سرورق مضمون

نئے انتظامی یونٹوں کااعلان ، جموں ایک بارپھر کشمیر سے آگے

نئے انتظامی یونٹوں کااعلان ، جموں ایک بارپھر کشمیر سے آگے

ڈیسک رپورٹ
کئی روز کی ہاں اور نا ں کے بعد ریاستی سرکار نے ساڑھے چھ سونئے انتظامی یونٹوں کو وجود میں لانے کا اعلان کیا ۔ حکومت کے اس اعلان سے جہاں ان حلقوں کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا جہاں تحصیل اور بلاک سطح کے یونٹ قائم کئے گئے وہاں بہت سے گائوں دیہات کے لوگ اپنے علاقوں کو نظرانداز کرنے پر سخت ناراض دکھائے دے رہے ہیں ۔ کسی طرح کی مراعات سے قاصررکھے گئے لوگ مسلسل کئی دن سے احتجاج اور ہڑتال کررہے ہیں ۔کچھ مقامات پر جلوس نکالے گئے اور حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہاہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامی یونٹ قائم کرتے وقت حق وانصاف سے کام نہیں لیا گیا بلکہ بڑے پیمانے پر جانبداری سے کام لیا گیا ہے ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی خواہشات مدنظر رکھنے کے بجائے سیاسی فائدے کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس طرح سے کئی علاقوں کو بلا وجہ نئے یونٹوں سے نوازا گیا ہے جب کہ حقیقت میں صحیح مقامات کو نظرا نداز کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب و شمال احتجاج کی ایک لہر پھیل گئی ہے اور بہت سی جگہوں پر لوگ حکومت کے خلاف جلسے جلوس کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
نئے انتظامی یونٹوں کا قیام کانگریس اور این سی کے درمیان سخت رسہ کشی کا باعث بنا تھا۔ کانگریس نے سخت روڑے اٹکانے کی کوشش کی جس سے دونوں جماعتوں کے درمیان سخت تنائو پیدا ہوگیا تھا ۔ کانگریس ایک ایسے موقعے پر جب کہ الیکشن بہت ہی قریب ہیں اس طرح کا فیصلہ اپنے حق میں نہیں سمجھتی تھی۔ پردیش کانگریس لیڈروں کا خیال تھا کہ اس کا براہ راست فائدہ این سی کو ملے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقصد سے کانگریس رہنما اور ریاست کے نائب وزیراعلیٰ تارا چند کی قیادت میں بنائی گئی کابینہ سب کمیٹی نے رپورٹ پیش کرنے میں کئی روز لگائے ۔ اس پر ناراض ہوکر وزیراعلیٰ نے کابینہ کا اجلاس برخاست کرتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بعد میں وزیراعلیٰ دہلی چلے گئے اور کانگریس قیادت کو اعتماد میں لیا ۔ اس کے بعد پردیش کانگریس پر دبائو بڑھ گیا اور اس کے لیڈروں نے جلدرپورٹ پیش کرنے کی پیش کش کی۔ اس کے بعدکابینہ کے ایک اہم اجلاس میں نئے یونٹوں کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس بار بھی جموں اور لداخ کو کشمیر سے بڑھ کر حصہ دیا گیا ہے ۔ تفصیلات سامنے آنے کے بعد معلوم ہوا کہ جموں خطے میں 337نئے انتظامی یونٹ بنائے گئے ہیں جبکہ کشمیر میں صرف 274 ایسے یونٹ قائم کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح لداخ کے دو اضلاع لیہہ اور کرگل کو 48 نئے یونٹوں سے نوازا گیا ہے ۔ نئے یونٹوں کے قیام کے معاملے پر مختلف حلقوں کی طرف سے اس پر جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ بھی حیران کن ہے ۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ نئے یونٹ قائم کرنے میں اس کا رول کافی اہم رہا ہے اور یہ اسی جماعت کا کارنامہ ہے ۔ یادرہے اس سے پہلے غلام نبی آزاد وزارت نے ریاست میں نئے ضلعے قائم کرکے عوام کی ایک دیرینہ مانگ پوری کی تھی۔ اس بار بھی کانگریس کا کہنا ہے کہ اسی جماعت نے نئے انتظامی یونٹ قائم کرنے کا کام انجام دیا ہے ۔ کانگریس کے اس دعوے پر نیشنل کانفرنس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کانگریس بلا وجہ اس کا کریڈٹ لے رہی ہے۔نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ اس طرح کا قدم وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور پارٹی کے لیڈروں کا اٹھایا ہوا ہے جرات مندانہ قدم ہے۔ اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے الزام لگایا ہے کہ این سی نے نئے یونٹوں کے قیام سے ریاست میں نفرت پیدا کی ہے اورلوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کاکام کیا ہے ۔ پی ڈی پی رہنمائوں نے حکومت پرالزام لگایا ہے کہ اس نے نئے یونٹ کسی منصفانہ اصول پرقائم نہیں کئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف لوگوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح حریت پسندوں نے حکومت کے اس اقدام کی نکتہ چینی کی ہے ۔ سیدعلی گیلانی نے اس کو ایک معمول کاکام انجام دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی اس طرح کے اقدام سے لوگوں کے آزادی کے جذبے کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اسی طرح کے دوسرے لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف قدم ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتخابی حربہ ہے جس سے حکومت اپنی ناکامیوں پرپردہ ڈالنا چاہتی ہے ۔ اس کے علاوہ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان نئے یونٹوں کے قیام سے خزانہ عامرہ پر خرچہ کابھی سخت بوجھ پڑے گا اور یہ خرچہ برداشت کرنے سخت دشوار کام ہے۔حقیقت کچھ بھی ہو تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ حکومت نے ایک جراتمندانہ قدم اٹھاکر سب کو حیران کردیا ہے ۔