سرورق مضمون

نئی سرکار کا پہلااسمبلی اجلاس/ سالانہ بجٹ پیش ، ملا جلا ردعمل

نئی سرکار کا پہلااسمبلی اجلاس/ سالانہ بجٹ پیش ، ملا جلا ردعمل

ڈیسک رپورٹ
3o مئی کو وزیر خزانہ حسیب درابو نے سال 2016-17 کا سالانہ بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔ اس سے پہلے اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے گورنر نے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ اس کے بعد جب وزیر خزانہ نے اپنا بجٹ خطاب شروع کیا تو اس موقعے پر بھی اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی۔ اپوزیشن نے پچھلے مہینے ہندوارہ میں ہوئی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کی مانگ تھی کہ اس حوالے سے پولیس کی طرف سے ایک طالبہ کے مبینہ طور جبری بیان اور اس بیان کے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر جاری کرنے پر وزیراعلیٰ بیان دے۔ تاہم حکومت نے اس احتجاج کو خاطر میں نہ لایا۔ جس کے بعد اپوزیشن نے واک آوٹ کیا جبکہ احتجاج کرنے پر آزاد اسمبلی رکن انجینئر رشید کو زبردستی باہر نکالا گیا۔ اس کے بعد جو بجٹ تقریر سامنے آئی اس میں کئی نئے ٹیکس تجویز کئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ نئے منصوبے بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ بجٹ پر مختلف حلقوں کی طرف سے متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ اپوزیشن نے اسے غریب کش بجٹ قرار دیا ہے۔ اسی طرح کئی حلقوں نے اسے غیر متوازن بجٹ قرار دیا۔ تجارتی حلقوں نے بجٹ کی سخت مخالفت کی ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس کے علاوہ جموں سے بھی اطلاع ہے کہ وہاں کے تجارتی حلقوں نے بجٹ میں لگائے جانے والے نئے ٹیکسوں کو واپس لینے کی مانگ کی ہے اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ البتہ سرکاری حلقوں کے علاوہ کشمیر ہائوس بوٹ اونرس ایسوسی ایشن اور ملازم طبقے نے ان کے لئے دی گئی مراعات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔
بجٹ میں کل 1,32,307 کروڑروپے کی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ پچھلے بجٹ سے 14 فیصد زیادہ ہے ۔ اسی طرح اس سال کے لئے 64,669 کروڑ روپے کا خرچہ تجویز کیا گیا ہے ۔ یہ خرچہ پچھلے سال سے 25.2 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ میں عوامی ضرورت کے تین بنیادی محکموں پاور ، تعلیم اور صحت عامہ کے لئے خرچہ جات میں پچھلے سال کی نسبت اضافہ کیا گیا ہے ۔ جبکہ ہوم ڈپارٹمنٹ کے علاوہ انجینئر نگ محکموں کے اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ بجٹ میں ریاست کے لئے واٹر ریسورس کا ایک نیا محکمہ وجود میں لانے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ اس محکمے کے ذمے ریاست میں پائے جانے والے پانی کے قدرتی ذخائر کی دیکھ ریکھ اور ان کی حفاظت ہوگی۔ یہ محکمہ جھیلوں اور دریائوں کی حفاظت بھی کرے گا ۔ اسی طرح بجٹ میں غریبی کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔اس تجویز پر عمل درآمد اگلے سال سے ہوگا۔ بہت سی چیزوں جن میں موبائل فون اور ریڈی میڈ گارمنٹس شامل ہیں ، ویٹ کے تحت ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ کئی چیزوں جیسے ریشم ، کاٹن وغیرہ پر ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ بجٹ میں ملازمین کے لئے مہنگائی بھتہ کی ایک اور قسط واگزار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ خواتین کے لئے کئی نئی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ ابھی پاس ہونا باقی ہے ۔ تاہم بجٹ تجاویز کے حوالے سے پہلے ہی حکومت نے کئی احکامات جاری کئے۔ اس پر سیخ پا ہوکر اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سخت احتجاج کیا۔ انہوں اس طرح کے احکامات جاری کرنا اسمبلی کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا ۔ بعد میں اسمبلی کے اسپیکر نے ان احکامات کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا ۔
وزیرخزانہ کا یہ دوسرا بجٹ ہے۔ جبکہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں قائم سرکار کا یہ پہلا بجٹ ہے۔ اس سے پہلے حسیب درابو نے اپنا پہلا بجٹ مرحوم مفتی محمد سعید کی موجودگی میں پیش کیا تھا ۔ اب مفتی سعید اس دنیا میں نہیں ہیں۔ درابو نے اپنی بجٹ تقریر میں مفتی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کے اس خراج عقیدت کے ردعمل میں اپوزیشن نے عوام دشمن بجٹ کو مفتی کے لئے انسلٹ قراردیا۔ بجٹ ریاست کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا یا نقصان دہ ، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے ۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ بجٹ سے بازار پر کیا اثرات پڑیں گے اس بارے میں ابھی منظر نامہ واضح نہیں ہے۔ بازار پہلے ہی کافی مہنگے ہوگئے ہیں۔ غریب عوام کے لئے زندگی گزارنا پہلے ہی مشکل ہے۔اسی طرح روزمرہ کی ضروریات پورا کرنا دشوار ہورہاہے۔ سرکار عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب نہیں دکھائی دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری کی زندگی سخت مشکلات کی شکار ہے ۔