اتحاد سے الگ نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس اتحاد سے الگ ہونے کا مطلب مرحوم مفتی محمد سعید کی غلطیوں کا اعتراف ہوگا ۔ مفتی محمد سعید کی موت کے فوراََ بعد حکومت میں دیری لگنے کے حوالے سے کئی لوگوں نے یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ بی جے پی نے اپنے کچھ نئے مطالبے پیش کئے ہیں ۔ ان افواہوں کے مطابق بی جے پی ریاست میں کئی اہم وزارتوں کا مطالبہ کررہی تھی ۔ لیکن بی جے پی کے مرکزی رہنمائوں نے ایسے کسی مطالبے سے سرے سے انکار کیا ۔ انہوں نے ان افواہوں کو غلط قراردیا اور پی ڈی پی کے ساتھ پہلے سے طے ہوئے ایجنڈا کے مطابق محبوبہ مفتی کی سربراہی میں حکومت بنانے کا اعلان کیا ۔ لیکن اس دوران پی ڈی پی لیڈراور ترجمان نعیم اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ محبوبہ جی حکومت بنانے سے پہلے مشترکہ ایجنڈا پر اب تک ہوئے کام کا جائزہ لینا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے اعلانیہ کہا کہ اس ایجنڈا پر اب تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ اس حوالے سے انہوں نے پاور پروجیکٹوں کی واپسی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ کام اب سے بہت پہلے ہونا چاہئے ۔ لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ اس طرح سے بی جے پی کے بجائے پی ڈی پی کی طرف سے کئی نئے مطالبے سامنے آئے ۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ کانگریس کی خواہش ہے کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے ۔ اگرچہ پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے ایسے کسی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کیا ۔ تاہم کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کا مفتی سعید کی موت پر سرینگر آکر تعزیت کرنے کا یہی معنی لیا جارہاہے ۔ اس بارے میں زیادہ تفصیل سامنے نہ آ گئی ۔ تاہم کئی حلقے اس کو حکومت سازی میںتعطل ہونے کا سبب بتارہے ہیں ۔ وجہ کچھ بھی ہو ایک بات واضح ہے کہ حکومت سازی کا مسئلہ آہستہ آہستہ پیچیدہ بنتا جارہاہے ۔ تاہم سیاسی میں کچھ بھی ممکن ہے یعنی ہر کچھ ممکن ہے اور اس لحاظ سے یہ بتانا مشکل ہے کہ اگلی حکومت کب تک بن سکتی ہے؟