نقطہ نظر

نئی دہلی میں افریقی طلباء کا قتل

کلدیپ نائر
موجودہ ماحول جو ملک پر طاری ہے اس میں ہرچیز سیاست زدہ ہو گئی ہے، خواہ یہ مشکوک سودے (ڈیلز) ہوں یا افریقی طلبا پر نسل پرستوں کے حملے۔ بدقسمتی سے سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ ان کے داماد رابرٹ واڈرا پر نکتہ چینی سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے جس کا مقصد کانگریس پارٹی کو زک پہنچانا ہے جس کی وہ سربراہ ہیں۔ اپنے خاندان کے لیے ان کی محبت کی وجہ سے انھوں نے حقائق سے روگردانی کی ہے۔ واڈرا نے اراضی کی دستاویز میں تبدیلی کر لی جب ہریانہ میں کانگریس اقتدار میں تھی۔
یہ اراضی گْرگاؤں میں عوامی مفاد کے نام پر حاصل کی گئی تھی۔ اس وقت کی ریاستی حکومت نے یہ اراضی واڈرا کو دیدی جس نے اسے تعمیراتی گروپوں کو فروخت کر کے کروڑوں روپے کمائے۔ آئی اے ایس کے ایک جرات مند افسر اشوک کھیمکا نے حقائق کو آشکار کر دیا لیکن اس کی پاداش میں اس کو سزا کے طور پر بار بار تبادلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اب یہ معاملہ دوبارہ نظروں کے سامنے آ گیا ہے کیونکہ واڈرا کا ایک اسلحہ ڈیلر کے ساتھ لندن میں رابطے کا انکشاف ہوا ہے جہاں پر واڈرا نے ایک گھر بھی بنا رکھا ہے۔ تاہم واڈرا اور سونیاگاندھی دونوں نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے جب کہ سونیا نے ایک غیرجانبدار اور آزادانہ انکوائری کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اب کوئی رخنہ اندازی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کے ناقدین بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کو اپنی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) مقرر کرنی چاہیے جو سارے معاملے کی چھان بین کرے۔ یہ تحقیقات صرف واڈرا کی اراضی کے سودے تک محدود رہنی چاہیے اور اس میں کوئی اور چیز شامل نہیں کی جانی چاہیے تا کہ تحقیقات کم سے کم وقت میں مکمل ہو جائے۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے وزیر مالیات ایکناتھ کھادسے اور اس کی فیملی کا اراضی کا ایک سودا (ڈیل) منظرعام پر آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اراضی ایک ایسی جنس بن چکی ہے جسے سیاسی پارٹیاں اپنے اراکین میں تقسیم کرتی ہیں جس کا تعین پارٹی لیڈر کے ساتھ ان کی وفاداری کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔
ایک بات جو ساری سیاسی پارٹیوں میں مشترک ہے خواہ ان کے نظریات جو بھی ہوں ساری کی ساری برابر کی قصور وار ہیں۔ جب کانگریس اقتدار میں ہوتی ہے تو یہ اپنے اراکین کو فائدہ پہنچاتی ہے اور جب بی جے پی مسند اقتدار سنبھالتی ہے تو وہ اپنی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کام زیادہ تر ریاستوں میں ہوتا ہے کیونکہ اراضی کی ملکیت اب ریاستی امور میں گردانی جاتی ہے۔ مرکز بھی قومی مفادات کے بہانے اپنا کام نکالتا ہے لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بہانے دھونس یا دھمکی سے زیادہ سے زیادہ اراضی پر قبضہ کر لیا جائے۔
وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاندھی اور بدھا کی سرزمین پر کوئی نسلی امتیاز نہیں ہے جب کہ ان کا یہ بیان بڑا عجیب ہے کیونکہ حال ہی میں افریقی طلباء پر حملے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم دنیا میں سب سے زیادہ نسل پرست ملک ہیں اور ہمیں سنجیدگی سے اس امتیازی سلوک کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ افریقی طلباء کے ترجمان کا یہ بیان کہ بھارتی لوگ افریقیوں کو پسند نہیں کرتے حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ ہمارے دماغ پر سفید چمڑی والے چھائے ہوئے ہیں جس کا ہمیں تحریک آزادی کے دوران بھی تجربہ ہوا۔ جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد فیصلہ کیا تھا کہ بھارت کے تعلیمی اداروں کو افریقی طلباء کے لیے کھول دیا جائے۔
ان کو امید تھی کہ انھی طلباء میں کل کو اپنے ملک جا کر کوئی چوٹی کا مقام حاصل کر لے گا اور یوں بھارت کو فائدہ پہنچا سکے گا۔ ان کا یہ اندازہ درست تھا کیونکہ واقعی بھارت میں تعلیم حاصل کرنے والے کئی افریقی طلباء نے اپنے ملک میں جا کر حکومتوں کی سربراہی سنبھال لی۔ نہ صرف یہ بلکہ افریقہ کے سب سے ممتاز لیڈر نیلسن منڈیلا نے ذاتی طور پر نہرو کا شکریہ ادا کیا کیونکہ انھوں نے جنوبی افریقہ کی سفید فام نسل پرست حکومت کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ جب میں نے کئی سال پہلے کیپ ٹاؤن میں منڈیلا کا انٹرویو کیا تو ان کا کہنا تھا کہ گاندھی اور نہرو ان کے آئیڈیل ہیں جنہوں نے ایک گولی چلائے بغیر انگریزوں کو شکست دیدی۔ افریقہ کے لوگ بھارت کے بارے میں جو عقیدت اور احترام رکھتے تھے وہ نہ صرف نمایاں نظر آتا تھا بلکہ حقیقی بھی تھا۔
مجھے اس بات پر بہت دھچکا لگا جب کانگو سے تعلق رکھنے والے طلباء کو دہلی کی ایک اسٹریٹ میں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بات کہ بھارتی لوگ رنگ و نسل میں امتیاز برتتے ہیں میرے لیے باعث حیرت نہیں حتیٰ کہ آج بھی ہم کسی خوبصورت عورت کو دیکھتے ہیں تو اسے ’’میم‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب گوری رنگت والی ہوتا ہے۔ کوئی سفید فام نظر آ جائے تو ہم معمول سے ہٹ کر اس کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سیاہ فام کو جھڑک دیتے ہیں۔ یہ روایت اس وقت سے جاری ہے جب انگریز ہم پر حکومت کرتے تھے۔
مجھے یاد آتا ہے جب میں ایف سی کالج لاہور میں پڑھ رہا تھا تو تاریخ کے ایک پروفیسر نے جس کا تعلق جنوبی ہند سے تھا یہ شکایت کی کہ جب اس کے سفید فام کولیگ کی بیوی وہاں سے گزرتی ہے تو سارے طلباء جھک کر اسے سلام کرتے ہیں لیکن اگر میری بیوی اس طرف آ جائے تو کوئی اسے دیکھتا بھی نہیں۔لگتا ہے کہ ہندو معاشرے میں رنگ و نسل کا تعصب ازمنہ قدیم سے جاری ہے۔
سادھو سنت لوگ اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ لارڈ کرشنا کالے رنگ کے تھے لیکن اس کے باوجود ہندوؤں کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ حتیٰ کہ آج بھی وہ سب سے زیادہ رنگ و نسل کے قائل ہیں۔ اگرچہ اقتصادی ترقی نے تھوڑا فرق پیدا کیا ہے اور ممکن ہے کہ مغربی لوگوں کی زیادہ توقیر کی وجہ بھی یہی ہو کہ وہ اقتصادی طور پر ہم سے بہت بہتر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سفید فاموں کی ڈیڑھ سو سالوں سے زیادہ عرصے تک ہم پر حکومت نے ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ مزید برآں ان ڈیڑھ سو سالوں کی تاریخ جس انداز میں لکھی گئی ہے اس نے بھی ہمیں خوداعتمادی سے محروم رکھا ہے۔
جب میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا تو بہت اونچی حیثیت کے برطانوی لوگ اکثر مجھ سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا یہ سچ ہے کہ تمہارے لوگ چاہتے ہیں کہ ہم دوبارہ حکومت کرنے کے لیے واپس ہندوستان چلے جائیں؟ میں یہ جواب دیتا تھا کہ چونکہ ہماری بری حکمرانی سے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں کی حکمرانی بہت اچھی تھی لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ چاہتے ہوں کہ انگریز دوبارہ ان پر راج کرنے آ جائیں۔
بھارت پر بہت سے لوگوں نے حکمرانی کی اور ملک کا نظم و نسق چلایا۔ ان میں انگریز بھی شامل تھے کہ جنہوں نے اچھی حکمرانی کی یا بری یا ملی جلی حکمرانی‘ اس بات کا فیصلہ بھارتی عوام ہی کر سکتے ہیں اور ایک حساب سے انھوں نے کیا بھی ہے کہ آزادی کے بعد انھوں نے انگریزوں والا پارلیمانی نظام قائم کیا نہ کہ صدارتی نظام۔ اس بات کو اب 70 سال گزر چکے ہیں لیکن آج ہم محسوس کرتے ہیں کہ صدارتی نظام حکومت زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ اس میں ایک شخص بااختیار ہوتا ہے جو اپنی حکومت کے مستقبل کی منصوبہ بندی زیادہ بہتر حالات میں کر سکتا ہے نیز اس کی مدت بھی طے ہوتی ہے۔ اگر بھارت میں صدارتی نظام حکومت ہوتا تو اس میں زیادہ شفافیت ہوتی اور اراضی کے سودوں کے اتنے سکینڈل نہ بنتے اور نہ ہی اتنا نسلی تعصب اور امتیاز ہوتا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)