خبریں

نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے مفت راشن یا بجلی ملنے والی نہیں

نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے مفت راشن یا بجلی ملنے والی نہیں

حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام اور اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں بتایا یہ انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے اگرچہ ایک معمول کی کارروائی ہے، البتہ بھارت نواز سیاستدان اور ان کے چیلے چانٹے اس کو لیکرسیاسی مباحثہ تبدیل کرنے اور مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہے ہیں اور اس کو عام لوگوں پر ایک احسان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ گیلانی نے لوگوں سے کہاکہ وہ ان چھوٹی چھوٹی انتظامی تبدیلیوں کے لیے اپنی بیش بہا قربانیوں کو فراموش نہ کریں اور ایسی کوئی بھی روش اختیار نہ کریں، جو ایک باغیرت قوم کے وقار، سنجیدگی اور عزت کو ٹھیس پہنچانے کی باعث بن رہی ہو۔ گیلانی نے لوگوں کو مخاطب کیا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کو ایک گاؤں میں قائم کیا جاتا ہے یا دوسرے گاؤں میں، اس سے کوئی بڑا فرق واقع ہونے والا نہیں ہے اور اسطرح کی تبدیلیوں سے کشمیری قوم کی بنیادی پرابلم کا کوئی حل نکلنے والا نہیں ہے، نہ ان کو مفت راشن اور بجلی ملنے والی ہے اور نہ اپنے پانی اور جنگلات پر ان کے حق کو تسلیم کیا جانے والا ہے بلکہ ان سب بنیادی ضروریات اور وسائل کا دلی کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ آئندہ بھی جاری رہیگا اور ہندنواز کشمیری سیاستدان اس لوٹ کھسوٹ پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے ۔کشمیری قوم نے 47ء سے اگر کوئی ترقی کی بھی ہے، تو وہ ان کی اپنی محنت اور کشمیر کے قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کا نتیجہ ہے اور اس ریاست میں اگر تعمیر وترقی کا کوئی کام ہوا بھی ہے تو وہ ان بھاری ٹیکسوں سے جمع کی گئی رقم سے ممکن ہوا ہے، جوعام لوگ ہر طرح کی اشیاء پر ادا کرتے رہتے ہیں۔ بھارت کی دوسری ریاستوں میں بھی وقفے وقفے سے انتظامی یونٹوں میں اضافے کئے جاتے ہیں اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے ایسا کرنا ایک ضرورت بن جاتا ہے، البتہ کہیں بھی ان انتظامی تبدیلیوں کو ڈسکورس تبدیل کرنے اور ووٹ بینک سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ہے اور نہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔سید علی گیلانی نے ہندنواز سیاستدانوں کی حمایت کرنے والے اس مراعات پسند ٹولے کے رول پر بھی افسوس کا اظہار کیا، جو نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو لیکر جشن اور کہیں مطالباتی مظاہرے کررہے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ آج بھی ہر روز اس قوم کے سرفروشوں کے جنازے اٹھائے جاتے ہیں اور شہداء کے گرم گرم خون سے یہ سرزمین لالہ زار بنتی جارہی ہے145145۔ انہوں نے کہا کہ یہ مراعات پسند طبقہ اگرچہ ایک چھوٹی سی اقلیت پر مبنی ہے، البتہ یہ نہ صرف پورے قوم کی شبیہ کو بگاڑنے کا ذمہ دار بن رہا ہے، بلکہ ریاستی پاور کی پشت پناہی کی وجہ سے اس نے یہاں کی غالب اکثریت کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور یہ اپنے نجی مفادات کے لیے قوم کی قربانیوں کا سودا کررہا ہے۔گیلانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا146146بھارتی حکمرانوں اور ان کے ایجنٹ کشمیری سیاستدانوں کو کشمیری قوم کی بھلائی اور خیروشر کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، دلی والے ہر کارروائی سے یہاں اپنے فوجی تسلط کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کررہے ہیں اور نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور ریاستی کانگریس سمیت تمام مقامی پارٹیاں اقتدار کے حصول کے لیے ان کے منصوبوں میں ہر طریقے سے معاونت کررہی ہیں اور ان کے خاکوں میں رنگ بھر رہی ہیں145145۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو اگرچہ این سی اور کانگریس والے اپنے ووٹ بینک سیاست اور الیکشن اسٹنٹ(Stunt)کے طور استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، البتہ کشمیریوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔( مانیٹرنگ ڈیسک)