اداریہ

نئی دہلی میں کشمیری سیاستدانوں کی طلبی
بکھرے پتوں کا بھی کو ئی وزن ہو تا ہے ؟

24جون کو جموںو کشمیر کی سبھی سیاسی جما عتوں کے لیڈران کو مر کزی حکو مت نے نئی دہلی با ت چیت کے لئے طلب کر لیا اور بات چیت سے قبل جموں و کشمیر کے اندر طرح طرح کی چہ مہ گوئیاں کی جا رہی تھیں اور بعض حلقے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ شائد جموں و کشمیر کو ریا ست کا درجہ پھر سے ملے اور کچھ لوگوں نے تو یہ کہہ کر حد ہی کر دی کہ مر کزی حکو مت دفعہ370اور35Aکو بحال کر رہی ہے اور شائد اسی لئے یہاں کی مقامی سیا سی لیڈرشپ کو نئی دہلی طلب کیا گیا ہے۔5اگست2019ء کو دفعی 370اور35Aکی منسوخی اور سابق ریا ست جموں و کشمیر کو دولخت کر کے اسے دو مر کزی زیر انتظام علا قوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد یہ پہلا مو قعہ تھا جب کشمیر کی مین سٹریم سیا سی جماعتوں کو مر کزی حکو مت نے تھوڑا سا وزن دے کر انہیں با ت چیت کیلئے نئی دہلی طلب کیا تھا ۔دعوت ملتے ہی یہاں کی سیا سی جماعتوں میں ایک اضطرابی اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی اوران پارٹیوں نے کسی سنجیدہ مشاورت کے بغیر نئی دہلی جا نے کے لئے لنگر لنگو ٹا کسنا شروع کر دیا ۔ان پا رٹیوں کے لیڈران نے بھی افواہوں کو سچ ما ن کر کوئی مشترکہ لا ئحہ عمل مر تب کر نے کی زحمت گوارا نہیں کی اور مشتر کہ لا ئحہ عمل کو ویسے یہ لو گ کر تے بھی کیا کیونکہ یہ لوگ پیپلز الائنس فار گپکا ر ڈکلر یشن کے دکھا وے کے پلیٹ فارم پر جمع ہو نے کے با وجود کسی ایک نکتہ پر کہیں جمع نہیں ہیں۔شائد کا فی ساری وجوہات کے بیچ یہ بھی ایک بڑ ی وجہ ہے کہ نئی دہلی نہ کبھی ان لوگوں کے اوپر کسی طرح سے بھروسہ کر تی ہے اور نا ہی انہیں زیا دہ سنجید گی سے لیا جا تا ہے ۔گزشتہ ستر سالوں کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے لیلا ئے اقتدار کے بھو کے حکمران کبھی بھی ایک مو قف پر زیا دہ دیر ٹک نہیں پا ئے ہیں اور جن سیاسی لیڈران کے با پ دادا برسوں کی جد و جہد کو ’’سیاسی آوارہ گردیـ‘‘ کا نام دے کر اقتدار کی کر سی کو گلے لگائیں ،ان سے کیسے اس با ت کی تو قع کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی مسئلہ پر کا فی دیر تک اپنا ایک ہی مو قف رکھیں ۔نئی دہلی کی لیڈرشپ اس اعتبا ر سے شابا شی کی مستحق ہے کہ انہوں نے فن ِ نبا ضی میں کا فی مہا رت حاصل کی ہوئی ہے اور کشمیر کے حوالے سے تو وہ یہ با ت بہت اچھی طرح سے جا نتے ہیں کہ کشمیر کے مین سٹریم سیا ستدان ’’وادیاں میرا دامن ،راستے میری با ہیں ‘ ‘ والے گا نے کے مصداق جہاں کہیں بھی جا ئیں واپس تو انہیں دلی کی چوکھٹ پر ہی آنا ہے۔ہاں وہ اتنا کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا کاسۂ گدائی بدل لیں مگر بھیک تو وہ دلی کی چوکھٹ پر ہی ما نگیں گے ۔نئی دہلی نے انتہا ئی حاضر دما غی کے ساتھ اب کی با ر بھی یہاں کے سیا ستدانوں کو اپنے مفادات کی لڑ ی میں پرو تے ہوئے نئی دہلی تک کھینچ لایا اور پھر وہاں ان کے سامنے ایک ایسی ہڑی رکھ لی کہ نہ اُگلے بنے اور نہ نگلے ۔ایسا نہیں ہے کہ ان سیا ستدانوں کو وزیر اعظم سے ملنے سے یکسر انکا ر کر نا چاہئے تھا بلکہ اگر انہوں نے تھوڑا سا ’ہو م ورک‘ کر کے مذاکرات میں شمولیت کی خاطر چند شرائط رکھ لی ہو تیں تو شائد نئی دہلی پر تھوڑا سا اثرہو جا تا اور وہ میٹنگ کے ایجنڈے میں تھوڑا بہت تبدیلی لا تے ۔پی اے جی ڈی کے نام پر جموںو کشمیر کے عوام کو سبز با غ دکھانے والے ان نا عاقبت اندیشوں کے اتحاد کا حال یہ ہے کہ میٹنگ ختم ہو تے ہی یہ لوگ اپنا اپنا الگ راگ الاپنے لگے اور ایک مشترکہ بیان بھی ان سے نہیں ہو سکا۔یہ لو گ یہاں سے ایک ساتھ تو نکلے مگر نئی دہلی نے انہیں اس قدر بے وقعت کر دیا کہ ایک ساتھ واپس آنے کی ان میں جرأت بھی نہ ہو ئی ۔