سرورق مضمون

ناراض کسانوں کی دہلی کے دروازے پر دستک/ بی جے پی کی جھیل ڈل میں ریلی اور ڈبکی

ناراض کسانوں کی دہلی کے دروازے پر دستک/ بی جے پی کی جھیل ڈل میں ریلی اور ڈبکی

سرینگر ٹوڈےڈیسک
دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی سرکار کسانوں کے مطالبات کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ اس حوالے سے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اس بل کے مسودے پھاڑ دئے جو مرکزی سرکار نے حال ہی میں پاس کئے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ بی جے پی سرکار نے کسی بحث کے بغیر کسانوں کے حوالے سے تین قانون پاس کئے ۔ کسان ان قوانین پر اپنی نارضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ پچھلے دنوں احتجاج کرنے والے ایک سکھ لیڈر نے خود کو گولی سے مار دیا۔ اپنی آتم ہتھیا کرنے سے پہلے اس نے ایک تحریر رکھی تھی ۔ خود کشی کے اس نوٹ میں اس نے انتہائی سخت قدم اٹھانے کی وجہ یہ بتائی کہ کسانوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے اس لئے وہ اپنی جان لے رہا ہے۔ کیجریوال نے انکشاف کیا کہ اب تک احتجاج کرنے والے کسانوں میں سے بیس لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور مرکزی سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی ۔ یاد رہے کہ پنجاب اور ہریانہ کے کسان پچھلے کئی روز سے احتجاج کررہے ہیں ۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ دہلی میں داخل ہوکر سخت احتجاج کریں گے ۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت کسانوں کے حوالے سے بنائے گئے تینوں قانون منسوخ کرے۔ کسانوں اور مرکزی سرکار کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوئے جو بری طرح سے ناکام رہے ۔ اس وجہ سے کسان سخت ناراض ہیں ۔ اپنے مطالبات منوانے کے لئے انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی ۔ اس دوران بہت سے حلقے خاص کر اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کو جائز قرار دے رہی ہیں ۔ ان جماعتوں نے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم حکومت یہ بات ماننے سے انکار کررہی ہے کہ بنائے گئے قانون سے کسانوں کو کوئی نقصان ہوگا ۔ کسان الزام لگارہے ہیں کہ کچھ خاص ساہوکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکومت نے کسان قانون پاس کروائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے ان کی فصل کو صحیح دا م ملنا ممکن نہیں اور انہیں سخت خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے کسانوں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دیا ۔ ان کا الزام ہے کہ کسان نیکسلیوں کی شہہ پر بی جے پی سرکار کے خلاف مہم چلارہے ہیں ۔ ایک بی جے پی رہنما کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسانوں کے ساتھ بدنام زمانہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے کارکن ملے ہوئے ہیں ۔ ادھر حکومت نے کسان احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے اپنے لیڈروں کو کسانوں کے جلسے بلانے کے لئے کہا تاکہ معلوم ہوجائے کہ بہت سے کسان حکومت کے ساتھ ہیں ۔ اس حوالے سے مدھیہ پردیش اور کئی دوسرے علاقوں میں بی جے پی کے لیڈروں نے کئی عوامی جلسے کئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے نئے قانون پاس کئے گئے ۔ کانگریس کا الزام ہے کہ نئے قانون اڈانی اور امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ ادھر احتجا ج کرنے والے کسانوں نے امبانی کی موبائل فون کمپنی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس وجہ سے بہت سے صارفین نے Jio فون سم استعمال کرنے سے انکار کیا ہے ۔ کسانوں نے حکومت کو ایک مہینے کا وقت دیا ہے کہ کسان قانون منسوخ کرکے حالات بہتر بنائے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت تاحال اپنے بنائے گئے قانون منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں ہے ۔ اس وجہ سے دونوں طرف سے سخت تنائو پایا جاتا ہے اور حالات دن بہ دن بدتر ہورہے ہیں ۔
کشمیر میں بی جے پی کی سرگرمیاں عروج کو پہنچ چکی ہیں ۔ پارٹی کے بہت سے لیڈر دہلی سے سرینگر انتخابی مہم چلانے پہنچ گئے ہیں ۔ پارٹی نے ڈی ڈی سی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پارٹی کی طرف سے جموں کے علاوہ کشمیر کے تمام ضلعوں میں انتخابی جلسے کئے ۔ اس حوالے سے پچھلے دنوں سرینگر کے مشہور ڈل جھیل میں ایک کشتی ریلے ہوئی ۔ ریلے کے دوران ایک کشتی ڈھگمگائی اور اس میں سوار کچھ کارکن پانی میں گرگئے ۔ ان افراد کو بروقت امداد بہم پہنچاکر بچا لیا گیا ۔ تاہم سردی کے اس موسم میں پانی کو معمولی غوطہ بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ سرینگر کے علاوہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں بی جے پی نے اپنے امیدواروں کے حق میں سیاسی مہم چلائی ۔ کئی لوگ اندازہ لگارہے ہیں کہ ان جلسوں کا بی جے پی کو انتخابات میں کافی فائدہ ملے گا ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی پہلی بار کشمیر میں ایک مضبوط فرنٹ کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔ ڈی ڈی سی کے لئے ہوئے ان انتخابات پر بی جے پی پوری طرح سے چھائی رہی اور اس نے اپنی بیس مضبوط کرنے کی کوشش کی ، بی جے پی کا کہنا ہے کہ سرینگر اور بڈگام کے علاوہ اس کے امیدوار جنوبی کشمیر کے بہت سے حلقوں میں کامیابی درج کریں گے ۔ ایسا ہوا تو یہ پیپلز الائنس کی دو بڑی جماعتوں یعنی این سی اور پی ڈی پی کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ ثابت ہوگا ۔پیپلز الائنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے الیکشن کمیشن کے نام ایک خط لکھا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کچھ حلقوں میں دھاندلی کی گئی اور وہاں دوبارہ انتخابات کرائیں جائیں ۔ انتخابی مہم اختتام کو پہنچی ۔ نتائج بہت ہی حیران کن ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔