اِسلا میات

نبی ٔ آخرالزماں ﷺ کا نظامِ حکومت/ اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرخداؐ کی سیرتِ طیّبہ

نبی ٔ آخرالزماں ﷺ کا نظامِ حکومت/ اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرخداؐ کی سیرتِ طیّبہ

از عز یز زبیدی

اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرِکریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ:
1. اسلام اور غیر اسلامی مذاہب میں کیا فرق ہے؟
2. محمدی تصوّرِ مملکت کیا ہے؟
3. نبوی مملکت کا دائرہ کار کیا ہے؟
4. مقامِ نبوت کیا ہے؟
تاکہ پیغمبرِ خدا ﷺ کی مبارک زندگی کے سیاسی پہلو کے سمجھنے میں آسانی رہے۔
اسلام اور غیر اسلامی مذاہب:
گنے چنے چند معتقدات پر یقین رکھنا، وہم پرستی اور دیروکلیسا کے سلسلہ کی کچھ خوش فہمیوں پر سر دھننا، برہمنیت اور پاپائیت کی مکارانہ روحانی سیادت کو تسلیم کرنا اور بعض جزوی کارِ خیر کے مفروضوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا، غیر اسلامی مذاہب کا سارا طول و عرض ہے۔ اس کے برعکس اسلام ان جزوی عقیدت مندیوں میں طاغوت کے ساجھے، وقتی اور فرضی خوش فہمیوں، روباہی اور استحصالی طرز کی ساری شرمناک حیلہ سازیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسلام کے نزد یک ، اخروی جوابدہی کے احساس کے ساتھ اپنی دنیا کو منشاء الٰہی کے تابع رکھ کر’’سفر حیات کی منزلیں‘‘ طے کرنے کا نام روحانیت ہے، اسلام ہے، دین ہے اور ایمان ہے۔ اس میں’دین و دنیا‘ کی تفریق اور’روحانیت اور مادیت میں‘ دوئی کا وہ تصور اور احساس بالکل مفقود ہے، جو شومئی قسمت سے غیر اسلامی مذاہب میں رواج پا گیا ہے اور یہ وہ غیر اسلامی تصورِ روحانیت ہے ،جس میں ’رحمٰن‘ اور’ شیطان‘ کو ایک ساتھ راضی رکھنے کی گنجائش نکل آئی ہے۔
نبوی تصوّرِ مملکت:
اسی طرح نبوی تصورِ مملکت اور دوسری اقوام کے تصوّرِ ریاست میں بھی فرق ہے، غیر اسلامی ریاست کا حاکمِ اعلیٰ بادشاہ، اس کے آئین کا ماخذ اربابِ اقتدار کی مرضی ہوتی ہے یا اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ اس میں خدا ریاست کے تابع ہوتا ہے۔
ملک خدا کا، حاکم اعلیٰ احکم الحاکمین، ملکی آئین اور قانون کا سرچشمہ اور ماخذ رب العٰلمین کی مرضی اور منشاء، حکمرانِ اسلامی آئین کے محافظ، اس کے نفاذ کے ضامن اور کتاب و سنت سے مستفید ہونے کے لئے خلقِ خدا کی حکیمانہ اور مشفقانہ رہنمائی کرنا اور ان کو اپنا مخلصانہ اور ناصحانہ تعاون پیش کرنا نبوی تصورِ مملکت کے بنیادی عناصر ہیں۔ اس میں ریاست، خدا کی مرضی اور منشاء کی قانوناً پابند ہوتی ہے۔
محمدیؐ نظامِ ریاست:
اسی طرح محمدی ریاست کا دائرۂ کار بھی دوسروں سے کافی مختلف اور وسیع ہے۔ محمدیؐ ریاست انسان، جن، پرند، چرند اور شجر و حجر کی صلاح و فلاح عافیت اور مناسب احترام کی بنیاد پر ان سب کو محیط اور حاوی ہے۔ محمدیؐ نظامِ ریاست، رب کی ربوبیتِ عامہ کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دوسری اقوام کے نظامِ ریاست صرف لوگوں کے مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ انسان سے باہر کی دنیا ان کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز نہیں ہوتی، الا یہ کہ ان کی وہم پرستی کا کوئی داعیہ موجود ہو۔
مقامِ نبوت:
انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اللہ کی مرضی اور منشا کے بے خطا ترجمان، اس کے بے داغ مبلغ، نوعِ انسان کے لئے درد مند مصلح ،مگر ان سب سے بڑھ کر اپنے رب کے غلام، وفادار اور عبد صالح ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی طرف سے بندوں کے لئے ’مطاعِ برحق‘ تو ہوتے ہیں مگر معبود نہیں ہوتے، وہ الوہیت کے شائبہ سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت رب کی عبادت اور سچی غلامی کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی ریاست بھی عبدیت کا کامل نشان ہوتی ہے۔
یہ وہ چار عناصر ہیں، اگر آپ نے ان کو ملحوظ رکھا تو یقیناً آپ کو یہ بات بھی سمجھ میں آجائے گی کہ ایک سیاسی سربراہ کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ نے جو سیاسی اسوۂ حسنہ پیش کیا ہے، وہ بالکل قدرتی ہے۔
تمکن فی الارض:
سیاسی تنظیم دینی فریضہ ہے: علیکم بالجماعۃ والعامۃ (مسند احمد) ملی سیاسی تنظیم سے علیحدگی، دین و ایمان میں خلل کا موجب ہے۔ من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه (ایضا) ملی تنظیم سے باہر انسان شیطان کا نوالہ ہوتا ہے، اس لئے اس سے بچو۔ إن الشیطان۔۔۔۔۔ یأخذ الشاذۃ والقاصیة والناصیة وإیاکم (ایضا) ملی تنظیم سے علیحدہ ہو کر غیر مسلم اقوام سے ناطے جوڑنا رسم جاہلیت کا احیا ہے، دین نہیں ہے: لیس أحد یفارق الجماعة شبرا فیموت إلامات میتةجاہلیة(بخاری و مسلم) ملتِ اسلامیہ کو ایک سے زیادہ حکومتوں میں تقسیم کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔ مسیلمہ کذاب نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کو بانٹ لیا جائے، نصف آپﷺ کا ہو اور نصف اُس کا، تو حضور ﷺ نے رد کر دیا تھا (ابن اثیر) بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ، ملک تو بڑی بات ہے آپ ﷺ نے فرمایا تھا:”لو سألتني ھذہ القطعة ما أعطیتکھا (بخاری جلد اول) اگر تو مجھ سے چھڑی کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہیں دوں گا۔سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کی الگ الگ حکومتوں کی تجویز بھی بالاتفاق رد کر دی گئی تھی (ابن جریر طبری)
افسوس! ہم ملت اسلامیہ کی وحدت کی دینی حیثیت کو نظر انداز کر کے ڈیڑھ اینٹ کی حکومتوں پر نہ صرف قناعت کر رہے ہیں، بلکہ ان کو خاصہ طول بھی دے رہے ہیں۔ ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ ایک اکائی ہے، اس کی حکومت بھی واحد ہونی چاہئے، چند سیاسی بو الہوسوں کی ضیافت ِ طبع کے لئے جداگانہ حکومتوں کا قیام ملت ِ اسلامیہ کی تذلیل ہے، اس کو ختم ہونا چاہئے۔ دین و سیاست میں تفریق، دراصل بے خدا سیاسی شاطروں کی ایک بھونڈی سازش ہے۔ رسول اللہﷺ نے تو تمکن فی الارض (حکومت) اور سیاسی غلبہ کو سچے اسلامی علم و عمل کا قدرتی نتیجہ اور حاصل قرار دیا ہے: بنو عامر کے ایک بوڑھے رئیس نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ اگر میں اسلامی ذمہ داریوں کو پورا کروں تو مجھے اس کا کیا صلہ ملے گا؟ فرمایا: اخروی نجات، عرض کی: حضور! یہ تو کل کی بات ہوئی، آج کیا ملے گا؟ فرمایا:
نعم النصر والتمکین في البلاد (کامل لابن الاثیر۔ مختصرا) عمدہ فتوحات اور دنیا کی حکومت۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ:
لا إله إلا اللّٰہ جہاں کلمۂ توحید اور ایمان ہے، وہاں یہ’حلف ِ وفاداری‘ بھی ہے۔ عرب کو دعوت دیتے ہوئے رسول اللہﷺ نے دو باتیں پیش کیں: جئتکم بخیر الدنیا[ میں تمہارے لئے دنیا کی بہتری کا پیغام لایا ہوں]، قوموا معي لا إله إلا اللّٰہ وأن تفلحوا، [میرے ساتھ مل کر خدائے واحد کا نعرہ بلند کرو، انسانوں کی اجتماعی بہتری کا نظام بروئے کار آجائے گا]۔ (اسلام کا نظام حکومت)
خود آپ ﷺ مکلف تھے:
’’معی” (میرے ساتھ) کا لفظ اس لئے فرمایا کہ اس حلفِ وفاداری کے مکلف آپ ﷺ خود بھی تھے۔ ابو داؤد میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:قالت کان النبي ﷺ إذا سمع المؤذن یتشھد قال وأنا وأنا (باب ما یقول إذا سمع المؤذن)[جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام موذن کو شہادتیں پڑھتے سنتے، فرماتے، میں بھی میں بھی (گواہی دیتا ہوں)]
علماء نے لکھا ہے کہ آپﷺ اپنی رسالت کے اقرار کے اسی طرح مکلف تھے، جس طرح آپ ﷺ کی امت، کیونکہ رسالت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سرکاری حیثیت اور منصب کا نام ہے، جس کی شہادت دینے کے آپ بحیثیت محمد بن عبد اللہ اور محمد رسول اللہﷺ مکلف تھے۔ اس اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ اللہ کی مشیت کے تابع تھے۔ آپ ﷺکی مشیت اللہ کی مشیت کے مساوی تھی، نہ اس سے آزاد تھی۔ ایک دفعہ ایک صحابی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے، دوران گفتگو کہہ دیا :ما شاء اللّٰہ وشئت [جو خدا چاہے اور جو آپ چاہیں]۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جعلت للّٰہ ندا، تم نے (تو مجھے) خدا کا ہمسر اور شریک بنا دیا، ما شاء اللّٰہ وحدہ[(بلکہ کہو) جو تنہا خدا چاہے]۔ (ادب المفرد باب قول الرجل ما شاء اللّٰہ وشئت)
اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام، مقام تشریع نہیں تھا، تشریح و توضیح تھا۔ لیکن یہ بات کہ آپﷺ کی یہ بات از قسم تشریح ہے، تشریع نہیں ہے، خدا جانے ہمیں اس میں امتیاز کیے بغیر آپ ﷺکا اتباع کرنا ہے، ہمارے لئے وہ تشریع بھی ہے اور تشریح بھی۔ ما أمرتکم به فخذوہ وما نھیتکم عنه فانتھوا (کنز العمال)