اِسلا میات

نبی مہربانﷺ :منبع مہرو عطا

نبی مہربانﷺ :منبع مہرو عطا

حضور اکرمﷺ کو اللہ کی پوری مخلوق سے حتیٰ کہ حیوانوں ، پرندوں اور نباتاتی حیات سے بھی محبت تھی۔ آپﷺ کو خالقِ باری نے دل ہی ایسا دیا تھا کہ جس میں محبت کے زمزمے رواں دواں رہتے تھے۔ اپنے اہل و عیال سے محبت اور حسنِ سلوک کو آپﷺ نے اہل ایمان کی اعلیٰ ترین اخلاقی خوبی قرار دیا ہے۔ آپﷺ اس معاملے میں سب انسانوں سے ممتاز تھے۔ اپنے صحابہؓ کے ساتھ ایسی اپنائیت، محبت اور وابستگی تھی کہ ہر صحابی سمجھتا تھا کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ محبت میرے ساتھ ہے۔ آپﷺ کا کمال ہے کہ آپﷺ نے ہر صحابی کو ایسا اعزاز بخشا کہ جس میں دوسرے اس کے ثانی نہیں۔ یہ بالکل درست اور بدیہی بات ہے کہ سب سے زیادہ محبت تو یارِ غار ابوبکر صدیقؓ ہی کے ساتھ تھی، اس کے باوجود نبیٔ جو دو عطاﷺ کا یہ کمال ہے کہ جس صحابی کے حالات کا مطالعہ کیجیے، ہر ایک کا بے بدل اعزاز سامنے آجاتا ہے۔
ایوب بن بُشَیْر قبیلۂ بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، اس نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ بھی کیا کرتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ: میں جب بھی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ﷺسے ملا تو آپﷺ نے ہمیشہ مجھ سے مصافحہ کیا اور ایک دفعہ آپﷺ نے مجھے گھر سے بلوایا۔ میں اس وقت اپنے گھر پر نہیں تھا، جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا (کہ حضورﷺ نے مجھے بلوایا تھا) تو میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپﷺ اپنے سر یر پر تھے (جو کھجور کی شاخوں سے ایک تخت یا چارپائی کی طرح بنالیا جاتا تھا۔ آپﷺ (اس سے اٹھ کر) مجھ سے لپٹ گئے اور گلے لگایا۔ آپﷺکا یہ معانقہ بہت خوب اور بہت ہی خوب تھا (یعنی بڑا لذت بخش اور بہت ہی مبارک تھا)۔ (سنن ابی دائود)
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ آپﷺکے محبوب و مشفق چچا ابو طالب کے بیٹے تھے۔ آپﷺکے حکم سے ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے اور مہاجرین حبشہ نے ان کو اپنا متفقہ امیر و ترجمان بنالیا۔ نجاشی کے دربار میں انھوں نے ہی اسلام کی ترجمانی کی تھی جس سے متاثر ہو کر شاہِ حبشہ نے دراصل اسی وقت دل سے اسلام قبول کرلیا تھا، اگرچہ اس کا اظہار بعد میں آنحضورﷺکا خط ملنے پر کیا۔ حضرت جعفرؓ تقریباً چودہ سال حبشہ میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے کے بعد اس وقت واپس مدینہ آئے، جب نبیٔ برحقﷺ یہودیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے خیبر کے قلعوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ طویل سفر کے باوجود حضرت جعفر خیبر روانہ ہوگئے اور وہیں جا کر آپﷺ سے ملاقات کی۔ اس وقت ایک طویل جدوجہد اور مشکل جنگ جوئی کے بعد آپﷺ نے اللہ کی تائید اور صحابہ کی بے مثال جرأت و استقامت کے نتیجے میں خیبر کے جملہ قلعے فتح کر لیے تھے۔
آپﷺ نے حضرت جعفرؓ کو دیکھا تو بے ساختہ ان کی طرف بڑھے ، ان کو گلے لگالیا اور ان کے ماتھے پر پیار بھرا بوسہ دیا۔ اپنے چچا زاد بھائی اور جاں نثار صحابی کو دیکھ کر آپﷺ انتہائی خوش تھے۔ روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ خیبر کے قلعوں کی شاندار فتح اور عظیم کامیابی پر میرا دل زیادہ شاداں و فرحاں ہے یا جعفر کی آمد اور ملاقات کی خوشی اس سے زاید ہے۔ امام شعبی تابعیؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر بن ابی طالب کا استقبال کیا (جب وہ حبشہ سے واپس آئے) تو آپﷺ ان کو لپٹ گئے (یعنی معانقہ فرمایا) اور دونوں آنکھوں کے بیچ میں (اُن کی پیشانی کو) بوسہ دیا۔ (سنن ابی دائود، شعب الایمان للبیہقی)
غزوۂ احد میں جب فتح شکست میں بدلی !!
غزوۂ احد میں جب فتح شکست میں بدلی اور اسلامی فوج میں انتشار پیدا ہوا تو آپﷺ کے گرد چند صحابہ نے حصار بنا لیا۔ آپﷺ میدان میں ڈٹے رہے۔ اللہ نے سورہ آل عمران میں اس کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:’’یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمھیں نہ تھا، اور [اللہ کا] رسولﷺ تمھارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ اس وقت تمھاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمھیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے، تاکہ آیندہ کے لیے تمھیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمھارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے‘‘۔ (آل عمران۳: ۱۵۳)
حضورﷺ اس وقت صحابہؓ سے فرما رہے تھے کہ وہ بھگدڑ کا مظاہرہ نہ کریں۔ آپﷺ میدان میں جم کر کھڑے تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہ( یعنی اللہ کے بندو، میری طرف آئو)۔ اس وقت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اپنے حواس کو مکمل برقرار رکھا۔ نہ گھبراہٹ نہ خوف، نہ پائوں میں لغزش، نہ ہاتھوں میں رعشہ۔ آنحضورﷺ کے پاس کھڑے ہو کر آپﷺ کے لیے ڈھال بن گئے اور دشمن پر بڑی مہارت و جرأت سے تیر بھی چلاتے رہے۔ حضورﷺ خود اپنے دست ِ مبارک سے اپنے جان نثار کو تیر پکڑا رہے تھے اور کوئی ایک تیر بھی خطا نہیں ہو رہا تھا۔ وہی موقع تھا جب نبیٔ رحمتﷺ نے حضرت سعدؓ کو وہ تمغہ عطا فرمایا جس کی نظیر پوری جماعت صحابہ میں نہیں ملتی۔ آپﷺ فرما رہے تھے: ’’سعد دشمن پر تیر چلاتے جائو، میرے ماں باپ تم پر قربان‘‘ ساتھ ہی آپﷺ نے اپنی مالا کے اس عظیم اور قیمتی ہیرے کے لیے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! سعد کی تیر اندازی میں قوت اور نشانے میں اصابت عطا فرما، اور سعد کی دعائوں کو قبول فرما۔(جامع ترمذی ابواب المناقب ص ۲۱۶ روایت حضرت علیؓ بن ابی طالب و سعد ؓبن ابی وقاص)
اس دعا کا اثر تھا کہ حضرت سعدؓ دنیا کے بہترین جرنیل اور تاریخ انسانی کے عظیم ترین فاتح ثابت ہوئے۔ نام نہاد سپر طاقت ایران کو ملیامیٹ کر کے وسیع و عریض زمین پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ وہ مستجاب الدعوات بھی تھے اور ان کی قبولیت دعا کی بھی بڑی ایمان افروز تفصیلات حدیث اور تاریخ میں ملتی ہیں۔
اسی معرکۂ احد میں انصار کی عظیم بیٹی حضرت ام عمارہؓ نے وہ کارنامے سرانجام دیے کہ زبانِ رسالت مآبﷺ سے ان کی تحسین فرمائی گئی۔ ان کے لیے تحسین کے الفاظ کے ساتھ وہ دعا رسول امینﷺ کے لبوں پر آئی، جس سے بڑے انعام کا کوئی مومن تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آپﷺ نے فرمایا : یوم احد کی مشکل گھڑیوں میں میں نے ام عمارہؓ کو دیکھا کہ وہ میرے دائیں جانب دشمن سے برسرِ پیکار تھی، میں نے بائیں اور آگے دیکھا تو وہاں بھی وہ اپنا خنجر چلا کر دشمن کو پیچھے دھکیل رہی تھی۔ ام عمارہؓ تو خاتونِ احد ہے۔ ام عمارہؓ صحابہ و صحابیات کے درمیان خاتونِ احد کہلاتی تھیں اور پورے معاشرے میں ان کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ اسی معرکے کے دوران ام عمارہؓ،ایک کافر ابن قمۂ کے ہاتھوں زخمی ہوئیں۔ ان کے بازو پر شدید زخم آئے۔ آنحضورﷺ نے اپنی چادر سے پٹی پھاڑ کر ام عمارہؓ کے زخم پر باندھی اور ان سے درد کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں : یا رسول اللہ! اس درد و تکلیف کا کیا ہے، آپﷺ اللہ سے میرے لیے اور میرے اہل و عیال کے لیے دعا کیجیے کہ ہم جنت میں آپﷺ کے قرب میں رہیں۔ آپﷺ نے اپنی عظیم صحابیہ کی اس درخواست پر اللہ سے دعا مانگی کہ انھیں اپنے اہل و عیال سمیت جنت میں آپﷺ کا قرب نصیب ہو۔ (البدایہ والنہایہ المجلد الاول، ص ۶۸۴، المغازی للواقدی، ج ۱، ص ۲۷۲-۲۷۳)سبحان اللہ کیا لوگ تھے اور کیا شان تھی!
بیٹیوں سے نفرت کا اظہار نہ کیا کرو !!
حضرت فاطمۃ ؓالزہرا آپﷺکی لختِ جگر تھیں۔ آپﷺ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور وہ بھی آپﷺ پر جان قربان کرتی تھیں۔ حضرت خدیجہ و جناب ابو طالب کی وفات کے بعد جب قریش نے آنحضورﷺکو اذیتیں پہنچانے میں شدت اختیار کی تو سیدہ فاطمۃ الزہراؓ آپﷺ کے دفاع کے لیے گھر سے باہر آجایا کرتی تھیں۔ آپﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: ’’لا تکرھوا البنات فانھن المونسات الغالیات‘ ‘ (مسند امام احمد حدیث نمبر۱۶۹۲۲، روایت حضرت عقبہ بن عامرؓ) ’’یعنی بیٹیوں سے نفرت کا اظہار مت کیا کرو (جیسا کہ جاہلیت میں ہوتا تھا) بلاشبہ وہ تو (والدین کے لیے) ان کے غم بانٹنے والی اور بہت قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں‘‘۔ تمام والدین اس کا مشاہدہ و تجربہ کرتے ہیں کہ بیٹے بھی جو سعادت مند ہوں، والدین کے دکھ درد میں ان کے شریک اور ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرتے ہیں مگر بیٹیاں اس معاملے میں زیادہ ہی والدین کا خیال رکھتی ہیں۔ وہ واقعی محبت کرنے والی اور قیمتی متاع ہوتی ہیں۔
حضرت فاطمہؓ آنحضورﷺ کے ساتھ غم کی گھڑیوں میں ڈٹ کر کھڑی ہوجاتی تھیں۔ دشمن آپﷺ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اذیت پہنچاتے، یا آپﷺ کی پشت مبارک پر نماز کی حالت میں مرے ہوئے اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دیتے تو محمد عربیﷺ کی یہ لخت جگر گھر سے دوڑ کر آتیں اور آپﷺ کے دشمنوں کو برا بھلا کہہ کر آپﷺ کی ڈھال بن جاتیں۔ اکثر شاموں کو آپﷺ دن بھر کی دعوتی سرگرمیوں کے بعد جب گھر پلٹتے تو آپﷺ کے مبارک بالوں میں دشمنوں کی طرف سے پھینکی جانے والی گرد کو وہ پانی سے دھوتیں اور کبھی کبھار فرطِ جذبات اور محبت کی فراوانی سے آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے۔ ایسے ہر موقع پر آنحضورﷺ اپنی محبوب بیٹی کو تسلی دیتے اور بہت زیادہ پیار فرماتے۔ پھر کہتے:’’ لخت جگر! کوئی فکر نہ کرو، اللہ تمھارے باپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ دین غالب ہو کر رہے گا‘‘۔ (امام البہیقی دلائل النبوۃ ج ۲، ص ۲۰۵-۲۰۶)
حضور اکرمﷺ اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ بھی آپﷺ کے ہاں حاضر ہوا کرتی تھیں۔ ایسے ہر موقع پر باپ بیٹی ایک دوسرے کو بوسہ دیتے اور محبت کا اظہار فرماتے تھے۔
رسول اللہﷺ کے مشابہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو شکل و صورت، سیرت و عادت اور چال ڈھال میں صاحبزادی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے زیادہ رسول اللہﷺ کے مشابہ ہو۔ (یعنی ان سب چیزوں میں وہ سب سے زیادہ رسول اللہﷺ سے مشابہ تھیں)۔ جب وہ حضورﷺ کے پاس آتیں تو آپﷺ (جوشِ محبت سے) کھڑے ہو کر ان کی طرف بڑھتے ان کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیتے اور (پیار سے) اس کو چومتے، اور اپنی جگہ پر ان کو بٹھاتے (اور یہی ان کا دستورتھا) جب آپﷺ ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپﷺ کے لیے کھڑی ہوجاتیں، آپﷺ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے لیتیں، اس کو چومتیں اور اپنی جگہ پر آپﷺ کو بٹھاتیں… (سنن ابی دائود)
قائد کا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کا دل جیتے۔ عام آدمی جب اپنے قائد سے محبت کی شیرینی پاتا ہے تو اسے بہت بڑا انعام سمجھتا ہے۔ اللہ نے اپنے نبیﷺ کو جو خیر کثیر عطا فرمایا تھا، اس میں ایک محبت بھرے حلیم و کریم دل کا خصوصی تذکرہ قرآن میں ملتا ہے۔ ارشاد ہے:’’ (اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ گر کہیں تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کردو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر جب تمھارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں‘‘۔(آل عمران۳: ۱۵۹)
آنحضورﷺ نے زندگی بھر اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا اور اسی کی مدد و نصرت کے سہارے دنیا بھر کی مخالفتوں کے سامنے ڈٹے رہے۔ جب بھی غموں کے ہجوم اور دشمنوں کی یلغار نے زور پکڑا، آپﷺ نے اپنے خالق و مالک ہی سے رجوع کیا اور ہمیشہ یہ کہا کہ اگر تو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی چیز کا غم نہیں۔ اللہ کی تائید کے ساتھ آپﷺ کے اصحاب کی نصرت بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک بڑا انعام تھا۔ اللہ نے سورۂ انفال،سورہ التحریم اور دیگر مقامات پر قرآن میں اس کا بطور خاص تذکرہ کیا ہے۔سورۂ انفال میں فرمایا:’’اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمھارے لیے اللہ کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ اے نبیؐ، تمھارے لیے اور تمھارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے۔‘‘(سورہ انفال۸:۶۲-۶۴)
سورہ التحریم میں ارشاد ہے: ’’اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمھارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبیؐ کے مقابلہ میں تم نے جتھہ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبریلؑ اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔(سورہ التحریم ۶۶:۴)mvm

حافظ محمد ادریس