سرورق مضمون

نئے اراضی قانون پرتنازعہ، بی جے پی خوش ، اپوزیشن نالاں/ ہم ہر محاذ پر لڑیں گے (عمر)، طاقت ہے تو مرکز چین کے خلاف لڑے (محبوبہ )

سرینگر ٹوڈےڈیسک
27 اکتوبر کے تاریخی دن پر ہندوستانی فوج نے کشمیر میں قدم رکھ کر اس کو ہندوستان کا حصہ بنایا ۔ آج ایک بار پھر اس دن کو اہم بناتے ہوئے مرکزی سرکار نے نیا اراضی قانون نافذ کیا ۔ نئے قانون کے مطابق ہندوستان کا کوئی بھی شہری جموں کشمیر میں اراضی خرید کر یہاں کا شہری بن سکتا ہے ۔ اس طرح سے اس قانون کو ختم کیا گیا جو ڈوگرہ راج میں نافذ کیا گیا تھا ۔ ڈوگرہ حکومت نے مقامی پنڈتوں اور ڈوگروں کے مطالبے پر قانون بنایا تھا کہ جموں کشمیر کے پشتنی باشندوں کے بغیر یہاں کوئی زمین خرید سکتا ہے اورنہ نوکری حاصل کرنے کا حقدار ہوگا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں پنجاب سے کئی قابل اور ذہین لوگ یہاں کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات کئے گئے تھے ۔ اس سے پنڈتوں کو لگا کہ سرکاری اداروں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں رہے گی ۔ اس پر انہوں نے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ غیرریاستی باشندوں کو کشمیر کی زمین خریدنے اور یہاں کا شہری بننے سے روکا جائے ۔ اس وقت کی حکومت نے اس مطالبے کو منظور کیا اور مستقل شہریت کا قانون بنایا ۔ ملک جب آزاد ہوا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے مبینہ طور ہندوستان کے ساتھ رہنے کا الحاق کیا۔ بعد میں جب ہندوستان کا آئین بن گیا تو کہا جاتا ہے کہ جواہر لعل نہرو کی مداخلت پر مہاراجہ کے زمانے سے چلے آئے قانون کو بحال رکھا گیا اور آئین کی دفعہ 370 کے تحت اس حیثیت کو بحال رکھا گیا ۔ اس دفعہ کے تحت جموں کشمیر کو الگ آئین اور الگ جھنڈے کا حق ملا اور یہاں کے پشتنی باشندوں کے بغیر کوئی اراضی خرید نہیں سکتا ۔ ہندوستان کے بہت سے حلقے خاص کر ہندو بنیاد پر ست اس فیصلے سے خوش نہیں تھے ۔ انہوں نے ایک پردھان ایک نشان کے تحت مہم چلائی اور کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تاکہ جموں کشمیر کی اراضی کو کوئی بھی ہندوستانی شہری خرید سکے ۔ مرکزی سرکار نے پچھلے سال یہ مطالبہ تسلیم کیا اور جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ۔ دونوں حصے دہلی کے زیر انتظام علاقے قرار دئے گئے ۔ اس وقت سے لے کر کئی طرح کے نئے قانون بنائے گئے ۔ مستقل باشندگی کا قانون ختم کیا گیا ۔ اب منگلوار کو اعلان کیا گیا کہ جموں کشمیر کی اراضی کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے ۔ اس قانون کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب جموں کشمیر کا کوئی بھی شہری ملک کے کسی حصے میں اراضی خرید سکتا ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں ۔
نئے اراضی قانون پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ الائنس پر گپکار ڈیکلریشن نے اعلان کیا ہے کہ اس قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے خلاف مہم چلائی جائے گی ۔ قانون سامنے آنے کے اگلے روز جو بیانات سامنے آئے ان سے لگتا ہے کہ مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈر اس سے سب سے زیادہ ناراض ہیں ۔ حال ہی میں تشکیل دئے گئے پیپلز الائنس نے قانون کو تسلیم کرنے سے انکارکیا ہے ۔ اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون عوام کے خلاف ایک بڑا حملہ ہے ۔ الائنس کے ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اس قانون کے خلاف ہر جگہ صف آرا ہونگے اور اس کو منسوخ کرنے کی ہم ہر کوشش کریں گے ۔ پی ڈی پی نے اس قانون کے نفاذ کے خلاف سرینگر میں احتجاج کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنایا جس کے بعد مبینہ طور پارٹی کے صدر دفتر پر تالا چڑھایا گیا ۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسے غنڈہ گردی قرار دیتے ہوئے ایک سخت بیان دیا ۔ محبوبہ نے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے نہتے لوگوںکو تنگ کرنے کے بجائے حکومت لداخ جاکر وہاں چین کے قبضے والے علاقے کو چھڑائے ۔ اس سے پہلے محبوبہ مفتی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کشمیر کا اپنا جھنڈہ منسوخ ہونے کے بعد وہ اس وقت تک ملک کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گی جب تک کشمیر کو خصوصی درجہ واپس نہ کیا جائے ۔ ان کے مشورے پر پیپلز الائنس نے جموں کشمیر کے ایک وقت کے سرکاری جھنڈے کو اتحاد کا جھنڈہ قرار دیا ۔ ان لیڈروں نے دھمکی دی ہے کہ وہ مرکزی کے اس فیصلے کے خلاف مہم چلائیں گے ۔ ادھر بھیم سنگھ نے بھی اعلان کیا کہ وہ نئے اراضی قانون کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف سے اس حوالے سے رجوع کریں گے ۔ اسی دوران اپنی پارٹی کے رہنمائوں نے اراضی قانون کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اپنی پارٹی جس کو دہلی سرکار کا حامی بتایا جاتا ہے پیپلز الائنس کا حصہ نہیں ہے ۔ پارٹی سربراہ الطاف بخاری نے اس قانون پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مہاجر کشمیری پنڈتوں نے اس قانون پر ناخوشی کا اظہار کیا ۔ کشمیر کے یہ پنڈت نوے کی دہائی میں کشمیر میں عسکریت کے خوف سے بھاگ کر ملک کے مختلف حصوں میں آباد ہوگئے ۔ اس پورے وقت میں ان کی کوشش رہی کہ کشمیر کے خلاف سخت موقف اختیار کرکے یہاں مذہبی بنیاد پرستی کا مقابلہ کیا جائے ۔ ان پنڈتوں کو ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ۔ انہیں بی جے پی کے خاص حمایتی قرار دیا جاتا ہے ۔ تاہم انہوں نے آج اراضی قانون کے نافذ کئے جانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اسی طرح کانگریس نے اس اراضی قانون کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بیان جاری کیا ہے ۔ عوامی حلقوں میں اس پر سخت مایوسی کا اظہار کیا جاتا ہے ۔جموں کے بہت سے حلقوں میں بھی اس پر مایوسی پیدا ہونے کی اطلاع ہے ۔ اسی طرح لداخ کے بہت سے حلقے اس قانون پر اپنے طور ناخوش ہونے کا اعلان کررہے ہیں ۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے لداخ ہل کونسل کے لئے ہوئے انتخابات میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی ۔ لداخ کے عوام کے اس فیصلے پر بی جے پی کے بہت سے لیڈروں نے خوش ہوکر انہیں مبارکباد دی ۔ تاہم آج وہاں اس فیصلے پر کئی حلقوں کے احتجاج کرنے کی اطلاع ہے ۔ بی جے پی کے جموں کشمیر یونٹ نے نئے اراضی قانون کے نفاذ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم جماعتیں اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لئے اس کے خلاف مہم چلارہی ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مہم کو عوام کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کریں گے ۔