سرورق مضمون

نارہ بل میںعلاحدگی پسند ایک ہی اسٹیج پر / مضبوط اتحاد قائم ہونے کا امکان؟

ڈیسک رپورٹ
حریت کے دونوں دھڑوں کے رہنمائوںکے علاوہ لبریشن فرنٹ کے سربراہ سات سال بعد ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوگئے۔ تینوں رہنمائوں کے یکجا ہوکر عوام سے خطاب پر تمام حلقوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا۔ یہ تینوں رہنما اس وقت نارہ بل ، بڈگام میں جمع ہوگئے جب یہاں پولیس کے ہاتھوں نویں جماعت کا ایک طالب علم سہیل احمد مارا گیا۔ پولیس کے ابتدائی بیان میں کہا گیا تھا کہ سہیل سنگ بازی کرتے ہوئے پولیس کی گولی سے مارا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سہیل کسی بھی طرح سنگ بازی میں ملوث نہیں تھا اور گھر جاتے ہوئے مارا گیا۔ سہیل کے باپ نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے اپنے ماتحت کانسٹیبل کی بندوق لے کر سہیل پر گولی ماری جس سے وہ موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا۔اس واقعے پر پورے کشمیر میں سخت غم و غصہ پیداہوگیا۔اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے ذاتی مداخلت کی اور فوری کاروائی کا حکم دیا ۔ پولیس نے حرکت میں آکر اپنے ان دنوں اہلکاروں کو گرفتار کیا کرکے ان کے خلاف کیس درج کیا۔ تحقیقات کے لئے ایک کمیشن بھی بٹھادیا گیا اور پولیس نے اپنے طور بھی تحقیقات شروع کی ۔  فی الحال ان دونوں اہلکاروں کو سات دن کے ریمانڈ کے لئے پولیس تحویل میں بھیجدیا گیا ہے۔
حریت (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی، حریت (م) کے چیرمین مولوی عمرفاروق اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نارہ بل تعزیت کے لئے آئے تھے۔ یہ تینوں علاحدگی پسند رہنما یہاں الگ الگ تعزیت کے لئے آئے تھے اور اچانک ایک ہی جگہ جمع ہوگئے ۔سہیل کے گھر میں تینوں رہنمائو ں نے مشترکہ طور ایک جلسہ سے خطاب کرنے کا من بنایا ۔ اس کے بعد یہ تینوں ایک جلوس کی صورت میں نارہ بل چوک پہنچ گئے جہاں پہلے ہی لوگ جمع ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد تینوں نے یہاں پر ایک تعزیتی جلسے سے خطاب کیا۔ تینوں رہنمائوں نے ریاست کی موجودہ سرکار کے خلاف سخت قسم کے بیانات دئے ۔ انہوں نے مودی مفتی اتحاد کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کشمیریوں کے قتل کا اتحاد قرار دیا ۔ گیلانی نے لوگوں کو اس بات پر سخت حوصلہ افزائی کی کہ وہ شہیدوں کے جنازوں میں بڑے پیمانے پر شریک ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ساتھ ہی اس بات کی شکایت کی کہ لوگ جنازوں میں شرکت کے علاوہ الیکشن میں بھی حصہ لیتے اور ووٹ ڈالتے ہیں ۔ انہوں الیکشن میں شرکت کو شہیدوں کے خون سے غداری قرار دیا ۔ تاہم میرواعظ اور یاسین ملک نے الیکشن کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی ۔ البتہ ان دونوں رہنمائوں نے بھی مفتی کی سربراہی میں قائم سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کو کشمیر دشمن سرکار قرار دیا ۔ یاسین ملک نے نوجوانوں کو خصوصی طور تحریک آزادی کو مضبوط بنانے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی تحریک نوجوانوں کے تعاون سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح میرواعظ عمر فاروق نے بھی لوگوں کو آزادی کی تحریک کی حمایت کرنے کی گذارش کی ۔ نارہ بل میں اس اتحاد کے بارے میں کئی طرح کی چہ میگوئیاں کی جاتی ہیں ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے کشمیر میں حکومت بنانے کے بعد علاحدگی پسندوں کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اتحاد کریں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ان رہنمائوں میں اتحاد قائم نہ ہوا تو ان کے منظر نامہ سے غائب ہونے کا خطرہ ہے ۔ لہٰذا ان کی مجبوری ہے کہ آپس میں اتحاد قائم کریں ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں باہر سے خاص کر پاکستان سے سخت دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ متحد ہوکر آزادی کی تحریک چلائیں۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان رہنمائوں کو دہلی پاکستانی ہائی کمیشن میں دوچار بار اسی مقصد سے بلا یا گیا جہاں انہیں کھل کر کہا گیا کہ اتحاد بنائے بغیر ان کے لئے کوئی دوسرا آپشن نہیں ۔ اس وجہ سے تینوں رہنما مشترکہ جلسے سے خطاب کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اس سے پہلے جہاد کونسل کے سربارہ اور حزب المجاہدین کے امیر اعلیٰ سید صلاح الدین نے بھی علاحدگی پسندوں پر آپسی اتحاد کے لئے دبائو ڈالنا شروع کیا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان نے بھی ہندوستان پر سخت دبائو ڈالا ہے کہ کشمیریوں کو مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ اگرچہ ہندوستان اس پر ابھی تک آمادہ نہیں ہورہاہے ، اس کے باوجود پاکستان سخت زور دے رہا ہے کہ کشمیریوں کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایاجائے۔اس غرض سے علاحدگی پسندوں کو متحد ہونے کے لئے دبائو ڈالا جاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ علاحدگی کیمپ کے تین بڑے اور اہم رہنما نارہ بل میں ایک ہی جلسے سے خطاب کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ یہ اتحاد آگے بڑھے گا یا نارہ بل سے شروع ہوکر نارہ بل میں ہی ختم ہوگا ، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک باراتحادبن گیا تو یہ آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگا ۔ البتہ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا ۔