سرورق مضمون

نئی ریاستی اسمبلی کا پہلا سیشن / بجٹ اجلاس ہنگامہ خیز رہنے کی امید/ گورنر کے ایڈرس میں افسپا اور مذاکرات کا ذکر

ڈیسک رپورٹ
ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے ہی دن سخت شوروغل دیکھنے کو ملا۔ اس اجلاس میں آگے جاکر بھی ہنگامہ آرائی کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے۔ اپوزیشن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور کئی ایسے ایشو اٹھائے گی جن سے حکومت کی دفاعی پوزیشن پر جانا یقینی ہے۔ اس حوالے سے سیلاب زدگان کی بحالی کا مسئلہ خاص طور سے اٹھانے کی امید ہے۔ حکومت کی پوزیشن اگرچہ مضبوط ہے ۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ این سی کئی آزاد امیدواروں کی مدد سے حکومت کو پریشان کرنے کی کوشش کرے گی۔اس کے لئے پہلے ہی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے۔ این سی کے علاوہ کانگریس نے بھی لنگوٹے کس لئے ہیں۔ ان کے ممبران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بہت سے ایسے مسائل اٹھائے گے جس سے حکومت کے کمزور پڑنے کا امکان ہے۔
اسمبلی سیشن کے پہلے روز سب سے سینئر رکن اور این سی لیڈر محمد شفیع اوڑی کو کارگزار اسپیکر کے طور مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تمام ممبران سے حلف لینے کی رسم پوری کی۔ حلف لینے والوں میں وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اور این سی صدر عمرعبداللہ خاص طور سے نمایاں رہے ۔ اس کے بعد نئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ یہ عہدہ بی جے پی کے حصے میں آیا ۔ اس کے لئے کویندر گپتا کا نام تجویز کیا گیا اور گپتا بغیر کسی مقابلے کے موجودہ اسمبلی کے اسپیکر چن لئے گئے۔ اس کے بعد ضابطے کی کاروائی شروع کئی گئی ۔جس کے تحت گورنر این این ووہرا نے اسمبلی سے خطاب کیا۔ اپوزیشن ممبران نے گورنر کے خطاب کے دوران کئی بار شور و غل کیا اور اس میں رخنہ دالنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود گورنر نے اپنا خطبہ جاری رکھا اور اس کو آخر تک پڑھتے رہے ۔ گورنر کے خطبے میں کئی سرکاری پالیسیوں کا ذکر کیا گیا ۔ خاص طور سے افسپا قانون کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے اور ریاست میں امن و امان بحال کرنے کی یقین دہانی کی گئی۔ اسی طرح ریاست میں قائم کئی پاور پروجیکٹ مرکز سے حاصل کرنے کی بھی بات کہی گئی۔ یہ دونوں ایسے ایشو ہیں جو حکمرا ن جماعت پی ڈی پی کاعوام سے کئے گئے وعدوں پر مبنی ہیں۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پی ڈی پی نے گورنر کے ایڈرس میں اپنے مدعوں کو لانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ پہلے مرحلے پر لگتا ہے کہ پی ڈی پی کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ ان دو مدعوں پر پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان سخت تنائو پایا جاتا تھا۔ لیکن یہ تنازع کسی حد تک ختم ہوگیا ہے اور دونوں نے مشترکہ اسٹریٹجی بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سیشن کی خاص بات وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا بجٹ ہے ۔ لوگوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ نیا بجٹ یہاں پائے جانے والے بحران کو قابو کرنے کے لئے کونسے اقدامات کرے گا ۔ وزیرخزانہ کے ساتھ سخت امیدیں ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا بجٹ انقلابی اقدامات پر مبنی ہو ۔ خاص طور سے سیلاب زدگان کی بحالی کا کام ایک بڑا مدعا بنا ہوا ہے ۔ اپوزیشن اس مسئلے کو لے کر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرہی ہے ۔ ادھر وزیراعلیٰ نے بھی اس مسئلے کو اہم قرار دیا ہے اور تمام لوگوں کو اس پر اتفاق سے کام کرنے کی اپیل کی ہے ۔ ان باتوں سے لگتا ہے کہ اسمبلی کا یہ سیشن بہت ہی دلچسپ اور ہنگامہ خیز ہوگا ۔