سرورق مضمون

نقلی پیر، گیلانی کی نظر بندی اور کورپشن اہم موضوع / نیا سال سیاسی طور گرم رہنے کا امکان

ڈیسک رپورٹ
سال2013بڑی خاموشی سے رخصت ہوگیا اور جاتے جاتے پوری وادی کو برف کی لپیٹ میں لے گیا۔ اس طرح پورے سال کی کسر نکال کر یہ سال ہم سے رخصت ہوا۔ بجلی ، پانی ، گیس اور اشیاء خوردنی کی کمی کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی بند ہوگئیں۔ ساتھ ہی ساتھ پورا شہر پانی سے بھر گیا۔اس وجہ سے یہ سال گہرے اثرات چھوڑ کر ہم سے رخصت ہوگیا۔ یہ سال ویسے بھی بارہ مہینوں کے دوران یہاں کے عوام کے لئے کوئی خوشی اور مسرت کی خبر نہیں لایا۔ اس کے بجائے مہنگائی اور اوپر سے کورپشن کے بڑے بڑے سکینڈل ہوئے جن سے کشمیری قوم کی کمر ٹوٹ گئی۔ ادویات سکینڈل کے سامنے آنے سے جن باتوں کا انکشاف ہوا ان سے عام لوگوں کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ عوام کو معلوم ہوا کہ یہاں دواؤں کے نام پر زہر فروخت کیا جارہا ہے اور یہ کاروبار بڑے پیمانے پر ہورہا ہے ۔ سال کے آخر پر یہ بھی بتایاگیا کہ بازار سے لفافہ بند دودھ بھی خالص نہیں بلکہ کپڑا دھونے کے صابن سے بنایاگیاہے۔ اس کے ساتھ کنول کمپنی کی طرف سے فروخت ہونے والے مصالحوں کے بارے میں کہاگیا کہ ملاوٹ زدہ ہے۔ یہ وہ انکشافات تھے جن پر عوام سخت حیران اور پریشان ہوگئے۔اس کے بعد ایسا لگا کہ ریاست غنڈوں اور چوروں کے حوالے کی گئی ہے ۔
گذشتہ سال ایک انوکھا واقعہ بڈگام ضلع میں پیش آیا ۔یہاں گلزار بٹ نامی ایک جعلی پیر کے ہاتھوں کئی معصوم طالبات کی عصمت لوٹنے کا انکشاف ہوا۔ واقعے کی تفصیل سے ظاہر ہوا کہ مذکورہ شخص بالکل ان پڑھ ہے اور بچپن سے ہی بدمعاشی کے کیسوں میں ملوث رہاہے۔ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے خود کو بریلوی فرقے سے جوڑ کر لڑکیوں کی درس گاہ کھولی۔ درس گاہ کی آڑ میں لڑکیوں کی عصمت لوٹی جارہی تھی۔ ان میں سے چند لڑکیوں نے پولیس کے سامنے اصل حقیقت بیان کی جس کے بعد مذکورہ نقلی پیر کو گرفتار کیا گیا اور وہ سنٹرل جیل میں بند ہے ۔ اس کے علاوہ بٹہ مالو اور قمرواری کے اماموں کے بارے میں بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کے ساتھ معاشقے آگے بڑھانے کے لئے انہوں نے دوجوانوں کو ہلاک کیا اور گرفتار ہوئے۔ اس وجہ سے وادی میں اماموں اور مولویوں کے خلاف سخت تشویش پائی گئی۔ کئی جگہوں پر مختلف فرقوں کے درمیان تصادمات بھی ہوئے جس دوران گاندربل میں جماعت اسلامی سے وابستہ ایک کارکن مارا گیا۔ کئی جگہوں پر باہمی تصادموں کے دوران کئی لوگ مارے گئے ۔
سال 2013کی سب سے اہم خبرحریت (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی کی خانہ نظر بندی رہی ۔ گیلانی کو قریب قریب پورا سال اپنے گھر میں نظر بند رکھا گیا اور کسی بھی موقعہ پر باہر آنے نہیں دیا گیا ۔ ایک بار انہوں نے ڈرامائی انداز میں پولیس حصار توڑ کر پارٹی اجلاس میں شرکت کی۔ تاہم حکومت نے ان کو جلسوں جلوسوں کی اجازت نہیں دی۔ یہاں تک کہ جمعہ کے دن نماز پڑھنے کے لئے بھی باہر نہیں چھوڑا گیا ۔ سال کے آخر پر اچانک ان کے گھر پر موجود پولیس پہرہ ہٹایا گیااور ان کی نظر بندی ختم ہونے کا اعلان کیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی گیلانی نے مختلف جگہوں پر جلسے کرنے کا اعلان کیا اور باضابطہ کلینڈر جاری کیا گیا۔ پہلے مرحلے پر سوپور اور کولگام میں عوامی جلسے کئے گئے۔ دونوں جگہوں پر لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہو اسمندر دیکھا گیا ۔اس کے بعد ترال میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہونے کا اندازہ تھا۔ لیکن حکومت اس چیز کا تاب نہ لاسکی اور گیلانی کو پھر نظر بند کیا گیا ۔ اس سے چند دن پہلے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ترال میں جلسہ کیا تھا جہاں لوگ بہت ہی کم تعداد میں آئے تھے اور جلسہ ناکام ہوا تھا۔ اسکو بھی ترال میں گیلانی کے جلسے پر پابندی کی وجہ بتائی جارہی ہے ۔اس طرح سے مبینہ طور گیلانی کو 41ویں بارجمعہ نماز اداکرنے سے روکا گیا ۔سال رفتہ کے دوران کورپشن اور دھاندلی کے کئی واقعات سامنے آئے۔ ادویات گوٹالے نے پوری ریاست میں تہلکہ مچادیا۔البتہ سب سے زیادہ شہرت پیشہ ورانہ تعلیم بورڈ کے سربراہ مشتاق پیر کا سکینڈل سب سے زیادہ رسوائی کا باعث بنا ۔ اس بارے میں معلوم ہوا کہ ریاستی ویجی لنس کمیشن کو شکایت ملی تھی کہ ادارے نے کئی ایسے طالب علموں کو ڈاکٹری کورس کے لئے سلیکٹ کیا ہے جو کسی طور اس کے اہل نہیں ہیں ۔ ان امیدواروں کو پیسوں کے عوض پہلے ہی امتحانی پرچے مہیا کئے گئے تھے ۔ اس کام کے لئے باضابطہ ایک دلال کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ کیس کی تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دہلی میں قائم اردو بورڈ کے سابق سربراہ کی دورشتہ دار لڑکیوں کو بھی رشوت کے عوض ڈاکٹری ٹریننگ کے لئے سیلکٹ کیا گیاہے۔ اس طرح سے یہ ایک بڑا سکینڈل بتایا جاتا ہے جس کی دیانتداری سے تفتیش کی جائے تو مزید بڑے لوگوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوسکتا ہے ۔ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ نے رشوت کے عوض سلیکٹ ہونے والے امیدواروں کا داخلہ منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تاہم مزید تفصیل ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی ہے ۔
سال کے اختتام پر ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے جن میں کانگریس کو سخت شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ خاص کر دہلی میں کانگریس کو عبرتناک شکست ہوئی اور یہاں ایک نئی پارٹی عام آدمی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا۔ اس وجہ سے ریاست کے حکمران طبقے میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ یہاں بھی عام آدمی طرز کی جماعت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ کورپشن کا ایشو لے کر کسی نئی جماعت کو سامنے لایا جائے ۔ اس وجہ سے سیاسی حلقوں میں سخت ہلچل پائی جاتی ہے ۔ اب نئے سال کا آغاز ہوا ہے ۔ سال کے شروع میں سخت برف باری ہوئی اور تمام سرگرمیاں ٹھپ پڑ گئی ہیں ۔ اس وجہ سے سیاسی سرگرمیاں بھی رکی پڑی ہیں ۔