سرورق مضمون

نئے سال کی مایوس کن شروعات، لاوے پورہ سرینگر میں انکائونٹر، بھاری برف باری سے کاروباری زندگی ٹھپ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
لاوے پورہ میں ہوئے انکائونٹر اس وقت مشکوک بن گیا جب مارے گئے نوجوانوں کے لواحقین نے سرینگر میں احتجاج کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انکائونٹر میں مارے گئے نوجوان جنگجو نہیں بلکہ معصوم شہری تھے ۔ لواحقین کا الزام ہے کہ ان کے عزیز جعلی جھڑپ میں مارے گئے ۔ اس حوالے سے پولیس نے فوجی کاروائی کی حمایت کی اور اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہ ہونے کا اعلان کیا ۔ پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کی طرف سے دئے گئے بیان میں کہا گیا کہ فوج کی کاروائی پر بغیر کسی ثبوت کے شک نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ سنگھ کے بیان کے اگلے روز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا جس میں محصور نوجوانوں کو سرنڈر کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ لیکن کوئی جواب نہ ملنے کے بعد حملے میں شدت لائی گئی اور تینوں نوجوان مارے گئے۔ یاد رہے کہ سرینگر کےپاس والے علاقے لاوے پورہ میں جنوبی کشمیر کے تین نوجوان مارے گئے۔ ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان سرینگر فارم بھرنے کے لئے آئے تھے جہاں فوج نے انہیں ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کیا ۔ لواحقین نے سرینگر پہنچ کر پہلے پولیس ہیڈ کواٹر اور پھر پریس کالونی میں سخت احتجاج کیا ۔ احتجاج کے دوران ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں ہلاک کئے گئے عزیزوں کی لاشیں دی جائیں ۔ ان نوجوانوں کو پولیس نے حسب معمول سونہ مرگ لے کر وہاں جنگجووں کے لئے مخصوص کئے گئے قبرستان میں دفن کیا ۔ ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ مارے گئے نوجوان چونکہ جنگجو نہیں ہیں ۔ انہیں لواحقین کے حوالے کیا جائے تاکہ انہیں آبائی قبرستان میں دفن کیا جائے ۔ ہلاک ہوئے نوجوانوں کے لواحقین نے قبریں کھود رکھی ہیں اور وہ لاشیں ملنے کا انتظار کررہے ہیں۔ پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا کہ لاشیں وارثوں کے حوالے کی جائیں ۔ مفتی نے لاشیں دوسرے علاقے میں دفن کرنا انسانیت اور مذہب مخالف قرار دیا۔ اس سے پہلے این سی سربراہ عمرعبداللہ نے مطالبہ کیا کہ لاوے پورہ واقعے کی تحقیقات کرکے حقیقت کا پتہ لگایا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر شک وشبہات پائے جاتے ہیں ۔ ان شبہات کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ غیرجانبدار تحقیقات کرکے لوگوں کو بتایا جائے۔ اپوزیشن کے دوسرے کئی لیڈروں نے بھی مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے ۔ اس دوران پولیس کا کہنا ہے کہ سال 2020 کے دوران تشدد کے واقعات میں کمی آگئی ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سنگ باری کے واقعات میں اسی فیصد تک کمی آگئی ۔ انہوں نے اس صورتحال کو حوصلہ افزا قرار دیا ۔ اگرچہ عسکری صفوں میں نوجوانوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم اس میں بہت حد تک کمی آگئی ۔ خدشہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں کے دوران سرینگر سے تین نوجوان جنگجووں کے ساتھ مل گئے ہیں ۔ جنوبی کشمیر سے بھی کئی نوجوان لاپتہ ہیں ۔ ان کے بارے میں بھی خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کسی جنگجو تنظیم میں شامل ہوگئے ہیں ۔ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ اب صرف دوسو جنگجو سرگرم ہیں۔ لاوے پورہ میں پیش آئی ہلاکتوں کا شور ابھی باقی تھا کہ نامعلوم بندوق برداروں نے سرینگر کے سرائے بالا بازار میں سونے کا کاروبار کرنے والے ایک پنجابی تاجر کو ہلاک کیا ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ سیکوٹر سوار بندوق برداروں نے نزدیک سے گولی چلاکر اسے ہلاک کیا۔ امرتسر کے رہنے والے اس تاجر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 1970 سے سرینگر میں رہائش پذیر ہے ۔ حال ہی میں اس نے مرکز کی طرف سے رائج قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈومسائل سرٹیفکیٹ حاصل کی اور مکان بھی خرید ا ۔ سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے جنگجووں نے اسے گولی کانشانہ بنایا ۔ تاہم اس کے بیٹے نے اس طرح کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے ۔
نئے سال کے شروع ہوتے ہی موسم نے اچانک اپنا رخ بدلا اور بھاری برف باری ہوئی ۔ اس وجہ سے وادی کا باقی دنیا سے ہوائی اور زمینی رابطہ پوری طرح سے کٹ گیا ۔ ہوئی رابطہ جمعرات کو بحال کیا گیا ۔ البتہ پسیاں گر آنے سے نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی نقل وحمل روک دی گئی۔ بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا ۔ کئی علاقوں سے اطلاع ہے کہ پینے کا پانی مہیا نہیں ہے ۔ ہسپتالوں میں عملے کی کمی دیکھنے کو ملی ۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ سڑکوں سے برف ہٹانے میں سخت تساہل سے کام لیا گیا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی بروقت بحال کی گئی اور برف باری بند ہوتے ہی سڑکیں آمد رفت کے قابل بنائی گئیں ۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے حکومت کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معمولات زندگی اب تک بحال نہیں ہوسکے ہیں ۔ کئی علاقوں میں دیکھا گیا کہ لوگوں نے از خود سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام کیا ۔ اگرچہ کئی علاقوں سے اطلاع ہے کہ بجلی کے محکمے کے اہلکاروں نے سخت دشواریوں کے باوجود وقت پر بجلی بحال کی۔ عوامی حلقوں نے اس کی بڑی تعریف کی ۔ تاہم بہت سے علاقوں سے شکایات سامنے آئیں اور انتظامیہ کی طرف سے غفلت برتنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ سرینگر کے علاوہ کئی علاقوں سے رہائشی مکانات کے گرجانے اور نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ لوگوں نے مقامی حالات اور ضرورتوں کو مد نظر نہیں رکھا ۔ ان میں سے کئی مکانات پر ایسے چھت بنائے گئے ہیں جن پر برف جمع رہتی ہے ۔ بھاری برف کی وجہ سے یہ چھت دب گئے ۔ اس کے علاوہ کئی مریضوں اور حاملہ خواتین کو مبینہ طور ہسپتال پہنچنے میں سخت مشکلات پیش آئیں ۔ یہاں تک کہ سرینگر سے کئی لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے علاقوں میں انتظامیہ نے کئی دنوں تک سڑکوں سے برف ہٹائی نہ بجلی بحال کی ۔ صورہ میڈیکل انسٹچیوٹ کے لئے عام شاہراہ کو کھولنے میں کئی دن لگ گئے اور پھسلن کی وجہ سے ایمبولنسوں کے چلنے پھرنے میں مشکلات پیش آئیں ۔ اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے شکایت کی کہ انتظامی مشنری برف کے نیچے دب کر رہ گئی ۔ دوسرے لیڈروں نے بھی حکومت کی ناکامی کا الزام لگایا۔ سرینگر کے میئر جنید متو نے اعتراف کیا کہ انتظامیہ کے پاس ضرورت کے مطابق مشنری موجود نہیں ہے ۔ اس طرح سے نئے سال کی شروعات خوشی کے بجائے مایوس کن حالات میں ہوئیں ۔